Chale Thay Hum Bhi Dastan Ley Kar

"چلے تھے ہم بھی داستاں لے کر۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!"

صفیہ ہارون ہفتہ اپریل

Chale Thay Hum Bhi Dastan Ley Kar
میک اپ سے عاری اس کا چہرہ سنہری آفتاب کی طرح دمک رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک نمایاں تھی۔ وہ بار بار اپنے چہرے پر آئی لٹوں کو ہاتھ سے کانوں کے پیچھے کرتی اور پھر کام میں مصروف ہو جاتی۔ اس کا سٹاف اردگرد خوش گپیوں میں مصروف تھا، کچھ اس کے بارے میں بھی بات کر رہے تھے لیکن وہ سب سے بےنیاز اپنے کام میں مگن تھی۔ اگر کوئی بلاتا بھی تو بےدھیانی میں جواب دیتی اور پھر سے کام میں مگن ہو جاتی۔

سب اس کے اس رویے کی شکایت کرتے کہ تمہارے لیے ہمیشہ کام ہی اہم کیوں ہوتا ہے؟ وہ جواب دیتی کہ "میرے لیے میری ڈیوٹی سب سے پہلے ہے۔ میں اس میں کوئی بددیانتی نہیں کر سکتی۔" اس کی بڑی بڑی آنکھیں کسی ساحرہ کی آنکھیں معلوم ہوتیں۔ کوئی بھی اس کی آنکھوں میں چند لمحے دیکھتا تو اپنی ہستی کو فنا ہوتے محسوس کرتا۔

(جاری ہے)

وہ بچپن سے ہی ایسی ہی تھی۔

اپنی ذہانت و خوب صورتی سے سب کو قائل کر لینے والی۔ اسے بہت اچھے سے یاد تھا کہ بچپن میں بارہا اس کی سماعتوں سے یہ الفاظ ٹکراۓ تھے۔
"You are a born officer."
"تم بہت آگے تک جاؤ گی۔"
"تمہارا کوئی جواب نہیں، بہت خوب صورت ہو تم۔"
وہ بچپن سے ہی ان سب باتوں کی عادی ہو گئی تھی۔ لیکن ان سب باتوں نے اس کے اندر احساسِ برتری کا زعم پیدا نہیں کیا تھا۔

وہ جب بھی ایسی باتیں سنتی، خداۓ بزرگ و برتر کا شکر ادا کرتی۔ کامیابیاں سمیٹتے اور ترقی کی منازل طے کرتے وہ اب شعور کی منزل پر پہنچ چکی تھی۔ ایک مرتبہ جو بھی اس سے ملتا، اس کے حسن و قابلیت کا قائل ہو جاتا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ایسا جادو ضرور تھا جو سامنے والے کو چاروں شانے چت کر دیتا۔ اس کی ساحر آنکھیں جس طرف بھی اٹھتیں، سب کو اپنا دیوانہ بنا لیتیں اور مستزاد یہ کہ اس کا بات کرنے کا انداز، وہ سب کو اپنی باتوں سے قائل کر لیتی۔

اس کے آس پاس بہت سے محبت کرنے والے لوگ موجود تھے۔ وہ جس طرف سے بھی گزرتی، لوگ اس کے حسن و قابلیت کی تعریف کرتے۔ حسن ہو اور اس کا چرچا نا ہو، ایسا تو ہو نہیں سکتا۔ کچھ لوگوں نے اس سے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش بھی کی لیکن اسے صرف اپنے کیریئر اور اپنی عزت کی فکر تھی۔ وہ خواب دیکھنے والی لڑکی نہیں تھی۔ جو راتیں باقی لوگ خواب دیکھ کر گزارتے ہیں، وہ اس نے اپنا کیریئر بنانے میں جاگ کر گزار دی تھیں۔

اسے رنگ برنگے مناظر متوجہ نہیں کرتے تھے اور نا ہی اسے تقریبات میں ہلہ گلہ پسند تھا۔ وہ اپنی ہی دنیا میں مگن رہنے والی لڑکی تھی۔ جو لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ تھے، جو لوگ درپردہ اس کے مخالف تھے، وہ سب جان کر بھی انجان بنی رہتی۔ وہ اکثر کہتی کہ جن کو ہم جواب نہیں دے پاتے، ان کو وقت جواب دیتا ہے۔ اس نے محنت اتنی خاموشی سے کی تھی کہ اس کی کامیابی نے شور مچا دیا تھا۔

اس کی بات سچ ثابت ہو گئی تھی۔ وقت نے بہترین جواب دے دیا تھا۔ اسے شاندار کیریئر مل گیا تھا۔ وہ کیریئر جس کے لیے اس نے اپنے کئی قیمتی رشتے کھوۓ تھے۔ حالات کے تند و تیز تھپیڑوں کا مقابلہ کیا تھا۔ بالآخر وہ کیریئر آج اس کی پہچان بن گیا تھا۔ اسے بہت تلخ حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس نے اپنا دن کا چین اور راتوں کی نیند گنوائی تھی۔ ہر طرح کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وہ جب بھی کسی ایک سفر سے لوٹتی تو دوبارہ کسی سفر کی اس میں سکت نا رہتی لیکن اسے دوسروں کے لیے مثال بننا تھا۔ وہ پختہ ارادہ کر چکی تھی کہ جن حالات کا اس نے سامنا کیا ہے، وہ کسی اور کو ان حالات کا سامنا نہیں کرنے دے گی۔ وہ دوسروں کے لیے ڈھال بنے گی۔وہ بغیر کسی صلے یا تمنا کے سب کے کام آنے والی تھی لیکن ایک خامی تھی اس میں، وہ بہت حساس تھی اور حساس بن کر اس معاشرے میں جیا نہیں جا سکتا۔

