Eid Ki Khushiyan

عید کی خوشیاں

ریحانہ اعجاز جمعہ مئی

Eid Ki Khushiyan
اماں میں بھی روزہ رکھوں گا، دس سالہ کاشف بڑے اشتیاق سے ماں کا گھٹنا پکڑ کر بولا،رکھ لینا پہلے کون سا ہم روزے نہیں رکھتے، سال کے بارہ مہینوں میں ہم زیادہ تر روزے سے ہی ہوتے ہیں، اماں نے بیزاری سے جواب دیا تو اُسوہ نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور پیار سے کاشف کو اپنے پاس بٹھاتے ہو بولی،انشاء اللہ کاشی ہم پورے روزے رکھیں گے، تم اگر برداشت کر سکے تو تم بھی پورے رکھ لینا ورنہ اگلے سال سے رکھنا،آپا میں اب بڑا ہو گیا ہوں، کر لوں گا برداشت، میں بھی پورے روزے رکھوں گا۔

ہاں میرے چاند تم بڑے ہو گئے ہو، اُسوہ نے پیار سے بھائی کا گال چُومتے ہوئے کہا تو کاشف شرما گیا۔ کل پہلا روزہ تھا اور کاشف بہت پرجوش ہورہاتھا،جبکہ اماں کی پریشانی اپنی جگہ ٹھیک تھی،ابا کو اس دنیا سے گئے دو سال ہو گئے تھے، ان دو سالوں میں ان تینوں نفوس نے دنیا کے بے شُمار اتار چڑھاؤ دیکھ لیئے تھے،اماں کبھی کبھی حوصلہ بھی ہار جاتی تھیں لیکن اُسوہ نے ہمیشہ ان کی ہمت بندھائی، جب ابا کا انتقال ہوا تب اُسوہ نے گورنمنٹ کالج سے انٹر کا امتحان دیا تھا، ورنہ شاید وہ یہ بھی نا کر پاتی،دو سال کے دوران اُسوہ نے محلے کی ایک آنٹی سے سلائی سیکھی دو ماہ میں وہ اتنی پرفیکٹ سلائی کرنے لگی کہ گلی محلے کے کپڑے سلائی کر کے گھرمیں دال روٹی کا انتظام بخوبی چل نکلا،مکان بیشک چھوٹا ڈربہ نما تھا لیکن اپنا تھا ورنہ مہنگائی کے اس زمانے میں در در کی ٹھوکریں مقدر ہو جاتیں جبکہ خاندان میں ان کا کوئی والی وارث بھی نہ تھا، اللہ ہی سب سے بڑا سہارا تھا،ابا ایک فیکٹری میں ملازم تھے، ان کے انتقال کے بعد جو واجبات ادا کیئے گئے وہ چھ سات ماہ میں ٹھکانے لگ چکے تھے، اب اُسوہ دن رات سلائی کرتی، کاشف گورنمنٹ اسکول میں پانچویں کلاس کا طالبِ علم تھا، اماں اور اُسوہ دونوں چاہتی تھیں ان کا کاشف پڑھ لکھ جائے،بعض دفعہ اماں اور اُسوہ حقیقتاً اپنے پیٹ پر پتھر باندھنے کا سا صبر کرتے ہوئے کاشف کی چیزوں کا انتظام کرتیں، کبھی ایک ٹائم کھانا کھا کے گذارہ کرتیں کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتا تو چپ چاپ روزے کے جیسی حالت میں گذار دیتیں،اب رمضان کی امد سے اماں نے سکون کا سانس لیا تھا کہ اس مہینے میں ایک تو سلائی زیادہ ملے گی دوسرے کھجانے پینے کا خرچہ کم ہو گا تو چار پیسے بچ جائیں گے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اماں اور اُسوہ کا رویہ محلے والوں کے ساتھ بہت اچھا تھا، یہی وجہ تھی کہ سب محلے والے بھی ان کی عزت کرتے تھے،شام میں افطاری کے وقت کسی نا کسی گھر سے ایک پلیٹ افطاری آ ہی جاتی، ساتھ اماں گنتی کے چند پکوڑے بنا لیتی جو لیموں، پانی اور مرچوں کی چٹنی کے ساتھ بہت لطف دیتے، یوں ہی رمضان بیت رہا تھا، اُسوہ نے بہت سے کپڑے عید کے سلائی کیئے تھے جن کے پیسے بھی اچھے خاصے ملے تھے، پچیسویں رمضان اماں، اُسوہ اور کاشف بازار گئے عید کی شاپنگ کے لیئے،سستے اور مناسب سے دو جوڑے کاشف کے واسطے لے لیئے گئے ایک شلوار قمیض ایک پینٹ شرٹ، جنہیں پا کر کاشف بہت خوش تھا کہ بہت مدت بعد اسے نئے ریڈی میڈ کپڑے ملے تھے، اسوہ نے اپنے اور اماں کے لیئے بھی ایک ایک سوٹ لیا جنہیں وہ چاند رات تک سلائی کر لیتی، کاشف کے لیئے ایک جوڑا جوتا لے کر وہ لوگ گھر واپس آگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج ستائیسویں کی رات تھی، اماں اور اُسوہ تمام کاموں سے فراغت پا کر اللہ کی حمد و ثناء میں مصروف تھیں جب کاشف نے اُسوہ سے چپکے سے پوچھا،آپا، اگر میں پہلے اور دوسرے دن بھی ایک ہی سوٹ پہن لوں تو کیا ہوگا؟اُسوہ نے قرآن پاک بند کرتے ہوئے بغور کاشف کو دیکھا،صاف ستھرا کھلتا ہوا رنگ، کھڑے کھڑے نقوش، کمسنی کی معصومیت لیئے کاشف پر اسوہ کو بیساختہ پیار آگیا،اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے بولی،میرا راجہ بھیا، جب دو سوٹ ہیں تو دونوں دن الگ الگ پہننا، ایک ہی کیوں پہنو گے؟۔

