Sangh E Rah

سنگِ راہ۔۔۔۔تحریر: دیبا کپاڑیہ

پیر دسمبر

Sangh E Rah
وہ شخص اپنے سر کو ہلکا سا جھکائے چل رہا تھا، آنکھیں اپنے سامنے کی زمین کامعائنہ کر رہی تھیں اور بازو ڈھیلے ڈھالے انداز میں اس کے پہلو میں جھول رہے تھے۔گاہے گاہے وہ جھکتا، کچھ یوں کہ اس کا بایاں گھٹنا زمین سے ٹک جاتا۔وہ جھک کر زمین سے پتھر اٹھاتا ہوا کھلکھلایا۔ پتھر نے کوئی لطیفہ نہیں سنایا تھا،مزاح کی کوئی ہلکی سی رمق بھی وہاں نہیں تھی۔

ایک قطرہ برابر بھی نہیں جو کسی پیالے میں پڑ کر اسے گدگدا سکے۔ وہ ہلکی سی کھلکھلاہٹ اس وجہ سے تھی کہ وہ جانتا تھا اس کے بائیں جوتے کا سرا ہربار جھکنے پر گھسے جا رہا ہے۔ ہر بار، جب بھی وہ جھک کر راستے سے کوئی رکاوٹ ہٹاتا، اس کا بائیں جوتا انگوٹھے کے پاس رگڑ کھاتا تھا۔ اس نے پورا سیدھا کھڑاہو کر اپنے پاؤں کو دیکھا۔ جواب میں بائیں جوتے کے اس گھسے ہوئے نشان نے بھی اُسے دیکھا، جیسے کوئی معصوم بچہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا ہو۔

(جاری ہے)

حیران حیران سا!”تمہیں پتہ ہے کہ تم مجھے جان بوجھ کر گھس رہے ہو تاکہ میں کبھی اس دائیں جوتے کی طرح نہ دکھوں۔ پھر آخر کار تم مجھے پھینک دو گے اور بائیں پیر کے لیے ایک نیاجوتا خرید لو گے!“ اسے یقین تھا کہ اگر جوتا بول سکتا تو یہی کہتا۔ ”اوں ہوں! تم صحیح نہیں ہو ننھے جوتے!“ وہ بڑبڑایا اور پھر سے راستے پر ہو لیا۔”ہم نے ساتھ میں بہت وقت گزارا ہے اور ہر مشکل وقت میں تم میرے ساتھ رہے ہو۔

اتناآسان نہیں تمہیں پھینک دینا۔ تمھارا نصیب میرے ہی ساتھ ہے۔“ اس نے سوچا اور ایک قدرے بڑے پتھر کو اٹھانے کے لیے رک گیا۔وہ راستے کے کنارے رکھے ترتیب سے جمے پتھروں کے پاس جا پہنچا۔ وہ پتھر گویانگرانی کر رہے تھے۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کئی کنکر اور پتھر نکالے اورکنارے جمے پتھروں کے ڈھیر کے اوپر انہیں جمع کر دیا۔ کچھ اس طرح کہ وہ واپس راستے میں نہ لڑھک آئیں۔

یوں ہی اپنے راستے چلتے ہوئے اسے ایک بڑا پتھر ملا۔ اُسے اس راستے پر اتنا بڑاپتھر کبھی نہیں ملا تھا۔ اس نے حسبِ معمول اپنے بدن کو خم دیا اور پھر دونوں ہاتھوں سے اس پتھر کو پکڑ لیا۔مضبوط گرفت! اٹھاتے ہوئے اس کے ہاتھ پتھر کی ساخت کومحسوس کر سکتے تھے۔ وزن نے اس کے پٹھوں اور نسوں کو تان دیا تھا۔ وہ اس وزنی پتھر کو لیے چلنے لگا۔ اس وزن نے قدموں کو سست رو بنا دیا تھا۔

اس نے کسی ڈھیرکی تلاش میں نظریں دوڑائیں تاکہ اس کے ساتھ یہ بڑا پتھر رکھ سکے۔ بڑے پتھروں کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے پتھر واپس راستے میں لڑھک نہیں پاتے تھے۔ وہ یوں ہی دھیرے دھیرے چلا جا رہا تھا کہ اس نے پیچھے سے قدموں کی چاپ سنی۔ وہ رُکا اور پلٹا تاکہ دیکھ سکے اس راستے پر کون چل رہا ہے۔ وہ ایک لڑکی تھی۔ اس نے اس لڑکی کو کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اسے اندازہ تھا کہ وہ کون ہے۔

