Khudara Apni Aulad Ko Aulaad Samjhain

خدارا اپنی اولاد کو اولاد سمجھیں

سارہ منگل دسمبر

Khudara Apni Aulad Ko Aulaad Samjhain
آمنہ کیا ہوا ہے۔۔۔؟منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے تم نے۔۔۔۔؟میں جیسے ہی آمنہ کے روم میں داخل ہوئی وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔اس کے چہرے سے پریشانی ٹپک رہی تھی۔۔۔میرے پوچھنے کی دیر تھی کہ آنسو ٹپ ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گرنے لگے تھے۔۔۔۔۔ کچھ بتائے تو کیا ہواہے۔۔۔۔؟ آمنہ۔۔میں نے آمنہ کو گلے لگایا۔۔۔۔اور اس کے آنسو صاف کیے۔۔۔۔۔ یار وہی بات ہے۔۔۔

۔مامابابا کو مجھ پر یقین ہی نہیں ہے۔۔۔ہر وقت میرے کردار کی دھجیاں اڑانے پر تلے رہتے ہیں۔۔۔۔بابا کے سامنے تو میں جا بھی نہیں سکتی ہوں ان کو لگتا ہے میں ان کیلئے آزمائش ہوں۔۔تم بتاؤ اتنی بُری دنیا میں پیدا ہونے کا کس کا دل کرتا ہے۔ جہاں ہر پل انسان اپنی نظروں میں گرے۔۔پل پل مرے۔۔جہاں کوئی اپنا نہ ہو۔۔۔۔۔میرا دل کرتا ہے۔

(جاری ہے)

۔۔چھپ جاؤ ں یا کسی ایسی جگہ چلی جاؤں۔

۔۔جہاں کوئی نہ ہو۔۔۔جہاں خوف نہ ہو۔۔۔کوئی ایسا نہ ہو جو مجھے میرے ہونے کے طعنے دے۔۔اب ایساکیا ہواہے۔میں نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔؟ نمرہ کال کر رہی تھی۔۔۔رات کو دیر سے مجھے نیند آگئی۔۔۔۔موبائل کی آواز سے ماما کی آنکھ کھل گئی۔۔۔۔مجھے جھنجھوڑ کے اٹھایا۔۔۔تب سے کہہ رہیں ہیں۔۔اتنی رات کو کون ہے جو کال کرتا ہے۔۔۔۔۔میں تھک گئی ہوں یار۔

۔۔۔۔۔ آمنہ دوبارہ رونے لگی تھی۔۔۔اگر ان کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے تو لے لیں مجھ سے موبائل۔۔۔میرے کردار پر شک کر کے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیتے ہیں یہ لوگ ۔۔۔۔تم میری دوست ہو تمہیں تو پتہ ہے۔۔میرا کیا قصور ہے؟۔۔۔۔بچپن سے ہی ایسا ہوتا آرہا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔میرا دل کرتا ہے میں مر جاؤں۔۔۔ میں اسے تسلی دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

۔۔میں افسردہ سی گھر واپس آگئی۔۔۔ افرا ء۔۔۔بیٹا۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔جلدی اٹھو۔۔۔ماما میرے روم میں آئیں اور مجھے جگانے لگیں۔۔۔۔کیا ہوا ماما۔۔۔ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہیں۔۔۔میں آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھی اور ماما سے پوچھنے لگی۔۔۔۔ پتہ نہیں آمنہ کو کیا ہوگیا ہے۔۔۔جلدی اٹھ جاؤ اس کے گھر جانا ہے۔۔۔۔کیا ہوا آمنہ کو ماما مجھے بتائیں۔۔۔؟ یہ بات سن کر مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔

۔۔۔شاید آمنہ نے خودکشی کر لی ہے۔۔ماما خود بھی رو رہی تھیں ۔۔۔اس کے گھر سے رونے کی بھی آوازیں آرہی ہیں۔۔۔۔لیکن اس کا تو آج نکاح ہے ناں ماما؟۔۔۔وہ بھی زبردستی کر رہے تھے اس کے گھر والے۔۔۔۔۔میں روتے ہوئے ماما کو کہنے لگی۔۔۔اب کیا کہا جاسکتا ہے۔۔۔تم تیار ہو جاؤ۔۔۔پھر جانا بھی ہے۔۔ماما بھی افسردہ سی باہر چلی گئیں۔۔۔۔ آمنہ ہم سب کو چھوڑ کے جا چکی تھی۔

۔۔۔وہ آمنہ جس کی میں واحد دوست تھی۔۔۔جس کا کردار حوروں جیسا شفاف تھا۔۔۔۔جو اپنے حق کیلئے بولی۔۔۔تو اُسے بدکردار کہا گیا۔۔۔اس کا نکاح زبردستی طے کر دیا گیا۔۔کہ کہیں بھاگ نہ جائے۔۔۔۔ والدین اولاد کو پال پوس کر بڑا کرتے ہیں۔۔۔اولاد کو پال پوس کر بڑا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔۔۔لیکن زندگی گزارنے کا خوش رہنے کا اولاد کا بھی حق ہوتا ہے۔

۔۔اگر بچے آپ کے کسی فیصلے کے خلاف ہوں۔۔تو اک پل کیلئے ضرور سوچیں۔۔۔کہ وہ ایسا کر رہے تو کیوں کر رہے ہیں؟ اور آپکا فیصلہ کس حد تک بہتر اور درست ہے۔۔وہ غلط ہیں تو کہاں پر۔۔۔اولاد کو اولاد سمجھیں۔۔۔غلام سمجھ کر اپنی مرضی مسلط کرنے کا حق دنیا کا کوئی مذہب کسی بھی ماں باپ کو نہیں دیتا۔۔۔۔اور اگر اولاد آپ کے فیصلے سے اختلاف کر رہی ہے۔

۔۔تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ نافرمان ہے۔یا بدکردار۔۔۔اولاد کے کردار پر شک صرف وہ والدین ہی کرتے ہیں۔۔۔جن کو خود پر اور خود کی تربیت پر شک ہو۔۔۔۔۔ خدارا۔۔۔اولاد کو اولاد سمجھیں۔۔۔زر خرید غلام نہیں۔۔۔۔۔اولاد کو اتنی محبت اتنی اپنائیت دیں۔۔۔کہ انہیں باہر سے محبتیں تلاش کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔۔۔انہیں چور دروازے دھونڈنے کی ضرورت نہ پڑے۔۔۔۔آپ کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر وہ ایسا قدم ہی نہ اٹھا لیں جو آپ کیلئے ذلت و رسوائی اور ان کیلئے اذیت کا باعث ہو۔۔۔اور کوئی آمنہ اپنی ہی نظروں میں گر کر اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ نہ کرے۔۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-03

Your Thoughts and Comments