Choti Cheezen

چھوٹی چیزیں۔۔

تثمیر بخت بدھ نومبر

Choti Cheezen

''انسان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کو سب بڑا چاہئے۔بڑا نام،لمبی زندگی،بڑا گھر،بڑی گاڑی،بہت سارا پیسہ،بڑی آخرت اور اس کو یاد رکھے جانے کے لئے بتائے جانے والی ایک بڑی کہانی۔۔۔'' تھوڑے توقف کے بعد بابا جی پھر بولے،''انسان کی فطرت ہے کہ اسے جو چیز ہر دم میسر ہو وہ اس کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ایسی چیزوں کو وہ یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔

اس کے نزدیک یہ چھوٹی چیزیں بے معنی ہیں اور ان پر غور کرنا بھی۔'' چھوٹے نے ناسمجھی سے بابا جی کو دیکھا اور بولا، ''لیکن میرا سوال تو یہ تھا کہ خدا کیونکر نہیں ملتا؟ آپ کی باتوں کا اس سب سے کیا تعلق؟'' بابا جی مسکرائے اور بولے،''بڑی چیزوں کے لئے ہم کوشش کرتے ہیں اور انہیں پا بھی لیتے ہیں۔خدا ہر دم ہمارے ساتھ موجود ہے،ہماری چھوٹی چھوٹی لغزشوں میں سنبھالے ہوئے،چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو سنوارے ہوئے۔

(جاری ہے)

خدا تو ہر چھوٹی سے چھوٹی شے میں موجود ہے اور ہم کسی بڑے معجزے اور نشانی کا تصور کئے ہوئے ہیں۔کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ وہ ہمیں نہیں ملتا۔'' چھوٹے کا سر جھکا ہوا تھا،وہ تشکر اور ندامت بھری آواز میں بولا،''بابا جی خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے آپ سے ملوایا۔آپ کی بدولت ہی مجھے پریشانی میں بہترین نصیحت اور حوصلہ ملتا ہے''۔ بابا جی بڑے تھے،عمر میں،تجربے میں اور فہم و فراست مگر چھوٹے کو ہمیشہ غور سے سنتے،سمجھتے اور اپنے تئیں بہترین مشورہ دیتے۔بابا جی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھتے تھے۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-27

Your Thoughts and Comments