وہ لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں سوال کے ساتھ اس کے قریب آ پہنچی۔”تم نے یہ بھاری پتھر کیوں اٹھایا ہوا ہے؟“ اس نے قریب پہنچ کر سوال کیا۔”کیونکہ یہ راستے میں تھا اور مجھے اسے ہٹانا ہی چاہیے تھا تاکہ کوئی اس سے ٹھوکرنہ کھا بیٹھے، اور خدا نخواستہ گر پڑے۔ میں اس راستے کو صاف رکھتا ہوں تاکہ جوبھی اس پر چلے وہ محفوظ رہے۔“ اس نے متانت سے جواب دیا اور پلٹ کر اپنا بوجھ اٹھائے چلنے لگا۔

”تو تم نے یہ پتھر اٹھایا ہوا کیوں ہے؟ اسے کنارے پھینک کیوں نہیں دیتے تاکہ آرام سے اپنے راستے چل سکو؟“ لڑکی نے پوچھا اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔”میں دراصل پتھروں کے ڈھیر کو ڈھونڈ رہا ہوں جو میں نے پہلے سے جگہ جگہ لگارکھے ہیں۔ میں اسے ان کے ساتھ رکھ دوں گا۔“ وہ تناؤ بھری آواز میں بولا۔”کیوں نہ تم یہیں ایک نیا ڈھیر بنانا شروع کر دو تاکہ تمہیں اسے لے کر دور تک چلنا نہ پڑے۔

یہ بھاری لگ رہا ہے۔“ اس نے آگے کی سمت کچھ فٹ دور اشارہ کیا جہاں وہ پتھر آرام سے رکھا جا سکتا تھا اور وہ دوبارہ راستے میں لڑھکتا بھی نہیں۔”جب میں کسی ایسے ڈھیر کے پاس پہنچتا ہوں جو میں نے پہلے بنا رکھے ہیں، تو میں اس بڑے پتھر کو ان کے سامنے رکھ دیتا ہوں تاکہ وہ راستے میں دوبارہ لڑھک نہ سکیں۔“ وہ اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچ کر جھکا اور اس پتھر کو نصب کر دیا۔

”پتہ ہے اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو پتھروں کو درختوں میں پھینک دیتی۔ یوں وہ راستے سے بھی ہٹ جاتے اور بندے پر کوئی بوجھ بھی نہیں پڑتا۔“ وہ مزے سے بولی۔کچھ دیر خاموشی رہی۔ دونوں ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھتے رہے۔ پھر لڑکی نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور بلا توقف اس نے وہ ہاتھ تھام لیا۔ اسے خود پر حیرت ہوئی کہ وہ کسی اجنبی لڑکی کا ہاتھ تھام کر اتنا مطمئن کیسے ہے؟ اجنبی بھی وہ جسے ملے ہوئے ابھی کچھ ہی لمحے ہوئے ہوں۔

البتہ اسے لگ یوں رہا تھا جیسے وہ ایک دوسرے کو ہمیشہ سے جانتے ہوں۔ وہ کسی ایسے وقت کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھاکہ جب وہ اس راستے پر چلا ہو اور اس کا ہاتھ نہ تھامے ہوئے ہو۔اسے پتہ تھا کہ یہ عجیب ہے، یہ سوچ بھی اور یہ احساس بھی۔ لیکن وہ اس ہاتھ کوچھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ کافی عرصہ ہو چلا تھا جب اس نے کسی اور کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ پر محسوس کیا تھا۔

وہ کچھ دیر ایسے ہی خاموش چلتے رہے۔ اس نے غور کیا کہ ہر بار جب وہ کوئی پتھراٹھانے جھکتا، لڑکی کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہو جاتی تھی۔ وہ کھڑا ہوا، پتھر کو اپنی جیب میں ڈالا اور وہ دونوں پھر چل پڑے۔ جیب بھر کر کنکر اور پتھر جمع کرنے کے بعد اس نے لڑکی کو راستے کے کنارے کی طرف کھینچا، جیسے اسے ادھر چلنے کے لیے کہہ رہا ہو۔ راہ کے کنارے پہنچ کر اس نے اپنے جیب میں ہاتھ ڈال کر جمع شدہ پتھر نکالے اوراحتیاط سے پہلے سے موجود چھوٹے چھوٹے کنکروں کے ڈھیر پر ڈال دیے۔

