Inteqam Ban Gaya Mohabbat

انتقام بن گیا محبت

شمائلہ ملک جمعرات مئی

Inteqam Ban Gaya Mohabbat
ہاتھوں سے بالوں کا پف بناتے ہوئے پیچھے کھڑی عاشی بولی ''جتنا مرضی بن سنور لو بھائی پر مجال ہے کہ کبھی پیارے لگو۔'' ''آ ج دعا کر تیرے بھائی کے ہاتھ کوئی تتلی لگ جائے''آنکھوں میں شرارت مسکراتے ہوئے ''بلو'' بولا۔ ''معاف کرنا بھائی تجھے محلے کی مکھیاں منہ نہیں لگاتیں اور تو چلا تتلیوں کے پیچھے،ذرا شکل دیکھ اپنی'' بلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔

دیکھ عاشی بکواس نہ کر اور تو کیا صبح صبح منحوس شکل لیے آگے آ جاتی ہے۔ بلو غصہ سے بولا جانا مجھے بھی نہیں شوق تجھ مفت کی روٹیاں توڑنے والے سے منہ چڑھاتے ہوئے بولی۔ عاشی جوابا بولی چل ہٹ راستے سے منہ خراب کرتے ہوئے ''بلو'' نکل گیا۔ معمول کی طرح گلی کے نکر پر پان کی دکان پر جا پہنچا۔ گلی کے آوارہ صبح صبح ہی کیوں پان کی دکان پر جمع ہو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

نائمہ نے بلال عرف بلو کو گھورتے ہوئے اپنی دوست سے کہا۔ تو بیچارے کیا کریں؟ نہ کوئی انہیں منہ لگاتا ہے نہ کوئی کام دیتا ہے۔ پان کھانا ہی ان کا مقدر ہے طنزیہ دونوں سہیلیوں نے قہقہ لگایا۔ علی بولا ''احمد ان سالیوں کو مزہ چکھانا ہی پڑے گا'' احمد علی کا بازو پکڑتے ہوئے بیٹھو میں خود ان کا حل تلاش کرتا ہوں۔ تم بس صبر کرو اور دیکھتے جاؤ میں کیا کرتا ہوں۔

بلو جیسا کہ انتہا کا گھٹیا اور بدتمیز لڑکا ہے۔ لمبے بالوں کا پف، گندی ٹی شرٹ،اور جینز پہنے سانولی رنگت،درمیانہ قد اور تندرست لڑکا تھا۔ اوہ بھائی کیا گل کھلانے والے ہو؟ تمھارے پیچھے ہمیں بھی مولوی صاحب سے لیکچرز سننے پڑتے ہیں۔ ''تو نہ سنا کرو'' اُکتاہٹ میں بلو بولا۔ علی ویسے بات تو صحیح ہے اسی لیے تو جماعت نماز میں نہیں جاتے ہم لوگ، کہیں تمھارے ابا جان ہمیں پکڑ کر ہم پر ہی خطبہ نہ دے دیں اور پورے محلے میں رہی سہی عزت کا جنازہ نکل جائے۔

بلو جواب دیے بغیر پلاسٹک کی کرسی سے ٹیک لگائے انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے ایسے اٹھا۔ ''ان کے پیچھے نہ جانا یار بہت تیز لڑکیاں ہیں'' احمد بولا کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ ''ہاں ہاں ٹھیک کہہ رہا ہے'' انہیں صائمہ اور شرمیلی نہ سمجھنا کہ ہماری حرکتوں پر ڈر سہم جائیں گی۔ بلو گھر آ کر بھی سوچتا رہا کہ کیا کرے اچانک خیال آیا، کیوں نہ جھوٹی محبت کے جال میں پھنسایا جائے؟ خود اے سوال کیا۔

اور اپنی بے عزتی کا بدلہ ایسے ہی لیا جا سکتا ہے۔ انہی سوچوں میں چٹھی لکھنے کا خیال آتا ہے۔جلدی سے مولوی صاحب کی میز سے کاپی پنسل اُٹھا کر خط لکھنے کے بعد تعویز کی طرح چھوٹا چھوٹا لپیٹ کر تاکہ پہنچانے میں آ سانی ہو اور کسی کو شک نہ ہو۔ ''چاچو چاچو میں ٹیوشن پر جا رہا ہوں امی آ ئیں تو بتا دینا''۔احمر نے کہا اپنے چاچو ''بلو'' سے کہا۔ رکو! چاچو نے روکنے کی کوشش کی۔

نہیں چاچو ٹیچر آ گئی ہوں گی۔ کالج سے مجھے دیر ہو رہی ہے۔ سنو تو ٹیچر کو یہ تعویز دینا تھا۔ احمر بیگ کی زپ کھولتے ہوئے تعویز بیگ میں رکھتا ہے۔ اور ہاں کسی اور کو نہ دینا نہ ہی کھولنا ورنہ اثر ختم ہو جائے گا۔ ''ڈن ہوگیا چاچو اب اللہ حافظ۔'' اب بھی بدلہ لینے والے چہرے کے تاثرات بناتے ہوئے ساتھ والی کرسی پر ٹانگیں رکھتے ہوئے اللہ ہی حافظ بلو جواباً بولا۔