اپنی مسلسل محنت اور مستقل مزاجی سے اس نے بےشمار کامیابیاں اپنے نام کر لی تھیں، اب وہ واقعی دوسروں کے لیے مثال بن گئی تھی۔ لوگ اس کی مثالیں دیتے اور اس جیسا بننے کی خواہش کرتے۔ حریف جب اس کے خلاف کچھ نا کر پاتے تو ان کو بھی یہ ماننا پڑتا کہ واقعی اس میں کچھ تو بات ہے جو اسے سب سے منفرد بناتی ہے۔ وہ بہت ذہین، بہت قابل اور بہت بہترین ہو کر بھی اپنی ذاتی زندگی میں سب سے اہم اور خاص رشتے کو نبھانے میں ہار گئی تھی۔

اسے علم نہیں تھا کہ زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آتا ہے، جب انسان کی ساری خوب صورتی، ساری قابلیت اور ساری اچھائی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ وہ سب جیت کر بھی ہار گئی تھی۔ کوئی آپ کے خلوص کا، آپ کی چاہت کا، آپ کی دی ہوئی اہمیت کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور آپ کے خواب، آپ کے مان توڑ کر چلا جاتا ہے۔ آپ بےشمار چاہتیں لٹانے کے بعد بھی مجرم ٹھہرا دیے جاتے ہو۔

خواب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو آنکھیں بین کرتی ہیں۔ اس کی آنکھیں بھی اب بین کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ اس کے وجود پر ہمہ وقت اداسی و سنجیدگی کا خول چڑھا رہتا۔ وہ جو بچپن سے سب کی لاڈلی تھی، حالات کا مقابلہ کرنے کی سکت اب اس میں ختم ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر بھی اپنا سب سے اہم رشتہ بچا نہیں پائی تھی۔ سب کے دل جیتنے والی لڑکی رشتے نبھانے میں ہار گئی تھی۔

اسے محبتوں میں خسارہ ملا تھا اور ایسا خسارہ جس کا مداوا ساری زندگی نہیں ہو سکتا تھا۔ کسی نے اس کے خلوص کی، اس کی محبت کی قدر نہیں کی تھی۔ وہ اب بھی بلا کی ذہین تھی، سب کی تعریف و توصیف سمیٹنے والی مگر اب اس کے اندر احساس مردہ ہو گیا تھا۔ محبت کا احساس، چاہے جانے کا احساس۔ وہ اپنی ہر خواہش کو روندتی ہوئی، اپنے دل کے ارمانوں کا قتلِ عام کرتی ہوئی، اپنی سسکیوں کو سب سے چھپاتی ہوئی ایک کامیاب انسان تھی۔

کبھی بھی حالات کی تلخی اس کے لہجے میں نہیں آئی تھی۔ وہ جانتی تھی سب کو کیسے اپنا بنانا ہے۔۔۔۔۔ اس ہنر میں وہ یکتا و بےمثال تھی۔ زندگی کے تلخ تجربات نے اسے وقت سے پہلے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ وہ جان گئی تھی کہ کچھ لوگوں کے حصے میں چاہتیں بانٹنے کا کام ہی آتا ہے، وصول کرنے کا نہیں۔ وہ اب بھی چاہتیں بانٹ رہی تھی کسی بھی قسم کے صلے کی تمنا کیے بغیر۔

اس کے اندر گر کر دوبارہ اُٹھنے کا حوصلہ موجود تھا۔ حالات کے جبر نے اسے سنجیدہ ضرور بنا دیا تھا لیکن وہ جان گئی تھی کہ جو اپنے ماں باپ کے زیادہ لاڈلے ہوتے ہیں، زندگی انہیں دوسروں سے زیادہ آزماتی ہے۔ اب جب اسے محبتوں کے بغیر رہنے کی عادت ہو گئی تھی، اس کی محبت لوٹ آئی تھی لیکن اس نے محبت کا ہاتھ تھامنے سے انکار کر دیا تھا اور اپنی زندگی کی سنجیدگی کی طرف واپس لوٹ گئی تھی۔

اس کے اندر محبتوں کے ساتھ رہنے کی خواہش ختم ہو گئی تھی۔ وہ اب دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بننا چاہتی تھی۔ اس نے اب اپنا راستہ خود چن لیا تھا اور یہ راستہ تھا خلقِ خدا کے لیے آسانیاں بانٹنے کا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی اس زندگی سے بہت مطمئن تھی چانچہ اس نے اپنے دل کی مردہ حسرتوں کو جگانے کی بجاۓ دوسروں کے لیے خوشی کی وجہ بننے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2020-04-04

Your Thoughts and Comments