”یہ اب جگہ سے نہیں ہلیں گے۔“ اس نے خوشی سے سوچا اور وہ دونوں پھر راستے پر ہو لیے۔”میں جب بھی کوئی پتھر اٹھانے جھکتا ہوں تو تم میرا ہاتھ اتنی سختی سے کیوں پکڑلیتی ہو؟“ اس نے آخر کار پوچھا۔ ”کیونکہ مجھے ڈر ہے کہیں تم چھوڑ نہ دو۔“ اس نے فوراً کہا، جیسے وہ اس سوال ہی کاانتظار کر رہی تھی۔ ”ویسے۔۔۔“ اس نے جھک کر اپنے نازک ہاتھوں سے ایک پتھر اٹھایا۔

”تمہیں اپنے تمغوں پر اتنا فخر کیوں ہے؟“ وہ پتھر کو درختوں کی طرف پھینکتے ہوئے پوچھنے لگی۔”کیسے تمغے؟“ وہ حیرانگی سے بولا۔”تمہارے پتھروں کے ڈھیر۔ چھوٹے چھوٹے تمغے جو تم نے اپنے راستے بھر میں سجارکھے ہیں۔“”وہ کوئی میرے تمغے نہیں ہیں۔ وہ رکاوٹیں ہیں، جو کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔روڑے ہیں جو ایک صاف ستھری راہ میں آ پڑے ہیں۔

میں صرف انہیں ہٹا کر کنارے جما دیتا ہوں تاکہ وہ واپس راستے میں نہ آ جائیں۔“”اوہ۔ اچھا!“ وہ بولی اور جھک کر ایک پتھر اٹھا لیا، کوئی کرکٹ کی گیند جتنا بڑا پتھر۔”کیا تم اسے اپنی جیب میں ڈالو گے تاکہ اپنے کسی ڈھیر پر رکھ سکو؟“ لڑکی نے پتھراس کی طرف بڑھایا۔ ”بالکل نہیں! میں اسے ہاتھ میں لیے رکھوں گا، حتی کہ کوئی ڈھیر آ جائے۔“ اس نے جواب دیا۔

”تم دوسرے پتھر کیسے اٹھاؤ گے؟ کیونکہ میں تو تمہارا ہاتھ چھوڑنے والی نہیں۔ اگر تین اور اسی حجم کے پتھر مل گئے تو کیا کرو گے؟ ایک ہی ہاتھ ہوگا جس میں پہلے ہی تم نے یہ پتھر پکڑا ہوگا۔“ لڑکی نے اس کے ہاتھ کو ہلکا سا دبایا اور اس کے جواب کاانتظار کرنے لگی۔ ”میں تم سے مدد کی درخواست کروں گا۔“ اس نے آرام سے کہا۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا دیے۔

لڑکی اس کے جواب سے خوش دکھائی دیتی تھی۔ وہ خود حیران تھا کہ وہ مدد مانگنے پر رضامند تھا۔وہ چلتے رہے۔ دفعتا لڑکی بولی۔”تم نے اب بھی میرا جواب نہیں دیا۔ تم انہیں درختوں میں کیوں نہیں پھینک دیتے؟ میں اگر پتھر اٹھاتی تو یہی کرتی۔“وہ کچھ نہیں بولا۔ دونوں ہاتھ میں ہاتھ دیے چلتے چلتے ایک چٹان تک پہنچے جس نے وہ راستہ روک رکھا تھا۔ وہ پلٹا اور چٹان سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔

ساتھ ہی لڑکی کو بھی اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائے۔ ”اگر تم برا نہ مانو تو میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ منٹ میرے ساتھ یہاں بیٹھو۔“ وہ دھیرے سے بولا۔ ”راستے کو دیکھتے رہو۔ دیکھو کیا ہوتا ہے۔“”تمہارے پتھروں کے ڈھیر۔ چھوٹے چھوٹے تمغے جو تم نے اپنے راستے بھر میں سجارکھے ہیں۔“”وہ کوئی میرے تمغے نہیں ہیں۔ وہ رکاوٹیں ہیں، جو کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

