Intezar

انتظار ۔۔۔۔۔۔۔

اسعد نقوی جمعرات ستمبر

Intezar
زندگی کی شام ہے۔ عمر زیست کی صبح سے لے کر شام تک کا ہر لمحہ آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہا ہے ۔ اور عشق کی گہرائی کے ساتھ ساتھ نفرت کے کانٹوں کی چبھن بھی محسوس ہو رہی ہے ۔ مگر عشق کہاں چھپتا ہے چہرے پر پھیلے نفرت کے آثار بھی اپنے نقش چھوڑ جاتے ہیں ۔ اسی طرح اس لمحہ بھی یہ شخص اپنی زندگی کی دوپہر کی ان یادوں میں کھویا ہوا ہے جب محبت کے نشے نے اس کی آنکھوں کی گہرائیوں میں ایک دوشیزہ کی تشبیہ بنا دی تھی ۔

اور لبوں پر ایک ہی نام کی تسبیح رہتی تھی ۔ اس دوشیزہ کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دل کی گہرائی میں اترتی محسوس ہوتی تھی ۔ یونیورسٹی میں پہلے دن سے یہ دوشیزہ اس نورس کلی کی طرح تھی جس کی معصومیت اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اس لیے یہ محبت میں پاگل ۔دل کے ہاتھوں مجبور اور لبوں پر خاموشی کا تالہ ڈالے گلاب کی کیاریوں کے پاس خاموش بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

(جاری ہے)

اور وہ اپنی مستی میں سہلیوں کے ساتھ چہل قدمی کر رہی تھی ۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا ۔۔ مگر یہ خاموش بیٹھا خالی خالی نگاہوں سے اس نورس کلی کے چہرے پر سجی لالی کو تکتا اور اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ کو آواز بننے سے پہلے اپنے دل میں اتار لیتا ۔۔ ساتھ بیٹھے اس کے دوست بھی اس کی عشقیہ کیفیت کو نوعمری کا شوق سمجھتے اور محبت کے اس جذبہ سے عاری دوست محض وقت گذاری کا وہی عشق گردانتے جو یونیورسٹی کے ہر دوسرے لڑکے کے سر پر سوار تھا ۔

۔ اپنے دوستوں کے مذاق بھی سہتا یہ نوجوان ہنس کر ٹال دیتا اور نظروں کے تبادلے کے وقت نظریں چرا لیتا ۔۔۔ یہ نہیں جانتا تھا کہ جس وقت نظریں چراتا یہ اپنی نگاہوں کا رخ تبدیل کرتا ہے تو لڑکی کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی ہے اور اس کو اپنا دل اس کی نظروں کے ساتھ ہی جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔ جب اس کی نظروں کا رخ مخالف سمت ہوتا ہے تو وہ نورس کلی کو اپنا آپ خالی خالی سا محسوس ہوتا ہے ۔

۔۔ اور جب وہ اس نوجوان کی نظروں کے حصار میں ہوتی ہے اس کو اپنایت کا احساس رہتا ہے ۔۔ یہ نوجوانی کا عشق بھی اسی گلاب کی طرح تھا جو نورس کلی سے مسکراتے چہرے تک تبدیل ہونے تک سب کی نظروں کا طواف کرتی ہیں ۔۔۔اور جب گلاب کا پھول اپنے شباب کو پہنچتا ہے تو ہر ایک کی توجہ چاہتا ہے ۔۔ اس کے چہرے کی لالی بھی مزید نکھر جاتی ہے جب محبت کا لمس اس کی نازک پتیوں پر محسوس ہوتا ہے ۔

۔ اسی طرح کا تعلق اس نوجوان کے ساتھ بھی تھا ۔ جب بھی اس کی نظروں کے حصار میں ہوتی ایک توجہ اور اپنایت کے ساتھ ساتھ محبت کا لمس اس کو اپنے چہرے پر محسوس ہوتا وہ اسی سرشاری میں اس نوجوان کی نظروں کے سامنے رہنے کی ہی کوشش کرتی ۔۔ اور جب محبت کا احساس اس کے چہرے کو سرخ کرتا تو ساتھ اٹھکیلیاں کرتی دوسری نورس کلیاں اس کو باد صبا کی طرح چھیڑتی اور مسکراتی ہوئی نظروں میں پوچھتی تو یہ شرما کر رخ بدل لیتی ۔

۔۔۔
دوسری جانب وہ نوجوان بظاہر خود کو دوستوں کی باتیں سننے میں مگن ظاہر کرتا مگر آنکھوں کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ بھی کسی سے چھپی نہ رہتی ۔۔ دوستوں کے ٹولے میں بیٹھے اس نوجوان کے دوست اس کو اظہار کرنے پر اکساتے مگر یہ مسکرا کر ٹال دیتا کہ محبت کا جذبہ اظہار کرنے کا متقاضی نہیں ہوتا ۔۔۔ بلکہ یہ تو دل میں اپنی جگہ خود بنا لیتا ہے اور سمجھا لیتا ہے ۔

