Aitmad Se Yaqeen Tak

کتاب:- اعتماد سے یقین تک

جمعہ نومبر

Aitmad Se Yaqeen Tak
یاسمین
اعتماد ویقین کے درمیان جہانگیر قیاس
”اعتماد“ میں یقین رکھنے والے قیاس
(جہانگیر قیاس)
جہانگیر قیاس نے بہ حیثیت ایک اچھے شاعر اور نثر نگار مقبولیت حاصل کر لی ہے۔اردو ادب میں وہ ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ایسے مضامین تحریر کیے جو سماج پر طنز بھی ہیں اور نصیحت کے تناظر میں بہترین۔

انھوں نے اپنے مضامین میں موجودہ معاشرہ اور اس کے مخصوص رشتے کا اثر قبول کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔شاعر /مصنف سے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ وہ بہت حساس ہوتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شعر میں وہ حالات کی پر زور طریقہ سے عکاسی کر جاتاہے۔

(جاری ہے)

اس کی حساسیت سے بہت سے غیر اہم موضوع اہم ہوجاتے ہیں۔ جہانگیر قیاس نے اپنے مضامین میں اسی حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے اور ناصحانہ انداز میں بہت سی باتیں کیں۔


یہاں پر مصنف کے متعلق اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ان کا تعلق محکمہ پولیس سے تھااور اعلی عہدے پر فائز تھے۔ انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن بھی کیا ہے۔ جہانگیر قیاس نے اپنے تمام مضامین میں موضوع کو فنکاری کے ساتھ برتتے ہوئے معاشرے کے لئے اپنی تخلیق کی افادیت پر بھی نظر رکھی ہے۔ ''اعتماد سے یقین تک'' دراصل ایسے مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف النوع معاملات پر مشتمل ہے ۔

انھوں نے مختلف اوقات میں لکھتے ہوئے اپنے تاثرات کو بہتر طریقے سے پیش کیا ہے۔ جس کا اندازہ ان کے تحریر کردہ مضامین سے لگایا جاسکتا ہے۔ان کے مضامین مندرجہ ذیل ہیں:
(1)دعوت توشہ (2)سیل فون (3)دو وقتیہ ولیمہ (4)اعتماد سے یقین تک (5)مفت ہوئے بدنام (6)کیوں کہ اس میں رسک ہے(7)کیا خود نمائی انسانی کمزوری ہے (8)حکمت (9)دو بول (10)ایک بھکاری سے انٹرویو (11)اب کون سنے گا اپنی بات (12)اچانک (13)تیرا تودیکھ (14)یہ کھڑکی جو بند رہتی ہے (15)کہیں تو آسماں سے ستارے توڑ لائیں (16)جو بویا وہ پایا (17)کالی ڈوری (18)علاج چاہئے یا برتاؤ(19) اختلاف سے انتشار تک (20)کرایہ واڑہ (21)بستر مرگ وغیرہ...
جہانگیر قیاس کے ان مضامین کا اجمالی جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے قلم میں روانی ہے۔

ہر اقتباس میں وہ تسلسل برقرار رکتھے ہیں۔ کہیں کہیں مضامین میں افسانہ نگاری کا انداز بھی جھلکتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ افسانوی طرز تحریر کو بات کہنے کے لیے اپنایا ہے۔جہانگیر قیاس کی یہ نثری کاوشیں نثر نگاری کی حیثیت سے ادب کی دنیا میں اہمیت کی حامل ہیں۔
اس مجموعے میں جہانگیر قیاس نے جتنے بھی مضامین یکجا کیے، وہ یقینا بہت پر اثر اور قلب وذہن کو جھنجھوڑ دینے والے ہیں۔

ان مضامین کو پڑھنے سے سماج کے ہرفرد کو اپنی ذمے داری یاد آجاتی ہے۔ اس میں موجود کچھ مضامین مختلف اخبارات وغیرہ میں شائع ہوچکے ہیں جو اب یکجا کرکے کتابی شکل دی گئی ہے۔ ان کے ان مضامین میں بیانیہ اور آپ بیتی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔
عموماً آپ بیتی میں یادیں اور واقعات کہانی کی بنیاد بنتے ہیں۔ ان کے مضامین کی فضاء مصنوعی نہیں حقیقی معلوم ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنے ان مضامین میں تمام تاریک اور روشن پہلوؤں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔کئی اعتبار سے ان کے مضامین دلچسپ ہیں۔ بہت سے سوالات اٹھاتے ہیں۔ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔لوگوں کی آزادی کے طرف دار بھی ہیں :
جو جس طرح سے جیتا ہے اس کو جینے دو
نہیں ہے حق ہمیں اوروں پہ حق جتانے کا
(جہانگیر قیاس)
ان کے مضامین کا امتیازی پہلو رواں دواں اور شائستہ نثری اسلوب ہے جس میں چستی ہی نہیں تہہ داری اور تنوع بھی ہے۔

