Khat

خط

حماد رزاق چدھڑ ہفتہ مئی

Khat
گُل فاطمہ حسرتوں بھرا بستہ اٹھائے ٹوٹی ہوئی چپل سے اپنی عزت نفس کو سڑک سے گھسیٹتی سہیلیوں کے ساتھ سکول جایا کرتی۔اسمبلی حال میں روزانہ استانی سلوٹ زدہ وردی اور ٹوٹی ہوئی چپل پہننے پر گُل کو کھلنے سے پہلے الفاظوں کی بوچھاڑ سے مرجھا دیتی تھی۔سہیلیوں کے طنز و مزاح اور غربت نے معصوم سی کلی کو احساس کمتری کا پہلا درس دیا۔بریک کے وقت اچار اور سوکھی روٹی کو رول کر کے شوارما سمجھ کر گزارا کر لیتی۔

دنیا کے شور و شر نے گُل کو خاموشی عنایت کر دی۔گُل کی ماں اپنی لخت جگر کی بھوک مٹانے کیلئے لوگوں کے گھروں کی صفائیاں کرتیں۔ رات ہوتی تو ماں کہانیاں سنا کر گُل کو حوصلہ دیتی۔ایک دن چودھویں کا چاند خوب چمک رہا تھا تو گُل نے پوچھا ”ماں! یہ چاند اتنا پیارا کیوں ہے؟“ سوال نے ماں کو یادوں کے کنویں میں گرا دیا اس کو اپنے چاند کی چمک یاد آ گئی جس چمک نے ماں کو اندھیروں کا تحفہ دیا تھا۔

(جاری ہے)

لڑ کھڑاتے ہونٹ اور لرزتے ہوئے لہجے سے ماں نے حوصلہ کرتے ہوئے جواب دیا ”گُل چاند کی چمک کا تعلق صاف آسمان سے بھی ہے جب اس کے آگے گردوغبار آ جائے تو چمک اس کے نظر ہو جاتی ہے۔تاریک چیزوں کو روشنی اپنی طرف مرکوز کر کے موہ لیتی ہے۔“ ماں نے اپنی گڑیا کو بانہوں میں سمیٹتی اور لوری کی اداس دھن میں سُلا دیتی تھی۔ آخر کار گُل زندگی کی تلخیوں کو عبور کرتی جوان ہو جاتی ہے۔

ماں کے ہاتھ پیر بڑھاپے کی نظر ہو جاتے ہیں۔بھوک و پیاس کی آگ کو بجھانے کیلئے اسے اپنی تعلیم کی قربانی دینی پڑتی۔مرتی کیا نہ کرتی پیسے کی عدم دستیابی نے علم کا زیور تو چھینا ہی ساتھ ماں کی جگہ گھروں کی صفائی کرنے پر بھی مجبور کر دیا۔ مہر النساء اس کے بچپن کی دوست تھی اس نے اپنے والدین سے بات کر کے گُل کو اپنے گھر کام دلوا دیا۔ماں جو کہ چلنے پھرنے سے لاچار ہو چکی تھی مہر النساء اسے بھی اپنے گھر لے آئی۔

مہر النساء کے والدین انہتائی شریف اور پر خلوص انسان تھے۔انہوں نے دونوں کو مستقل طور پر اپنے گھر شفٹ کر لیا۔نیوز چینل میں آل پاکستان تحریری مقابلہ جات کا اعلان ہوا۔مہر النساء جانتی تھی کہ گُل اچھا لکھ لیتی ہے اس نے مقابلے میں نام لکھوا دیا اور گُل کو مقابلے میں شرکت پر مجبور کر دیا۔ کچھ دنوں بعد ڈاکیے نے دروازے پر دستک دی اور گُل کے ہاتھ میں خط تھما دیا۔

خط کو سینے سے لگا لیا کیونکہ پہلی مرتبہ اس کے نام کا خط آیا تھا۔اتنے میں مہر النساء آ جاتی اور خط کو جلدی سے چھین کر پڑھنے لگ جاتی وہ خوشی سے زور زور سے چلانا شروع کر دیتی ہے کہ ”گُل نے تحریری مقابلہ فتح کر لیا ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے پانچ لاکھ روپے کا چیک آیا ہے۔“ یہ بات سنتے ہی ماں کی آنکھ سے خوشی کے آنسو بہنے لگے کیونکہ اسکی ساری محنت کا حق ادا ہو گیا تھا۔

اگلے دن ٹی وی پروگرام پر جانے کا دعوت نامہ وصول ہوا۔ادھر ماں اپنے آخری سانس گن رہی تھی۔ماں نے زبردستی حوصلہ دے کر ٹی وی شو پر بھیج دیا۔وہاں پر اینکر نے گُل سے کامیابی کا راز دریافت کیا تو گُل کی آنکھ سے بے ساختہ آنسو نکل آئے اور کہا ”کامیابی کا راز میری ماں ہے۔“ اینکر اگلے دن اسکی ماں سے ملنے کیلئے جاتا ہے۔وہ اینکر اصل میں گُل کا حقیقی باپ ہوتا ہے جس نے غلط فہمی اور شہرت کی زد میں اس کی ماں کو طلاق دے دی تھی۔

اس وقت گُل اپنی ماں کے بطن میں تھی جسے وہ اپنی اولاد تسلیم ہی نہیں کرتا تھا۔جب اینکر انٹرویو لینے اسکی ماں کے سامنے آتا ہے ماں اسے پہلی نظر میں پہچان لیتی ہے جبکہ اینکر اسے نہیں پہچان پاتا۔ اینکر سوال پوچھتا ہے کہ ”کی بیٹی کی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟“تو ماں نے گُل کو کہا کہ صندوق میں ایک خط پڑا ہے وہ لے آؤ۔ وہ ہی طلاق نامے والا خط ماں نے اینکر کو مسکراتے ہوئے تھما دیا اور کہا ”گُل کے گندگی پر کِھلنے کی وجہ کوئی اور نہیں آپ کا دیا یہ خط ہے جو اس کے قلم میں درد کا موجب بنا ہے۔“
تاریخ اشاعت: 2020-05-30

Your Thoughts and Comments