Jasarat Khayali

جسارت خیالی،غالب کی زمین میں

محمد ثقلین کانجن پیر نومبر

Jasarat Khayali
شاعری انسانی نفسیات،خیالات،واردات اور کیفیات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنے کا نام ہے۔یوں تو شاعری کی ہر صنف کی اپنی اہمیت ہے،لیکن نقاد شاعر کو اس وقت تک شاعر نہیں مانتے،جب تک وہ غزل پر طبع آزمائی نہ کرے۔غزل شاعری کی سب سے پرکشش و پرتحسین صنف ہے۔جس میں محبوب کے ناز ونیاز،فطرت کے حسین مناظر اور انسانی نفسیات میں موجود پیار و محبت کے علاوہ معاشرتی نابرابری و ناانصافی کے موضوع پر شاعر قلم آزمائی کرتے ہیں۔

اردو شاعری کے ابتدائی ادوار میں غزل کا موضوع محبوب و رومانویت کے گرد گھومتا تھا،لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اردو غزل میں جدت آتی گئی،اور غزل میں وسعت پیدا ہوئی تو اس کے عنوان میں فلاسفہ اور نفسیات بھی شامل ہو گئے۔جب انیسویں صدی میں کارل مارکس نے معاشرتی نابرابری،سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اپنی آواز بلند کی تو اردو شاعری میں بھی اس کی جھلک دیکھنے کو ملی اور فیض، جالب اور احمد فراز کے علاوہ دیگر شعراء مارکس کے ہم آواز اور ہمنوا بن گئے۔

(جاری ہے)

اس طرح جب سگمنڈ فرائد نے نظریہ شخصیت، تحلیل نفسی بیان کیا اور اس نے کہا کہ محبت انسانی خصلت میں موجود ہے۔ہر کسی کو محبت کا مرض لاحق ہوتا ہے۔تو اس نظریےسے پہلے اردو شعری میں اس موضوع پر لکھا جا رہا تھا۔اور اب بھی ان موضوعات پر لکھا جا رہا ہے۔جو ہمارے معاشرے اور انسانی نفسیات کا حصہ ہیں۔ہر شاعر اپنے مزاج اور خیال کے مطابق شعر کہتا ہے۔

ہر شاعر کا مقصد معاشرے میں پیار و امن کا قیام اور ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ہوتا ہے۔یوں ہر نیا شعری مجموعے کا استقبال اس امید سے کرتا ہوں کہ یہ معاشرے میں امن کا درس اور شعور کی روشنی کے چراغوں کو روشن کرے گا۔ایسا ہی ایک شعری مجموعے،"غالب کے نقش قدم پر" میرے ہاتھوں میں ہے۔اس شعری مجموعے کے تخلیق کار جسارت خیالی ہیں۔جن کا تعلق لیہ کی دھرتی سے ہے۔

جنھوں نے اردو ادب کے بڑے نام ڈاکٹر خیال امروہوی سے شاعری کی باریکی بینوں کو سیکھا،بلکہ یوں کہہ لیجیئے کہ جسارت خیالی نے سیاسی عدم استحکام،معاشرتی ناانصافیوں اور ظالم کے خلاف جہاد کرنا،اپنے استاد خیال امروہوی صاحب سے سیکھا اور آج تک ایسے موضوعات پر لکھ رہے ہیں،جن پر کم شعراء قلم اٹھاتے ہیں۔جسارت خیالی سے میری ذاتی طور پر جانکاری نہیں ہے۔

ان کا شعری مجموعہ میرے رفیق اور محسن مقبول ذکی مقبول کے توسعت سے مجھ تک پہنچا ہے۔خیالی صاحب کی شاعری پڑھ کر مجھے محسوس ہوتا ہے۔آپ باغی ہیں۔آپ حبس ذدہ معاشرتی نظام،کرپٹ سیاسی نظام،کلاس سسٹم کی نابرابری اور ناانصافی سے باغی ہیں۔یوں آپ جہاد بالقلم سے ان معاشرتی برائیوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔مجھے امید ہے،آپ کی شخصیت عملی طور پر بھی ایسے سارے نظام کے خلاف ہو گی،جو آپ کی مزاحمتی شاعری میں نظر آتا ہے۔