آپا!!!!! کاشف کچھ خفگی سے اپنے گال پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا،کتنی بار بتایا میں بڑا ہوگیا ہوں ایسے نا کیا کریں،اسوہ کے لبوں پر میٹھی سی مسکان پھیل گئی، کاشف کو گدگداتے ہوئے بولی،اچھا، نہیں کرتی، مجھے پتہ ہے میرا شہزادہ اب بڑا ہو گیا ہے،اچھا آپا بتاؤ نا، ایک ہی سوٹ نہیں پہن سکتا کیا؟۔پہن سکتے ہو کاشی کیوں نہیں پہن سکتے، لیکن جب دو ہیں تو مسلہ کیا ہے؟۔

اُسوہ نے اچھنبے سے پوچھا،کاشف نے ایک نظر تلاوت کرتی اماں کو دیکھا اور کچھ کہتے کہتے رک گیا،کچھ نہیں آپا بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا،اچھا، چلو جاؤ اب اٹھو اور جا کر سوجاؤ، سحری ٹائم اٹھا دوں گی ابھی ہیں ایک دو گھنٹے،اچھا کہتا ہوا کاشف اپنی چارپائی پر لیٹ گیا اور اسوہ نے سلائی مشین سنبھالی کہ اسے اپنے اور اماں کے کپڑے اج ہر صورت پورے کرنے تھے پھر تین چار اور سلائی کے سوٹ بھی تھے جو سینے تھے جبکہ عید میں بہت کم دن رہ گئے تھے، ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تیسواں روزہ تھا، مطلب چاند رات پکی تھی، شام میں افطاری کے بعداماں اور اسوہ ضروری کام نبٹا رہی تھیں کہ کاشف اپنے ہم عمر لڑکے کے ساتھ گھر میں داخل ہوا، اسلام علیکم اماں، فیصل یہ میری اماں ہیں اور یہ میری آپا،اس دبلے پتلے شرمائے سے لڑکے کا تعارف کاشف نے اماں اور اپا سے کروایا، اماں، فیصل کے ابا چھ مہینے پہلے ایک ایکسیڈینٹ میں مر گئے۔