ٹیوشن ورک چیک کروانے کے بعد اوہ ٹیچر میں تو بھول ہی گیا ماتھا پر ہاتھ مارے ہوئے۔ اچھا کیا بھولے؟ ''آپکا تعویز'' احمر نے جواب دیا۔ ''میرا'' حیرانگی میں نائمہ بولی احمر بیگ سے نکالتے ہوئے یہ لیں۔ یہ کس نے دیا؟چاچو نے جو دادا سے آپ نے منگوایا تھا وہ ہے۔ ہممم مجھے یاد آیا اوکے بیگ بند کر آپ جاؤ۔ حیرانی اور پریشانی میں احمر کے جانے کے بعد دروازہ بند کرتے ہی چھوٹی چھوٹی تہہ میں لگے تعویز کھولا تو باقاعدہ محبت نامہ نکل آیا۔

جو دیکھتے ہی نائمہ کا خون کھول اٹھا۔ ''نہیں چھوڑوں گی اسے یہ سمجھتا کیا ہے خود کو۔گھٹیا کمینہ انسان '' پورا پڑھے بغیر کاغذ غصے سے لپیٹ کر بیگ میں رکھ دیتی ہے۔ اگلی صبح معمول کے مطابق آج بے چینی میں کھڑا نائمہ کا انتظار کرتے ہوئے عجیب سی کیفیت بھی محسوس ہوتی ہے۔دور سے سفید یونیفارم سر پر دوپٹہ اُوڑھے نظر آتے ہی علی ''بلال بھائی وہ بھابی آگئیں قہقہ لگاتے ہوئے بولا''۔

لیکن آج بلال کا رویہ پہلے کی طرح نہیں تھا۔ وہ جھوٹا محبت نامہ لکھے اصل میں وہی جذبات محسوس کرتا ہے۔ نائمہ کے قریب آ تے ہی فورً بلو نے سلام کیا۔ پر نائمہ نے آؤ تاؤ دیکھے بغیر زوردار تھپڑ رسید کیا۔ جیسے چودہ طبق روشن کر دیے ہوں۔ میرے خیال میں آ ج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔اگر دوبارہ ایسی حرکت کا سوچا تو اپنے پاؤں ہر کھڑے نہیں ہو سکو گے کہہ کر چلی گئی۔

دوست ہکے بکے کہ ''بلو'' نے کیسے چپ شاپ تھپڑ کھا لیا۔ پر بلو تو کسی اور رنگ میں رنگنے لگتا ہے۔ خاموشی سی گھر جا کر مولوی صاحب کے وظیفے والی کتاب ڈھونڈ کر وظیفہ اور تعویز کا طریقہ دیکھتا ہے۔ اگلے دن پان کی دکان پر نہیں جاتا پر خالہ کنیز واقعی میں اپنی بیٹی کو پریشان دیکھ کر تعویز لینے آتی ہے۔ آج گھر پر صرف بلال ہے خالہ سب ساتھ محفل میلاد پر گئے ہیں کوئی کام ہے۔

ہاں بیٹا نائمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں مولوی صاحب سے تعویز لینے آ ئی تھی۔ ''بلو'' دل میں اپنے منصوبے کو کامیاب ہوتے دیکھ کر کہتا ہے ''خالہ آپ فکر نہ کریں ابا سے لکھوا کر میں دے جاؤں گا''۔ سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے جیتے رہو کہہ کر چلی گئی۔ ''بلو'' نے کتاب سے تعویز کا طریقہ دیکھ کر لکھا پانی پر دم کیا۔ نائمہ کے کالج جانے کے بعد خالہ کنیز کو دے آ یا کہ ابا نے دیا۔

دوسرے دن بھی دکان پر بلو کی غیر موجودگی سے نائمہ حیران ہوتی ہے اور شکر ادا کرتی ہے کہ جان چھوٹی۔ کالج واپسی پر ماں گلے میں تعویز ڈالتی ہے اور پانی دیتی ہے کہ روزانہ پانچ بار پینا ہے۔کیوں ماں؟ بیٹا مجھے لگتا ہے تم پر کسی نے جادو نہ کروایا ہو جیسے تم تھکی تھکی رہتی ہو۔ ادھر بلو واقعی میں اچھا بننے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ وظیفہ میں پانچ وقت نماز کی باقاعدگی بہت ضروری ہے تو ''بلو'' ساری نمازیں پڑھتا ہے۔