شاید میں کچھ غلط بھی نہ ہوں،کیونکہ انگلش فلاسفی برینڈررسل کے مطابق،شاعری انسانی شعور اور لاشعور کے ملاپ سے پھوٹتی ہے۔اور انسانی لاشعور میں وہ کچھ چلتا ہے،جس کے بارے میں انسانی دماغ زیادہ سوچتا ہے۔یوں آپ کسی سنجیدہ لکھاری کی لکھت سے اس کی شخصیت کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔اب اگر ہم جسارت خیالی کے تازہ شعری مجموعے،"غالب کے نقش قدم پر" کا ادبی جائزہ لیں،تو جیسا کہ نام سے ظاہر ہے،اس مجموعے میں جسارت خیالی کی غالب کی زمین میں پچاس کے قریب غزلیں شامل ہیں ۔

کسی شاعر کےلئے بڑی سعادت مندی کی بات ہے،کہ اس نے غالب کی زمین میں پورا شعری مجموعہ کہہ ڈالا ہے۔جو شاعر کی ادبی مہارت اور شاعری سے گہری وابستگی و جانکاری کو ظاہر کرتا ہے۔جسارت خیالی کے شعر غالب کے شعر کے ساتھ:
قطع کیجیے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عدوات ہی سہی ( غالب)
ہم کو آتا ہے خوشی سے جینا
گر نہیں سکھ تو مصیبت ہی سہی (جسارت خیالی)
یہ جسارت خیالی کا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔

اس قبل آپ کے شعری مجوعے،شعاع فردا اور سطوت حرف ادبی منظر نامے پر آ چکے ہیں۔"غالب کے نقش قدم پر" کا شعری مجموعہ جولائی 2020ء میں رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی والوں نے شائع کیا ہے۔اس پر ڈاکٹر اختر ہاشمی،شاعر علی شاعر،محمود اختر خان،اختر سعیدی اور اکرم کنجاہی کے تاثرات شامل ہیں۔ان نقادوں نے شاعر کی کاوش کو خوب سرا ہے۔شاعر کے عنوان غزل پر کا تذکرہ پہلے کر چکا ہوں،کہ شاعر نے سنجیدہ اور اہم نوعیت کے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔

خیالی صاحب کے اشعار محض وقتی تسکین یا وقت گزاری کےلئے نہیں ہیں،بلکہ آپ کے اشعار گہرائی سے بھرپور اور سوئے ضمیر کو جگانے والے ہیں۔ان کے چند اشعار پر غور کیجیے:
نہ بے آس ہوتے پنچھی،نہ یہ گھونسلے اجڑتے
کہ چمن سے باغباں کو جو اگرچہ پیار ہوتا
لاشوں کی سیاست کا چلن عام ہوا ہے
جس گھر کو بھی دیکھا وہی مقتل ہی بنا ہے
حصار جبر میں جذبے تمہارے ہی تو کم نکلے
بغاوت کا علم لے کر مگر پھر بھی تو ہم نکلے
میں کوئی جسارت خیالی کے بارے بانگ و بالا دعوی نہیں کرتا،لیکن جسارت خیالی کےلئے اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ آپ نے غالب کی زمین میں پورا شعری مجموعہ لکھ ڈالا ہے،سرائیکی کے سرخیل اقبال سوکڑی صاحب کی شخصیت و فن پر کتاب لکھ چکے ہیں،خیال امروہوی کی خود نوشت مرتب کر چکے ہیں،سہ ماہی ادبی مجلہ کے ایڈیڑ ہیں،تین شعری مجموعوں کے خالق ہیں،تدکرہ شعرائے تونسہ جیسے وسیع موضوع پر عرق ریزی کرکے اسے منظر عام پر لا چکے ہیں اور ان کی تنقیدی مضامین پر مشتمل نقد سخن کے نام سے کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔

یہ جسارت خیالی کا ادبی کام ہے،جو آپ جہد مسلسل،سنجیدگی اور نیک نیتی سے سر انجام دے چکے ہیں۔یہی آپ کے بڑا ہونے اور آپ کی ناموری کےلئے کافی ہے۔کوئی بھی ہو،کسی بھی میدان کا ہو، وہ جب سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام کرتا ہے۔تو وہ قرآنی آیت،"انسان کےلئے وہی کچھ ہے،جس کی وہ محنت کرتا ہے" کا مصداق ہو جاتا ہے،جو اس بندے کےلئے ناموری اور خوش بختی کا سبب بنتی ہے۔غالب کے میدان میں غزلیں کہنا اور غالب کا اتباع کوئی آسان کام نہیں تھا،لیکن جسارت خیالی نے اس کو سر انجام دیا ہے۔محترم جسارت خیالی کو خوب صورت شعری مجموعے پر مبارکباد۔
خدا کرے زور قلم زیادہ
تاریخ اشاعت: 2020-11-16

Your Thoughts and Comments