روڑے ہیں جو ایک صاف ستھری راہ میں آ پڑے ہیں۔ میں صرف انہیں ہٹا کر کنارے جما دیتا ہوں تاکہ وہ واپس راستے میں نہ آ جائیں۔“ ”اوہ۔ اچھا!“ وہ بولی اور جھک کر ایک پتھر اٹھا لیا، کوئی کرکٹ کی گیند جتنا بڑا پتھر۔”کیا تم اسے اپنی جیب میں ڈالو گے تاکہ اپنے کسی ڈھیر پر رکھ سکو؟“ لڑکی نے پتھراس کی طرف بڑھایا۔ ”بالکل نہیں! میں اسے ہاتھ میں لیے رکھوں گا، حتی کہ کوئی ڈھیر آ جائے۔

“ اس نے جواب دیا۔”تم دوسرے پتھر کیسے اٹھاؤ گے؟ کیونکہ میں تو تمہارا ہاتھ چھوڑنے والی نہیں۔ اگر تین اور اسی حجم کے پتھر مل گئے تو کیا کرو گے؟ ایک ہی ہاتھ ہوگا جس میں پہلے ہی تم نے یہ پتھر پکڑا ہوگا۔“ لڑکی نے اس کے ہاتھ کو ہلکا سا دبایا اور اس کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔ ”میں تم سے مدد کی درخواست کروں گا۔“ اس نے آرام سے کہا۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا دیے۔

لڑکی اس کے جواب سے خوش دکھائی دیتی تھی۔ وہ خود حیران تھا کہ وہ مدد مانگنے پر رضامند تھا۔وہ چلتے رہے۔ دفعتا لڑکی بولی۔”تم نے اب بھی میرا جواب نہیں دیا۔ تم انہیں درختوں میں کیوں نہیں پھینک دیتے؟ میں اگر پتھر اٹھاتی تو یہی کرتی۔“وہ کچھ نہیں بولا۔ دونوں ہاتھ میں ہاتھ دیے چلتے چلتے ایک چٹان تک پہنچے جس نے وہ راستہ روک رکھا تھا۔وہ پلٹا اور چٹان سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔

ساتھ ہی لڑکی کو بھی اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائے۔ ”اگر تم برا نہ مانو تو میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ منٹ میرے ساتھ یہاں بیٹھو۔“ وہ دھیرے سے بولا۔ ”راستے کو دیکھتے رہو۔ دیکھو کیا ہوتا ہے۔“ اچانک ایک پتھر درختوں سے ہوتا ہوا اس راستے پرآ گرا۔ پھر دوسرا۔ یکے بعد دیگرے چھوٹے بڑے ہر حجم کے پتھر آ کر ٹھن ٹھن گرتے رہے اور اس کے راستے میں لڑھکتے رہے۔

”یہ۔۔۔ یہ کہاں سے آ رہے ہیں؟“ لڑکی نے حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے پوچھا۔”دراصل۔۔۔ درختوں کا یہ سلسلہ اس جیسے راستوں سے بھرا پڑا ہے۔ کئی راہیں ہیں۔ کچھ راہیں ایک دوسرے کو قطع کرتی ہیں، کچھ ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔۔۔ اور کچھ قریب بھی نہیں آتیں۔ یہ کنکر، پتھر اور چٹانیں دوسرے راستوں سے ادھر پھینکے جا رہے ہیں۔“اس نے ایک چھوٹا سا گول کنکر اٹھایا، اپنی انگلیوں کے درمیان اسے بے چینی سے مسلتا ہوا گویا ہوا۔

”بہت عرصہ ہو گیا جب میں کسی کے ساتھ اس راستے پر چلا ہوں۔ ایسے موقعے بھی آئے ہیں جب یہ پھینکے گئے پتھر مجھے آ لگے ہیں۔ میں دوسروں پر بھروسا نہیں کرسکتا۔ میں ان سے یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ بھی دوسروں کے بارے میں ویسا ہی سوچیں جیسے میں سوچتا ہوں۔ اس لیے، میں انہیں اٹھاتا ہوں اور اپنے راستے کے کنارے ڈھیرکر دیتا ہوں تاکہ وہ کسی اور پر پھینکے نہ جا سکیں۔

“اس نے انگلیوں کے بیچ دبا کنکر اپنے پہلے سے بنائے ایک چھوٹے سے ڈھیر پر رکھ دیا۔ ”میں جانتا ہوں لوگ میری طرح نہیں سوچتے۔ مجھے توقع بھی نہیں۔ میں جانتا ہوں وہ لوگ ایسے ہی اپنے پتھر پھینکتے رہیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے دوسروں کی پھینکے گئے کچرے سے چوٹ پہنچتی رہے گی۔ لیکن میں ان کے ساتھ ویسا نہیں کرسکتا۔“اس نے پلٹ کر لڑکی کو دیکھا، پھر آہستہ سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور خاموشی سے بہت دیر اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔

