Rukhsati

رخصتی

احمد خان لنڈ پیر نومبر

Rukhsati
ہر طرف میک اپ سے سجے ہوئے چہرے موجودتھے۔لوگ ٹولیوں کی شکل میں کھڑے قہقے لگانے میں مصروف تھے۔اچانک ہی ڈھول کی آواز بلند ہوئی اور بچوں سمیت چند عورتوں نے دلہن کے سامنے جھومر ڈالنا شروع کردی۔جھومر دیکھ کر آخرکار بوڑھی بھی مسکرا دی۔بوڑھی عورت کے چہرے پر جگہ جگہ جھریاں پڑی ہوئی تھیں،لیکن جھریوں کے درمیان چہرے کے خدوخال سے پھر بھی جلالیت ظاہر ہوتی تھیں۔

بوڑھی بار بار مسلسل دلہن کو دیکھے جا رہی تھی۔مجمع کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر کچھ وقت کے لیے وہ رنگیں محفل میں کھو جاتی،لیکن دلہن کو دیکھتے ہی پھر سے اُس کے چہرے پر اُداسی چھا جاتی۔یکا یک ایک شور بلند ہوتا ”بارات آگئی ہے،بارات آگئی ہے“۔اس کے ساتھ ہی وقت کی رفتار بھی تیز ہوجاتی ہے۔ہر طرف سے خوشی کے گیت گائے جانے لگتے ہیں،کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔

(جاری ہے)

دلہے کی آمد پر کچھ وقت کے لیے ہر طرف شور ہی شور برپا ہوجاتا۔دلہن کی بہنیں دلہے کے ساتھ کچھ رسمی مزاح کی رسومات انجام دیتی ہیں۔ہر طرف سے قہقوں کا سیلاب امڈ آتا ہے۔وقت کی رفتار بھی تھم جاتی ہے۔بوڑھی عورت بھی اس منظر میں پر مُسرت نظر آتی ہے۔ بوڑھی کے چہرے پر کچھ قدرے اطمینان بھی نظر آتا ہے۔اچانک سے ایک مرتبہ پھر وقت کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔

بوڑھی عورت کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔آخر دلہا،دلہن کے ہمراہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور قرآن کی چھاؤں میں دلہن کا پہلا قدم اٹھتا ہے۔دلہن کا ایک ایک قدم بوڑھی کے دل پر ایک من کے برابر پڑتا ہوامحسوس ہوتا ہے اور اس کے اثرات بوڑھی کے چہرے کے خدوخال سے ظاہر ہورہے ہوتے ہیں۔عقبی دروازے پر پہنچتے ہی قرآن کی چھاؤں میں موجود دلہن ایک لمحے کو پیچھے کی جانب مڑ کر بوڑھی کو دیکھتی ہے،لیکن بوڑھی کے چہرے پرسنجیدگی اب بھی نمایاں نظر آتی ہے۔

چند ہی لمحات میں لوگوں کا جھرمٹ بھی غائب ہونا شروع ہوجاتا ہے اور گھر میں ایک بار پھر سی خاموشی چھا جاتی ہے۔گھر میں موجود بوڑھی اور اس کی آخری بیٹی اکیلے رہ جاتے ہیں۔بوڑھی اپنی بیٹی کو فوراً سو جانے کا کہہ کر خود بھی بستر پر دراز ہو جاتی ہے۔بستر پر پہنچتے ہی بوڑھی کا ضبط جواب دے جاتا ہے اور وہ آخر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی ہے۔اُسے ہر طرف اندھیرا محسوس ہوتا ہے،لیکن اچانک ہی ہوا سے کمرے کی کھڑکی کُھل جاتی ہے اور اسے دمکتا ہوا چاند نظر آتا ہے جو شاید ہر رات کے ایسے مناظر دیکھنے کے سبب خاموش ہو چکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-11

Your Thoughts and Comments