رات کو لمبی نشت میں وظیفہ کرتا ہے۔اب اس کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے یہ بات کہ نائمہ اس کی ضد ہے،انتقام یا واقعی میں پیار بن چکی ہے۔ تیس سے اوپر کے دن تک نہ نائمہ بلو کو کہیں دیکھتی ہے نہ اس کی لڑائی جھگڑے کے واقعات سنتی ہے اور نہ ہی کسی لڑکی سی بدتمیزی کی خبر آ تی ہے۔ نائمہ بھی بلو کے لیے نرمی محسوس کرتی ہے کیونکہ کوئی اچھا ہو یا برا روز نظر آ ئے، پھر اچانک غائب ہو پھر اس کے لیے فکر ہوتی ہے۔

عصر کے وقت نیند سے اُٹھتے ہی بالوں میں کیچر لگاتے ہوئے سادگی اور حسن کا حدیں امتزاج لگتے ہیں۔ اماں ابھی احمر ٹیوشن پر نہیں آیا۔اس کی مماُ کی کال آئی وہ بیمار ہو گیا ہے کچھ دن چھٹی کرے گا۔ اچھا اداسی سے بولی۔ اب کیا کروں کس سے ''بلو'' کا پتہ کروں؟ کہاں گیا یا بیمار ہے۔ آ ج احمر سے پوچھنا تھا وہ بھی نہیں آیا۔ برآمدے میں ٹہلتے ہوئے اب کیا کروں اس کے دوستوں سے پوچھوں؟ نہ برا لگے گا۔

دل میں خیال سوچ رہی تھی کہ اتنے میں زرش کی کال آ گئی، سلام و السلام کہاں گم ہو؟ کب سے کال کر رہی ہوں؟ کہیں نہیں تم سناؤ؟ کیا تمھاری وجہ سے کلاس میں انسلٹ ہوئی۔ ''وہ نہ یار وہ بلو'' کیا بلو؟ کہیں تم نے اس کی سپاری تو کسی کو نہیں دے دی مذاق کرتے ہوئے۔ بکواس نہ کرو۔ تو کیا؟ کچھ نہیں شکریہ کیا ہو گیا ہے نہ لیکچر لیتی ہو نہ باقی چیزوں میں حصہ لیتی ہو۔

آج صرف تمھاری وجہ سے ہم دونوں کی خوب کتے والی ہوئی، سدھر جاؤ۔ میم نے تو طعنہ بھی دے دیا کہ محبت کے چکر میں تو مصروف نہیں ہے نائمہ۔ چھوڑو میم سائیکو ہیں پورا کالج جانتا ہے نہ محبت کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے۔ اس لیے تو اب تک کنواری ہے۔ نائمہ تم یہ باتیں کب سے کرنے لگی کہیں میم کی بات سچ تو نہیں؟ تمہیں محبت تو نہیں ہو گئی؟ پتہ نہیں یار کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔

شام میں ماں نے کہا ''تم نے کیا حال بنا رکھا ہے پانی پانچ وقت پی رہی ہو نا؟ گلے میں ہاتھ لگاتے ہوئے تعویز بھی ہے تو تم ٹھیک کیوں نہیں ہو رہی۔ ماں مولوی صاحب کے پاس چلیں کیوں؟ ان سے دم کروائیں چلو ابھی چلتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر کیا دیکھتی ہے ''بلو'' نماز میں مصروف انتہائی پیارا لگتا ہے۔ چہرے پر بھی نورانیت نظر آنے لگتی ہے۔ احمر ''چاچو ٹیچر آئی ہیں سلام کریں''۔

پر بلو دعا کے بعد دیکھے بغیر اندر چلا جاتا ہے۔ یہ وظیفہ کا چالیسواں دن ہے اب بلو کو اپنی چال کی بجائے رب کے کلام پر بھروسہ ہوتا ہے کہ اب نائمہ کو پا لے گا۔ نائمہ اداس پریشان ہو جاتی ہے کیونکہ وہ دم بھی تو بہانے سے کروانے آئی تھی۔ جب نائمہ عاشی کے ساتھ باتوں میں لگ جاتی ہے تو دم کے بعدمولوی صاحب ''کنیز بہن کل پرسوں آپ کے گھر آنے والے تھے۔

بلو کو آپ کا بیٹا بنانا ہے اور اس میں بلو کی مرضی بھی شامل ہے''۔ اب بلو کو نائمہ کے انکار کا بھی ڈر نہیں ہوتا کیونکہ وہ کافی نیکی کی طرف بھی آجاتا ہے۔ اپنے گناہوں پر بار بار رب سے معافی بھی مانگتا ہے۔ ہر دعا میں رب سے نائمہ کا ساتھ مانگتا ہے۔ اگلے دن مولوی صاحب گھر والوں کیساتھ رشتہ لے کر پہنچ جاتے ہیں۔نائمہ کو ماں بتا کر رضامندی لے کر ہاں کر دیتی ہے اور یوں محبت بلو کو اچھا انسان بھی بنا دیتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-05-28

Your Thoughts and Comments