قاری جیسے جیسے یہ مضامین پڑھتا جاتا ہے، اس پر حقائق واضح ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جہانگیر قیاس اپنے مضامین میں عورتوں کی نفسیات کی ترجمانی جس با کمال طریقے سے کرتے ہیں وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔انہوں نے موجودہ معاشرے اور روز مرہ کے لمحات کو دلکش ادبی تناظر میں پیش کیا ہے۔ ان کا کمال یہ بھی ہے کہ نچلے طبقے کے کردار ان کے قلم کے اشاروں پر حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔

قصے کا تانا بانا حیدر آبادی تہذیب سے تیار کیا گیا ہے۔
سماج کے تئیں ہماری کیا ذمے د اری ہے اور سماج میں پھیلنے والی خرابیوں کا کس طرح سد باب کیا جاسکتا ہے، ان حوالوں سے اس مجموعے میں اچھی بحث کی گئی ہے۔ ان کے مضامین کی نوعیت مختلف ہے۔ زبان کا مسئلہ بھی دل چسپ ہے۔ انھوں نے حالات حاضرہ پر طنز بھی کیا ہے۔ لوگوں کو سوچنے پر مجبور بھی کیا ہے۔

اس لیے یہ کہنے میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر قیاس اپنے منصوبے میں کامیاب ہیں اور ان کے مضامین سے لوگ خاطر خواہ فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ ان مضامین پر زیادہ کچھ نہ کہتے ہوئے ''اعتماد سے یقین تک'' مضمون کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
''میرے بچے اپنے کئے پر شرمندہ تھے ان کو جو نظر آرہا تھا وہ اس کو حقیقت سمجھ رہے تھے مگر حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے۔

باپ کو اگر بگڑنا ہوتا تو اتنی طویل زندگی میں بگڑ گیا ہوتا اور تم جوانی تک نہی پہنچ سکتے تھے۔ایک لمبا عرصہ تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کے بعد صرف باپ کا رشتہ اعتماد کا ہی رہا میری آنکھوں میں آنسو آگئے جس نے ساری زندگی خون پسینہ کرکے گھر کی ساری ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کاٹی اب آخری پڑاؤ پر ہے تو اس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہو۔تمہیں یہ اختیار کس نے دیا''
(ص41)
بہرحال ہر مضمون میں اس طرح کے کئی ایک اشارے مل جاتے ہیں جن سے آپسی رشتوں میں محبت اور سماج میں فلاح وبہبودی کا جزبہ پروان چڑھتا دکھائی دیتا ہے۔


عنوان کے متعلق ''مجھے کچھ کہنا ہے''میں جہانگیر قیاس لکھتے ہیں:
''جہاں تک میرے اس نثری مجموعہ'' اعتماد سے یقین تک ''کا تعلق ہے، تجویز اس لئے کیا ہے کہ ایک چھوٹے لڑکے نے اپنے باپ سے سوال کیا، بابا ماسٹر صاحب پوچھ رہے ہیں کہ یقین اور اعتماد میں کیا فرق ہے۔تو والد نے کہا بیٹا تم میرے بیٹے ہو بچے نے کہا ہاں!یہ اعتماد ہے۔اور تم اپنی ممی کے بھی بیٹے ہو، ہاں!، یہ یقین ہے۔

جب میرے پاس کوئی شکایت آتی ہے، میں اس پر اعتماد کرتا ہوں اور جب تحقیقات کے ایک طویل سفر کے بعد جب حقیقت سامنے آتی ہے تو میں یقین کو پہنچ جاتا ہوں۔اس طرح اعتماد اور یقین کے اس چھوٹے سے فرق کو اُجاگر کرنے کے لئے میرا یہ مضمون ''اعتماد سے یقین تک'' اس کتاب میں شامل ہے اور وہی اس مجموعہ مضامین کو ''اعتماد سے یقین تک'' سے معنون کرنے میں میرا پیش نظر ہے۔

''
(ص20,21)
جنتے مضامین کا میں نے مطالعہ کیا ، ان کی روشنی میں بہت سے باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے نئے نئے مسائل کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ یہاں پر میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گی کہ جہانگیر قیاس کا شعرو ادب سے گہرا تعلق ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہے۔ ان کے قلم میں روانی ہے۔ تسلسل ہے۔میں امید کرسکتی ہوں کہ ان کے مضامین پڑھنے کے بعد لوگ سماجی برائیوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔

بہت سی برائیوں کا سدباب کریں گے۔ ان کے مضامین میں بھلائی کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ خیر خواہی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ سماج میں اصلاحی منظرنامہ قائم ہوتا ہوا نظرآتاہے۔
جہانگیر قیاس صاحب کو اس نثری تصنیف پر مبارکباد پیش کرتی ہوں اور ساتھ ہی دعا کرتی ہوں کہ اللہ آپ کے قلم میں مزید زور پیدا کرے، تاکہ سماج میں پھیلی تاریکی میں روشنی پیدا ہوجائے۔ (آمین)اس کتاب میں موجود ایک شعر پر اپنی تحریر ختم کرنا چاہوگی:
نہی تھا سیکھناآساں بڑی مشکل سے سیکھے ہیں
جو کچھ تھوڑا سا سیکھے ہیں بہت کچھ کھو کے سیکھے ہیں
(بہادر شاہ ظفر)
تاریخ اشاعت: 2020-11-13

Your Thoughts and Comments