Kaanta

کانٹا۔۔۔تحریر: ساجد حسین وسیر

بدھ جنوری

Kaanta
کانٹا صدیوں پرانے گاؤں کے اطراف میں پھیلی انواع و اقسام کی ان گنت فصلیں، جن میں سے بیشتر کے نام نامعلوم ہیں اور جن کے ہیں وہ سب من گھڑت ہیں۔ ان میں سینکڑوں تناور درخت ہیں، جن کی شاخیں آپس میں گتھم گتھا ہیں مگر ان کے تنوں کے درمیان میلوں کے فاصلے ہیں۔ ان کے بیچ ایک راستہ ہے۔ پانی، مٹی، ریت اور دلدل کے امتزاج کا راستہ، کسی نامعلوم منزل کو جانے والا واحد معلوم راستہ۔

اس راستے پہ ایک بونا، کانٹوں بھرا درخت ہے۔ جس کا سایہ گھنا ہے، مگر لمبا نہیں ہے۔ وہ سامنے کوئی شخص کھڑا ہوا ہے۔ کیسا عجیب شخص ہے بالکل میرے باپ جیسا لگ رہا ہے؟ میرا باپ جب آنسوؤں کو چھپانے کے لئے منہ دوسری طرف کرتا تھا بالکل ایسا ہی نظر آتا تھا۔ میں اس کے قریب جا رہا ہوں۔ میری یہ حالت!!! یہ میں کیا بن ہو چکا ہوں؟؟ کیا یہ میں ہوں؟ ہاں ہاں بالکل! یہ میں ہی ہوں ہزاروں نسلوں کے بوجھ تلے دبا، تاریخ کا ڈسا، سفر کی مشقت کا مارا، پھٹے کپڑوں والا گمنام راہی۔

(جاری ہے)

میں اسی طرح خود کو خود ساختہ جواب دیتے ہوئے اس درخت کے نیچے پہنچ چکا ہوں۔ وہ شخص دوڑتا ہوا دور جا چکا ہے اب اسے آواز دینا فضول ہے۔ میں کچھ دیر رکنا چاہتا ہوں۔ کچھ آرام کرنا چاہتا ہوں۔ ''مگر یہ کیا؟ یہاں تو ہر طرف کانٹے ہیں اور یہ بیچ میں گزرنے کے لئے تھوڑا سا صاف راستہ ہے۔'' ''ہاں شائد کسی نرم دل نے صاف کر دیا ہو گا۔'' '' میں نے خود کو اپنے سوال کا جواب دیا۔

مگریہ کیا؟ اس صاف راستے پہ خون کے ان گنت دھبے ہیں کچھ پرانے نہایت پرانے اور کچھ نئے بالکل نئے۔ مجھے اب یہاں سے جانا چاہیے، چلتے رہنا چاہیے، نا چاہتے ہوئے بھی ہر حال میں۔ میں اب بغیر کانٹوں والے صاف راستے سے گزرنا چاہتا ہوں۔ دھبوں سے، کانٹوں سے سبھی سے بچ کرمیں چل رہا ہوں۔ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہوں۔ ''اوہ خدایا! وہی ہوا''۔۔۔ درد۔

۔۔ شدید درد۔۔۔ یہ کوئی بوسیدہ کانٹا ہے جو میرے پاؤں میں اتر چکا ہے۔ مجھے اسے نکال دینا چاہیے؟؟ نہیں نہیں میں۔۔۔میں اسے نہیں نکالوں گا۔ نکالوں گا، تو خون بہے گا۔ اوہ نہیں بالکل نہیں مجھے اسے نکالنا ہی پڑے گا، نکالوں گا نہیں تو چلوں گا کیسے؟ میں اپنے ایک پاؤں پہ کھڑا تمام ممکنات پہ غور کر رہا ہوں۔ یہ دیکھو میں نے آنکھیں میچتے ہوئے، کانٹے پہ ہاتھ رکھا اور زور سے نکال دیا۔