تین ماہ پہلے اس کے ماموں اسے اور اس کی اماں کو اپنے گھر لے آئے ہیں، یہ پڑھتا تھا لیکن اس کے ماموں نے اسے اسکول سے ہٹا کر موٹر میکینک کا کام کرنے کے لیئے ایک موٹر ورکشاپ میں ڈال دیا ہے، یہ دوسرے شہر سے آیاہے لیکن میری اس سے بہت اچھی دوستی ہوگئی ہے، اس کے ماموں اس کی کمائی کے سارے پیسے لے لیتے ہیں، اور اس کی اماں ان کے گھر کے سارے کام کرتی ہیں، میں نے اس سے پوچھا تھا کہ عید کے کپڑے بنوائے تواس نے بتایا،اماں کہتی ہیں ابھی ابا کو مرے صرف چھ مہینے ہوئے ہیں، ماموں غصہ کریں گے اگر ان سے عید کے کپڑوں کا کہا تو،اماں نے تاسف سے فیصل کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا،بہت افسوس کی بات ہے، یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنا چاہیئے لیکن اپنے ہی ہوتے ہیں جو اکثر اپنوں کے سر سے چادر بھی چھین لیتے ہیں،اسوہ جو خاموشی سے سب سن رہی تھی اسے کاشف کا سوال یاد آگیا،آپا، اگر میں پہلے اور دوسرے دن بھی ایک ہی سوٹ پہن لوں تو کیا ہوگا؟ اسوہ کو ٹوٹ کر اپنے راجہ بھیا پر پیار آیا، آنکھوں میں نمی لیئے اس نے کاشف کو اپنے ساتھ اندر انے کا اشارہ کیا،اندر کمرے میں جا کر اسوہ بولی،ہاں جی تو آپ اس لیئے پوچھ رہے تھے کہ اگر ایک ہی سوٹ۔

۔۔ اسوہ باقی فقرہ ادھورا چھوڑ کر شرارت سے مسکرائی تو کاشف نے آپا کے دونوں ہاتھ پکڑ لیئے،جی پیاری آپا، کہا اس لیئے نہیں کہ اپ کہیں گی میں نے اتنی محنت سے سلائی کر کر کے پیسے جمع کر کے کاشف کو کپڑے دلوائے اور۔۔۔۔ کاشف بھی ادھورا جملہ چھوڑ کر کاموش ہوگیا تو اسوہ نے کاشف کو گلے لگاتے ہوئے کہا،کاشف اج تم نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا، مجھے یقین ہے میرا بھائی اتنی ترقی کرے گا کہ دنیا کی سب نعمتیں پالے گا، جو دوسروں کے لیئے اچھے اور نیک جذبے رکھتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں، اماں کو بلا کر اسوہ نے ساری بات سامنے رکھی تو اماں نے بھی کاشی کو پیار کر ڈالا،تم کون سا سوٹ دو گے فیصل کو؟۔

اسوہ نے پوچھا تو کاشف نے مدبرانہ انداز مین جواب دیا،اپا میں نے پڑھا ہے کہ جو چیز آپ کو اپنے لیئے پسند ہو وہی دوست کے لیئے بھی پسند کرو، مجھے پینٹ شرٹ بہت اچھی لگی تھی اپنے لیئے اس لیئے میں وہ فیصل کو دے دوں گا،اسوہ کو اپنے ننھے بھائی پر بہت فخر ہورہا تھا، اس نے اسی وقت وہ پینٹ شرٹ نکال کے دی اور کہا یہ لو یہ فیصل کو دے دو، اور میں اپنے بھائی کو ابھی مارکیٹ لے کر جاؤں گی اور ایسی ہی پینٹ شرٹ لے کر دوں گی کہ اللہ دلوں کے حال بخوبی جانتا ہے تب ہی اس نے اتنے پیسوں کا انتظام کردیا تھا،میں نے جو اخری چار سوٹ سیئے ہیں ان کی اجرت کے ساتھ مجھے عیدی بھی ملی ہے جو میں اپنے بھائی کو انعام میں دیتی ہوں، اماں نے اپنے دونوں بچوں کی بلائیں لے ڈالیں، یوں لگا صبح کا انتطار کیئے بناعید دبے پاؤں سرِ شام ہی ان کے آنگن میں روشنیاں بکھیرنے چلی آئی ہو!
تاریخ اشاعت: 2020-05-22

Your Thoughts and Comments