”میں اس بڑی چٹان کو ہٹانے والا ہوں جس سے ہم ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ اس کی دوسری جانب بہت خوبصورت دنیا ہے۔ ایک چھوٹی سے جنت۔ میں نے اسے اپنا مقصدبنانے کے لیے بہت محنت کی ہے۔ جب میں اس کی دوسری جانب ہوتا تھا، اس راستے پر چلتا تھا، یوں ہی پتھروں کو کنارے ڈھیر کرتا رہتا تھا۔ حتی کہ ڈھیر ایک دوسر ے سے مل مل کر ایک خوبصورت دیوار بنا گئے۔اس کے آگے ساحل کا دل لبھاتا منظر،اٹھلاتی لہریں۔

ایک بہت پیاری جگہ۔ آخری بار جس کے ساتھ میں نے یہ راستہ طے کیاتھا، اس نے یہ چٹان یہاں رکھ دی تھی۔ اس کا فیصلہ تھا کہ وہ دوسری راہوں پر چلناچاہتی ہے۔ اس کے بعد سے میں چٹان کے اس طرف نہیں جا سکا، اور آج سے پہلے مجھے اس کو راستے سے ہٹانے کی تمنا بھی نہیں ہوئی۔“وہ اٹھ کھڑا ہوا اور لڑکی کو کھڑا ہونے میں اس کی مدد کی۔ آہستہ سے لڑکی کے ہاتھوں کو چھوڑتے ہوئے اس نے اپنے دونوں ہاتھ چٹان کے ایک کونے پر رکھ دیے۔

”کیا تم میری مدد کرو گی؟“وہ مسکرائی اور اپنے دونوں ہاتھ چٹان ر رکھ دیے۔ دونوں نے مل کر چٹان کو ڈھکیلناشروع کر دیا۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔ اس نے پہلے کبھی خود کو اتنا طاقتور، اتنا خوش محسوس نہیں کیاتھا۔ زندگی جیسے اس کی رگوں میں دوڑنے لگی تھی۔ چٹان ہل رہی تھی۔ بہت آہستہ،لیکن وہ راستے سے کھسکنے لگی تھی۔پھر اچانک وہ رک گئی۔لڑکی نے اپنے ہاتھ چٹان پر سے ہٹا لیے تھے اور پیچھے کو مڑ گئی تھی۔

”تمہیں چوٹ تو نہیں لگی؟ کیا ہوا؟“ اس نے تیزی سے پوچھا۔”نہیں نہیں، کچھ نہیں ہوا۔ میں بس ان راہوں اور ان پر چلنے والے لوگوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ان کے پتھر تمہارے راستے پر آنے کا مطلب یہی تو ہوا کہ وہ وہ اسے بہت زور سے پھینک رہے ہوں گے۔ کتنا دلچسپ ہوگا انہیں دیکھنا، کیا وہ ہر بار انہیں اسی طرح اور اسی شدت سے پھینکتے ہیں؟“ لڑکی نے اس سے ایک قدم دور ہوتے ہوئے کہا۔

”تمہیں یہ جان کر کیا ملے گا کہ وہ پتھر کیسے پھینکتے ہیں؟ اور پھر اس سے ان کی حوصلہ افزائی بھی تو ہوگی۔ ہم نتیجہ تو دیکھ ہی سکتے ہیں۔“ اس نے راستے میں پڑے پتھروں کی طرف اشارہ کیا۔ ”وہ فقط دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں، ان کے لیے مسئلہ بنتے ہیں۔“ وہ واپس چٹان کی طرف پلٹ پڑا اور اپنے ہاتھ اس پر رکھ دیے۔ ”میرے خیال میں تھوڑی سی مزید کوشش سے یہ چٹان راہ سے ہٹ جائے گی۔

