Doctor Nishi Khanam Se Ik Rooh Parwar Mulaqat

ڈاکٹر نشی خانم سے اک روح پرور ملاقات

سلیم ساقی جمعرات مئی

Doctor Nishi Khanam Se Ik Rooh Parwar Mulaqat

ڈاکٹر نشی شعبہ دل میں اپنے آفس میں چیئر پر بیٹھی سر اک میڈیکل رپورٹ پر جھکائے کسی کی پرواہ کیئے بغیر،آیا کہ کون آیا کون گیا کون دروازے پر کب سے انکی چہرے پر لٹکتی زلف کو لہراتے ہوئے انھیں دیکھ رہا ہے سب سے بے نیاز اپنے فرائض سر انجام دے رہی تھی۔
پل بھر کی دیری کے انکی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کی غرض سے میں نے گلا کھنکارتے ہوئے دروازے پر ہلکی سے دستک دی۔

وہی سر جھکائے عینک کے اندر سے ہی آنکھوں کی پتلیوں کو اوپری جانب گھماتے ہوئے میری طرف دیکھ کر ایک ہلکی سے مسکراہٹ داغ کر مجھ سے گویا ہوئیں۔
''آئیے جناب آپ کب تشریف لائے''
ابھی تھوڑی دیر پہلے جب آپ خواب و خیال کی دنیا میں کھوئی اس رپورٹ پر غور فرما رہی تھیں
او اچھا جی تو دروازے پر کیوں کھڑے تھے آپ؟اندر آ جاتے
مجھے آپکا یوں سر جھکائے انگلی کو بالوں کی اس لٹ میں گھماتے دیکھ بہت اچھا لگا بس وہیں کھڑے اس نظارے میں یوں کھویا کہ اندر آنا ہی بھول گیا
چلیں اب بس کریں تعریفوں کے پل باندھنا وہ رپورٹ کو کلوز کرتے ہوئے گویا ہوئیں
''او مائی گاڈ''
''اٹس فائیو او کلاک''
میرا ڈیوٹی ٹائم تو کب کا اوور ہو چکا آج کچھ سنجیدہ کیسز کی جان پڑتال میں ٹائم دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا
وہ بنا مجھے دیکھے کسی طوطے کی طرح فر فر بولے جا رہی تھی اور میں بنا پلک جھپکائے اسکی ناز و ادا میں کھویا اسے تکے جا رہا تھا
کیا گھوری ڈالے جا رہے ہو چلو کہیں کسی ریسٹورینٹ میں چل کے کھانا کھاتے ہیں بھوک کے مارے میرا برا حال ہو رہا ہے
اسکی بات نے مجھے خواب و خیالات کی دنیا سے جھٹ سے نکال کر اسکے سامنے لا کھڑا کر دیا
''ہاں ہاں چلو چلتے ہیں میں بوکھلاتے ہوئے گویا ہوا''
میرے چہرے پر میری بوکھلاہٹ شاید صاف عیاں تھی جسے دیکھ کر وہ بے اختیار ہنس پڑی
''میں بھی اپنی بچگانی حرکت پر مسکرا دیا''
اپنے ہاتھ سے دروازے کی اور اشارہ کرتے ہوئے''چلیئے ڈاکٹر صاحبہ''کہہ کر انھیں چلنے کو کہا
وہ ہنسی من ہی من میں دباتے دروازے کی طرف بڑھی
اگلے ہی لمحہ ہماری ایک ریسٹورینٹ کے سامنے تھی
گاڑی سے اتر کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ریسٹورینٹ میں داخل ہوتے ہی چاروں اور ہلکی ہلکی چہمگوئیاں اور ہال دھیمی آواز میں ''راحت فتح علی خان'' کی مشہور قوالی ''ضروری تھا'' ایک عجب ہی روح پرور منظر پیش کر رہی تھی
ٹیبل کی اور بڑھتے آمنے سامنے کی نشستیں سنبھالتے ہوئے باتوں کا اک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چھیڑتے ہوئے ہم دونوں جلوہ افروز ہو گئے۔

(جاری ہے)

پل بھر میں ویٹر کی آواز سے باتوں میں خلل آتے ہی ہم ویٹر کی جانب متوجہ ہوئے
''یس سر کیا کھانا پسند کریں گے''
ویٹر کو کھانے کا آرڈر دے کر ہم دونوں اک دوجے کی جانب پلٹے
اچھا جی تو کیسی چل رہی جاب ڈاکٹر صاحبہ
بہت اچھی چل رہی بس لوگوں کی غریبیت اور ادویات صحت کی امیریت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے
''ہممممم میں من ہی من میں افسردگی کی علامات چہرے پر ظاہر کرتے اسکی بات کی طرف متوجہ ہوا''
پتا آج ایک بوڑھی مریضہ میرے پاس اپنے بیٹے کا چیک اپ کروانے آئی وہ گویا ہوئیں
''میم صاحب''میرے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے آپ سے پہلے اپنے شہر کے ایک مشہور ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا ٹیسٹ کی رپورٹ دیکھ کر انکا کہنا تھا جلد از جلد آپکے بیٹے کو ''ہارٹ سرجری'' کی ضرورت ہے وگرنہ یہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا ''میم صاحب'' مجھ غریب کی تو یہ حالت ٹھہری کہ ایک وقت کا کھانا کھا لوں تو دوسرے وقت کی فکر لگ جاتی ہے کہ وہ کہاں سے آئے گا۔


جانتے ہو ''سلیم'' وہ اپنی غریبی کی رواداد فر فر سنائے جا رہی تھی اور میں چپ چاپ اسکا منہ دیکھے خون کے آنسو گلے کی راہ دل پر گرائے اسکی باتیں سن رہی تھی
کانپتے ہاتھوں سے قلم ہاتھ میں تھامے کاغذ پر اسکے بیٹے کیلئے دوائی تجویز کرتے ہوئے پرچہ اسے تھماتے ہی پل بھر میں وہ ''بوڑھی مائی'' دروازے کے رستے باہر کو نکل گئی اور میں یہی سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ یہ بوڑھی مائی کیسے اپنے اس موت سے لڑتے بچے کی جان بچا پائے گی؟
وہ اپنے دن کی رواداد سنا رہی تھی اور میں اسے چپ چاپ بیٹھے سن رہا تھا
باتیں کرتے کرتے نجانے کب آدھ گھنٹا بیت گیا اور ویٹر ہمارا آرڈر لے کر ہمارے ٹیبل کے پاس کھڑا تھا
باتوں کی پوٹلی کو گرہ لگاتے کھانا کی گرہ کھولتے ہی ہم دونوں کھانے میں مشغول ہو گئے
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو ڈاکٹر صاحب کے گھر کی اور موڑتے ہوئے میں گویا ہوا
''کیسا رہے گا اگر ہم دونوں مل کر اس بچے کا علاج کروائیں''؟؟
پل بھر کو میری اور گھوری ڈالتے چہرے پر خوشی و پر مسرت کے اثرات ظاہر کرتے اچانک سے میرے گلے لگ کر ایک کس میرے چہرے پر داغ دی۔


''میرے دل کی بات کہہ ڈالی سلیم تم نے''
چلیں پھر اس بات کو عنقریب حقیقت میں بدلتے ہیں''
''کیوں نہیں''
اتنے میں ڈاکٹر نشی کا گھر آ چکا تھا انھیں انکے گھر کے سامنے ڈراپ کر کے میں نے اپنے گھر کی راہ لی
یوں ایک روح پرور ملاقات اپنے اختتام کو پہنچی۔۔۔۔۔

تاریخ اشاعت: 2020-05-28

Your Thoughts and Comments