گاڑھے سرخ خون کی دھار میرے بائیں پاؤں، ہاں ہاں اسی زخم والے پاؤں، کے آخری نشان پر گر رہی ہے۔ ''یہ کیا ابے نامراد! تیرا کچھ حصہ میرے پاؤں میں باقی رہ گیا!'' میں غصے میں کانٹے پہ برس پڑا ہوں۔ ''ہاہاہا! اسے رہنا ہی تھا، ہرحال میں اسے رہنا ہے، اسے تمام عمر باقی رہنا ہے اور تمہیں۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔برخوردار! تمہیں۔۔۔ اسی چبھن میں جینا اوراسی خلش سے مرنا ہے۔

'' وہ خم دار نوکیلا کانٹا جس کی نوک میرے پاؤں میں چبھی ہے۔ مجھ پہ ظنزاً ہنس رہا ہے۔ ''تم! ہنس بھی سکتے ہو؟'' ''اور بات۔۔۔ بات بھی کر سکتے ہو۔ عجیب ہے بہت عجیب۔ ''میں نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا۔ ''ہاہا میرے عزیز!ہم۔۔۔ ہم خاموش کب ہوئے ہیں۔ ہم تو ہمیشہ بولتے ہیں، ہر ایک سے بات کرتے ہیں۔ اسی لہجے میں، اسی طنز کے ساتھ۔ یہ دیکھو یہ تمہارے دائیں جانب اور وہ وہاں تمہارے بائیں جانب پڑے ہزاروں برس پرانے کانٹے اور ان کی بو سیدہ نوکیں تمہارے جسم میں ٹوٹنے اور تمہارے خون میں بھیگنے کے لئے ہی تو پڑی ہیں۔

'' وہ شاطرانہ مسکراہٹ لئے ہنس رہا ہے حالانکہ اس نے ابھی ایک بھاری، گہری سانس لی ہے، جس کے بوجھ کو میں نے اپنی ہتھیلی محسوس کیا ہے۔ وہی بوسیدہ ازلی بوجھل، خون بھری غلیظ سانس۔ میں سب کانٹوں کے قہقہوں کو سن رہا ہوں۔ ایک قدم پر دھوپ ہے اور میں ایک پاؤں پر کھڑا ہوا ہوں۔ جب کہ دوسرا پاؤں جواب دے رہا ہے، میں لاتعداد کانٹوں کے ڈھیر پر گرنے والا ہوں، میرا جسم۔

۔۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں، مجھے ہمت کرنا پڑے گی، مجھے پاؤں رکھنا پڑے گا اور اب۔۔۔ میں مٹی پہ زخمی پاؤں دھر چکا ہوں۔ سائے سے باہر نکل آیا ہوں۔ ہاتھ کا کانٹا آسمان کی طرف اچھال دیا گیا ہے۔ مٹی نے زخم کا منہ بند کر دیا ہے۔ خون رسنا رک چکا ہے۔ ''یہ آواز کیسی ہے؟'' میں مڑا ہوں، وہ پیچھے دور نظر کی آخری حد کے پہلے قدم پہ کوئی آرہا ہے۔ میں اسے دیکھ تو سکتا ہوں پر آواز نہیں دے سکتا۔

اوہ۔۔۔ ہاں میں تو آواز دیکھنے کے لئے مڑا تھا یہ انسان کہاں سے آگیا۔ اوہ اچھا۔۔۔ وہ سامنے میرے خون کے دھبے کے پاس ایک کانٹا تیزی سے دوڑتا، دوسروں کو ادھراُدھر دھکیلتا، شور مچاتا ہوا، راستے پہ آرہا ہے۔ میں پسینے میں شرابور کھڑا ہوں، سورج اپنے سینے کی آگ اگل رہا ہے۔ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ کھیتوں کا رنگ زرد ہورہا ہے۔ لو تیز سے تیز تر ہو رہی ہے۔

