Muqabla

مقابلہ

ریحان محمد پیر اکتوبر

Muqabla
ہوٹل مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔شہر کی نامور کاروباری شخصیت کی بیٹی کی شادی تھی۔ہر چیز جگ مگ کر رہی تھی روشنیوں کا سیلاب تھا۔زرق برق قیمتی ملبوسات شرکا کی امارت کا پتہ بتا رہے تھے۔ملک کا بڑا مشہور میوزک گروپ اپنی جاندار پرفارمنس سے مہمانوں کو محظوظ کر رہا تھا۔کچھ زیادہ شوخ و چنچل لڑکے لڑکیاں کے جسم ڈانس فلور پرتھر تھڑا رہے تھے۔جام سے جام ٹکرا رہے تھے۔

جس نے ماحول پر خواب ناک نشہ طاری کر دیا تھا۔رنگ و نور کی محفل میں ہر بندہ مستی میں جھوم رہا تھا۔قاری صابر ہال کے ایک کونے میں شور شرابہ سے دور الگ تھلگ بیٹھا ہوا بار بار پہلو بدل رہا تھا۔یہ سب ان کی طبیعت پر ناگوار گذر رہا تھا۔۔کب بارات آے نکاح شروع ہو اور اس غیر شرعی ماحول سے ان خرافات سے جان چھوٹے۔کئی مرتبہ کوشش کی کہ ان کو سمجھاؤں کہ یہ سب خلاف شرعیت ہے۔

(جاری ہے)

پر کوئی موقع ہی نہیں مل رہا تھا اور نہ ان کا بس چل رہا تھا۔ قاری صابر صاحب آج صبح ہی سے بڑے بے چین دیکھائی دے رہے تھا۔آج کا دن بہت طویل لگ رہا تھا۔تھوری تھوری دیر بعد گھڑی پر وقت دیکھتے۔پر وقت گذرنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ذیادہ بے چینی کی صورت میں گھر سے باہر چلے جاتے۔اس صورتحال کی وجہ آج شہر کے بڑے بزنس مین کی بیٹی کا نکاح تھا۔نکاح خواں کے لیے قاری صاحب کی خدمت حاصل کی گی تھیں۔

قاری صابر اپنے نام کی طرح قناعت پسند ہر حال میں صبر شکر کرنے والے بے ضرر انسان تھے۔اپنی ساری عمر مسجد میں بطور امام گزار دی۔کھبی کسی سے بحث لڑای جھگرا نہیں کیا۔روکھی سوکھی پر گزارا کر لیا پر کسی کے آ گے ہاتھ نہیں پھلایا۔اپنی بیوی اور دو جوان بیٹیوں کے ہمراہ مسجد کے احاطے میں بنے مختصر سے گھر میں رہ رہے تھے۔اگلے مہینے ان کی بڑی بیٹی کی شادی طے تھی۔

شادی کے اخراجات کے لیے کچھ بھی پاس نہیں تھا۔قاری صاحب کو بہت امید تھی سیٹھ اپنی بیٹی کے نکاح پڑھوانے کا اچھا ہدیہ دے گا۔۔قاری صاحب نے اپنا سب سے اچھا سوٹ پہنا عطر لگایا۔ہوٹل تک کا کرایہ رکشے والے نے پانچ سو روپے لیا۔مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچے تو حال خالی تھا۔اتنے میں ہوٹل کا ملازم آیا۔قاری صاحب نے پوچھا وقت تو ہو گیا پر کوئی مہمان تو کیا میزبان بھی نہیں آیا۔

قانون کے مطابق رات دس بجے کے بعد شادی فنکشن جاری نہیں رکھ سکتے۔ویٹر ہنسا اور کہا کون سا قانون کیسا قانون یہ قانون عام لوگوں کے لیے ہیں۔ قاری صاحب بڑے لوگوں کی شادیاں دیر سے شروع ہو کر رات گے ختم ہوتی ہیں۔ وقت گزرتا رہا مہمانوں سے ہال بھرتا گیا۔محفل اپنے پورے عروج پر تھی۔سیٹھ بھی آ گیا۔قاری صاحب کو دور سے ہی ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔

بے ہنگم شور و غل سے دور کاروباری معاملات پر بات کرنے کے لیے سیٹھ اپنے کسی مہمان کے ساتھ قاری صاحب کی قریبی میز کے پاس بیٹھ گیا۔اور ساتھ آے مہمان سے بولا تم کس ڈیل کی بات کر رہے تھے۔مہمان نے کہا بڑی انویسٹمینٹ ہے اور منافع تمہاری سوچ سے بھی زیادہ۔سیٹھ بولا رقم کی گارنٹی ہے تو پیسے لو اور کام شروع کرو آج کل بہت مندہ ہے بڑی مشکل سے دس پندرہ لاکھ کی دیہاڑی لگ رہی ہے۔

کچھ دیر مذید باتیں کرنے کے بعد سیٹھ کرسی سے اٹھا اور مہمان کو آنکھ مارتے ہوے کہا آو کچھ میوزک مستی ہو جائے منہ مانگی رقم اس میوزک گروپ کو دی ہے۔قاری صاحب ان کی باتیں بغور سن کر پہلے سے بھی ذیادہ مطمئن ہو گے کہ ان کی پریشانی باآسانی دور ہو جاے گی۔ آخر بارات آ گی۔بارات کا استقبال بہت دھوم دھام سے کیا۔دولہے اور اس کے قریبی رشتے داروں پر نوٹوں کی بارش کر دی۔

بے حساب نوٹ لوٹاے گے۔نکاح کے وقت بہت مشکل سے شور شرابہ کم ہوا۔قاری صاحب نے بہت خلوص دل سے نکاح پڑھایا اور اپنی پرسوز آواز میں انتہای خوبصورت دعا کروائی۔ طویل انتظار کے بعد قاری صاحب کو بھی سیٹھ کو مبارک دینے کا موقع مل گیا۔سیٹھ نے درشت لہجے میں قاری صاحب سے پوچھا نکاح پڑھوانے کے کتنے پیسے ہوئے۔قاری کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے بولے جو مرضی دے دیں۔

سیٹھ بولا اپنی فیس بتاو مرضی کو چھوڑو۔آج قاری صاحب کے اندر اتنی بڑی شادی میں پیسے کی ریل پہل دیکھ کر اور اپنی ضرورت کی وجہ سے پتہ نہیں کہاں سے کچھ زیادہ ہی ہمت آ گئی۔قاری بولا میں نے نکاح پڑھا کر حلال کام کیا ہے۔آپ نے ان میراثیوں کو ناچ گانے کے جتنے پیسے دیے ہیں ان سے دس بیس ہزار روپے کم دے دیں۔یہ سنتے ہی سیٹھ انتہائی کھردرے لہجے میں بولا۔

تمہارا دماغ ٹھیک ہے اپنا مقابلہ ان بہت بڑے فنکاروں کے ساتھ مت کرو۔ مجھے پتہ ہے تمہاری فیس پانچ سو روپے ہے۔سیٹھ نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ پانچ سو کے دو کرک نوٹ قاری صاحب کے ہاتھ میں تھمائے اور باقی تمہارا انعام کہہ کر چلا گیا۔قاری حقہ بقہ کھبی پانچ پانچ سو کے دو نوٹوں کو دیکھے کھبی میوزک گروپ کو جو ان کا منہ کالا کرنے کے لیے منہ مانگے پیسوں پر آئے۔کبھی اپنا مقابلہ میراثیوں سے کرتے ہوئے۔ سیٹھ کی امارت کو دیکھتا ہوا نم ناک آنکھوں اور مایوس ٹوٹے دل کے ساتھ ہوٹل سے چل پڑا۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-21

Your Thoughts and Comments