۔ جو اس کو سمجھنے سے انکاری بھی ہو تو اورعشق کی طلب خود اس جذبہ کو دل کے نرم گوشہ میں پیدا کر دیتی ہے یہ ایک ایسی آگ ہے جس میں جلنے والے دونوں ہوتے ہیں ۔۔۔ دونوں کے دلوں میں یہ آگ برابر لگی ہوتی ہے ۔ اظہار تو ثانوی ہے ۔ محبت کا احساس بذات خود اظہار ہے دوست اس کو مجنوں کہتے اور ہنسی میں اس کی باتوں کو ٹال دیتے ۔۔۔
وقت گذرتا جا رہا تھا ۔

۔۔ یونیورسٹی میں آخری سمسٹر بھی گزر رہا تھا لیکن ان کا معمول یہی تھا ۔۔۔ یونیورسٹی کا آخری پیپر تھا ۔۔ پیپر کے بعد کمرہ امتحان سے نکلتے ہوئے دونوں کی نگاہیں ٹکرائیں ۔۔۔ عشق کا چاند محبت کے سمندر میں طوفان پیدا کر رہا تھا ۔۔۔ نورس کلی کی آنکھ سے شبنم آنسو بن کر عشق کی تڑپ میں آنکھ کے پردے سے بے گانہ ہوکر باہر نکل آئے ۔۔۔۔ جدائی کا یہ لمحہ آنکھ اور آنسو کا ہی نہیں تھا ۔

بلکہ اس نگاہ سے بھی جدائی کا احساس تھا جس کی تپش ہمشہ سرد دنوں میں ہلکی دھوپ کی ماند زندگی کے شباب کے لیے درکار ہوتی ہے ۔۔ پھولوں کی تمام ترخود نمائی بھی تو محبت اور چاہے جانے کا احساس دلاتی ہیں ۔ یہی نگاہیں تو اس نورس کلی کے حسن میں حیا کی سرخی سے چار چاند لگا دیتی تھیں ۔۔ آج وہ چاہنے والا بنا کہے بھی سب کچھ کہہ گیا تھا ۔۔۔ محبت کی پہلی سیڑھی پر کھڑے ہوکر جب اس نے نگاہ کا قیدی بنایا تھا آج ان نگاہوں کی زنجیروں کی عادت اس قدر پختہ ہوچکی تھی کہ نگاہوں کی قیدی اب عشق کی قیدی ہوچکی تھی ۔

۔ ان نگاہوں کی زنجیروں کو اپنے وجود کا حصہ سمجھنے والی اب ان نگاہوں سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی ۔ اور سامنے کھڑا نوجوان بھی اس دوشیزہ کو اپنی نگاہوں میں ہمشہ کے لیے محفوظ بنا رہا تھا ۔۔۔ اور لڑکی کی نگاہیں اس سے پوچھ رہی تھی ۔اب کب ملو گے ۔۔۔۔ یہ بنا کچھ کہے نگاہوں میں ہی تسلی دے رہا تھا بہت جلد ۔۔۔۔ بہت جلد ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی دونوں اپنی اپنی راہ پر چل دیے ۔

۔۔۔
دونوں نہیں جانتے تھے کہ زندگی کے اس سفر میں دریا کے دونوں کناروں کی طرح ہی ساتھ ساتھ مگر دور رہ کر محبت کے لہروں سے اسی طرح اپنے جذبات کو پہنچاتے رہیں گے جیسے نگاہوں سے دل میں ہلچل پیدا کرتے رہے یا پھر کوئی پل ان دونوں کناروں کو ملا دے گا۔۔۔۔۔
آج یونیورسٹی دور کو ختم ہوئے پانچ برس بیت چکے تھے ۔۔۔ ٹھنڈی ہوا میں گھر کے پرسکون لان میں رات کی رانی کی خوشبو جہاں ماحول کو مہکا رہی تھی وہیں انگور کی بیل سے لٹکتے خوشے ، رنگا رنگ کے پھولوں کی بیلوں سے چاند کی روشنی چھن کر اس کے وجود کو نہلا رہی تھی ،پاس گلاب کی کیاریوں میں گلاب کے پھول پرانی محبت کی یاد تازہ کر رہے تھے ہر لمحہ ایک فلم کی طرح آنکھوں کے پردے پر عیاں ہو رہا تھا ۔

۔ وہیں پاس میز پر پڑی شاعری کی کتاب اسی دوشیزہ کی تھی جو اس کی نگاہوں میں پیغام چھوڑ گئی تھی آج وہی عشق کی کہانی کو اپنے اشعار کی صورت میں پھر ڈھکے چھپے انداز میں پیغام محبت اس کے دل میں اتار گئ ۔۔۔ وہیں دل کی دھڑکنوں کو بے چین کرنے والا انتساب کسی پل چین نہیں لینے دے رہا تھا جو سنہرے لفظوں میں لکھا ہوا تھا " نگاہ محبت کے نام ۔جس نے شاعری کی طرف راغب کیا "۔۔۔۔۔ اور اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا یہ آج بھی اسی جگہ کھڑے پوچھ رہی ہے کب ملو گے ۔۔۔۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2019-09-19

Your Thoughts and Comments