“اس نے اپنے پورے بدن کا بھار اس چٹان پر ڈال دیا۔ اسے لڑکی کا ہاتھ اپنی پیٹھ پرمحسوس ہوا۔ اس کا حوصلہ بڑھا کہ وہ اب بھی اس کے ساتھ ہے۔چٹان تھوڑا تھوڑا کر کے راستے سے ہٹ رہی تھی۔پھر اس کی پشت سے ہاتھ کا احساس غائب ہو گیا۔وہ ایک بار پھر رک گیا اور پیچھا پلٹا۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی ایک دوسری راہ کی طرف جا رہی ہے۔ ”تم میرے ساتھ نہیں آنا چاہتیں؟“ اس نے پوچھا۔

”یہ راستہ بالکل صاف ہے۔ آرام کرنے کے لیے بہت خوبصورت جگہ ہے، بالکل اس چٹان کے پیچھے۔“ وہ بولا۔ آنسو کا ایک قطرہ اس کی آنکھ سے نکل کے گال پر بہنے لگا۔”تم نے جو دنیا سجائی ہے وہ شاید اس سے بھی بہت خوبصورت ہوگی جتنی تم نے بتائی ہے۔“ لڑکی پیچھے پلٹ کر بولی۔ ”مگر میں انہیں پتھر پھینکتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔“”لیکن تمہیں چوٹ لگ جائے گی۔

انہیں پرواہ نہیں ہے، نہ تمہاری نہ کسی اور کی۔ وہ صرف پتھر پھینکتے ہیں تاکہ بعد میں شیخی بگھار سکیں کہ انہیں درختوں میں پتھرپھینکنا آتا ہے۔ اگر ان کے نفس کی تسکین ہو رہی ہو تو وہ کسی اور چیز کی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔“ وہ بولا۔لڑکی اب تک واپس پلٹ چکی تھی۔”مجھے امید ہے تم اس چٹان کو ہٹا لو گے۔“ وہ پیچھے دیکھے بغیر بولی اور پھر آگے کے موڑ پر پہنچ کر دوسرے راستے پر ہو لی۔

وہ پلٹا اور چٹان کے کنارے سے جھانکنے لگا۔ جتنی چٹان اس نے ہٹائی تھی اس سے ایک درز سا بن گیا تھا جس سے دوسری جانب کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ اس نے دیکھاکہ سورج کی شعاعیں پانی سے ٹکرا ٹکرا کر واپس جا رہی ہیں۔ موجیں اٹھ اٹھ کر ساحل تک آ رہی ہیں۔ موجوں کا شور کسی موسیقی کی طرح تھا۔ دو درختوں کے درمیان بندھاجھولا ساحل کی ٹھنڈی ہوا میں ہل رہا تھا، جیسے اس کی طرف ہاتھ ہلا رہا ہو۔

یہ اس کی منزل تھی۔ کچھ ایسا جو وہ دوسروں سے بانٹنا چاہتا تھا۔ جو اسے بانٹنے کی ضرورت تھی۔ اب اس کے دل میں دوسروں کو حصے دار بنانے کی خواہش دم توڑ چکی تھی۔ وہ تھک چکا تھا۔ وہ مضمحل تھا، کسی پرانے گھسے ہوئے جوتے کی طرح۔اسے اپنا آپ بے وقوف لگا۔ پتہ نہیں اسے کیوں لگا تھا کہ اسے کوئی ایسا مل گیا ہے جواس کی ساجھے داری کی خواہش کو سراہے گا۔

کوئی ایسا جو اس کے ساتھ نئے خواب بُنے گا۔اپنی پیٹھ اس سرد چٹان سے ٹکاتے ہی اُسے لگا جیسے چٹان کی جسامت بڑھ گئی ہو۔اس نے اپنا سر جھکایا اور واپس اوپر اپنے راستے چل پڑا۔وہ رکا اور ایک ابھی ابھی پھینکے گئے پتھر کو اٹھایا۔ ابھی وہ پتھر اٹھا کر اسے جیب میں رکھنے ہی والا تھا کہ ایک دوسرا پتھر زن سے آیا اور اس کے سینے کی بائیں جانب آ لگا۔ اس نے درختوں کے پار دو لوگوں کے ہنسنے کی آواز سنی۔ پھر پتھرپھینکنے والے کو شاباش دی گئی کہ وہ کتنی دور پتھر پھینکتا ہے۔اس نے سینے کا وہ حصہ مسلا جہاں وہ پتھر آ لگا تھا۔ ٹھیک اس کے دل کی جگہ پر۔اس نے جھک کر اپنے سینے سے ٹکرا کر گرنے والا پتھر اٹھایا، اسے جیب میں ڈالااور پھر اسی راہ چل پڑا۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-02

Your Thoughts and Comments