درخت کی آخری بلند شاخ سے آخری نسلوں کے نصیب کے کانٹوں کا گچھا، ٹہنیوں سے ٹکراتا، خراش دار آواز پیدا کرتا نیچے گر رہا ہے۔ میں ڈر چکا ہوں، تھک چکا ہوں۔ وہ سامنے، وہی دور کا مسافر قریب آچکا ہے۔ وہ اگلے لمحے مجھے دیکھنے والا ہے لیکن میں اسے دیکھ چکا ہوں۔ میں رو پڑا ہوں، مگر نہیں اس کے سامنے نہیں رو سکتا۔ مجھے دوسری طرف مڑنا پڑے گا۔ میں گردن موڑ چکا ہوں۔

میرا احساس مجھے کہتا ہے وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن میں اسے اپنے چہرے پہ پڑی سلوٹیں نہیں دکھاؤں گا۔ میں اس کو پاؤں پہ لگے زخم نہیں دکھاؤں گا۔ میں اس کے محفوظ رہنے کی دعا کروں گا۔ میں چل پڑا ہوں بس اب رکنے والا نہیں۔ میں تیز بھاگنے لگا ہوں۔ راستے کے کانٹے کی زد میں آئے مسافر کی ''اوہ! خدایا۔۔ وہی ہوا'' کی درد بھری آواز کب کی سن چکا ہوں۔

مگر میں دوڑ رہا ہوں۔ میرے چہرے پہ آنسوؤں کی تبخیری ٹھنڈک کا اثر کب کا زائل ہوچکا ہے۔ میرے ہونٹ خشک ہو چکے ہیں۔ پیاس شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مٹی اور پانی کے راستے کی حد کب کی ختم ہوچکی ہے۔ یہاں ریت اور دلدل کا راج ہے۔ عجیب امتزاج ہے۔ مگر ابھی تو ریت ہے، وہاں دور صحرا کے اس پار دلدل کے کچھ آثار نظر آ رہے ہیں۔

میں وہاں تک جاؤں گا۔ ہر حال میں جاؤں گا۔ میں اُس دلدل سے دریا جتنا پانی کشید کروں گا۔ اسے میں اپنی کھوپڑی کے کوزے میں بند کروں گا اور جی بھر کے پانی پیوں گا۔ میں ریت کے ہر ذرے کو تر کر دکھاؤں گا۔ میں اس تخیل کی حد تک پھیلے دیس کی فصلوں کے حقیقی نام جانوں گا۔ وہ تمام نام جو مجھے سکھائے گئے تھے، جنہیں میں نسلوں کے ملبے میں کہیں گنوا بیٹھا ہوں۔

وہی آفاقی نام جن کی وجہ سے میں مسجودِ ملائک بنا تھا۔ میں ان درختوں کے تنوں کے درمیان دریا رواں کروں گا اور ان کی گتھم گتھا شاخوں پہ بیٹھ کر دریا میں گاتے مسخرے مچھیرے کے شوخ گیت سنوں گا۔ میں تب جی بھر کے مسکراؤں گا۔ لیکن میرا ایک فیصلہ ہے کہ میں ہر راز کو پا لینے کے باوجود اس مقام تک پہنچنے کا نیا اور آسان راستہ نہیں بناؤں گا۔ میں راستہ وہی رکھوں گا، وہی پرانے، کانٹوں بھرے، بونے درخت کا راستہ جس پر میں پہلے گناہ کی پاداش میں ڈالا گیا تھا۔

جو میرے پہلے قدم کی آہٹ سے واقف ہے، جس پہ میرے خون کا پہلا قطرہ گرا تھا۔ میں کسی پر رحم نہیں کروں گا۔ میں کسی کے لئے دعا نہیں کروں گا۔ میں اپنے بیٹوں کو اسی کٹھن سائے سے گزاروں گا، میں ہر نسل کو درد سے آگاہ کروں گا، اسی بوسیدہ کانٹے کی نوک کے درد سے۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-22

Your Thoughts and Comments