Nagar Nagar Ik Nazar Per Aik Tairana Nazar

”نگر نگر اِک نظر“ پر ایک طائرانہ نظر

ہفتہ 21 اگست 2021

Nagar Nagar Ik Nazar Per Aik Tairana Nazar
ڈاکٹر علی محمد خاں۔پروفیسر آف اردو (ریٹائرڈ) ایف سی کالج، یونیورسٹی، لاہور
”نگر نگر اِک نظر“ ہمارے عزیز ِمکرّم عامر بن علی کے دو سفرناموں : ”آج کا جاپان“ اور ”جہاں گردی“ کے بعد تیسرا سفرنامہ ہے اور جس عجلت و سُرعت سے وہ سفر اختیار کرتے اور حالاتِ سفر ضابطہٴ تحریر میں لاتے ہیں، اس کے پیشِ نظر عین ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں ان کا چوتھا سفرنامہ بھی ہمارے ہاتھوں میں ہو۔

دراصل تلوّن ، تحرّک اور سیروسیاحت ابتدائے تاریخ ہی سے انسانی فطرت اور سرشت کا لازمی حصّہ رہا ہے۔ خصوصاً یہ ہر پڑھے لکھے انسان کی جبلّت میں داخل ہے کہ وہ کرّہٴ ارض کے مختلف ملکوں میں بسنے والے انسانوں کے بارے میں واقفیت حاصل کرنے، ان کی تہذیب اور رسوم و روایات اور فنّی و تکنیکی مہارتوں کے بارے میں جاننے اور پہاڑوں، سنگلاخ چٹانوں، مرغزاروں، ہموار میدانوں، جنگلوں، ویرانوں، صحراؤں، دریاؤں، آبشاروں اور عجائبات کی صورت میں خالقِ کائنات کی صنّاعی کے نمونوں کو دیکھنے کے لیے ہر دم سرگرداں رہتا ہے تاکہ اپنے جذبہٴ تجسس و تحیّر کی تسکین کا سامان فراہم کر سکے۔

(جاری ہے)

پھر ایک مسلمان کے لیے تو سیر و سیاحت کا خدائی حکم بھی ہے، جس کی بجا آوری میں وہ اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
”(اے نبیe) آپ ان سے کہہ دیجیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا اور پھر وہی دوسری بار اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر شے پر قادر ہے۔“
اس کے علاوہ بھی قرآنِ حکیم میں متعدد مقامات پر روئے زمین کا مطالعہ و مشاہدہ کرنے کا حکم ہوا ہے غالباً یہی سبب ہے کہ چوپانی (بھیڑ بکریاں چرانا) لازمہٴ نبوّت رہا ہے۔

شاید اس کے پس منظر میں باری تعالیٰ کی یہ حکمت کارفرما رہی ہو گی کہ اس کے انبیا اگر آبادی سے نکل کر کشادہ جگہوں میں چلیں پھریں گے تو ان میں وسعتِ نظری یعنی دور دور تک دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ بعثتِ رسولe کے بعد مسلمانوں کا بالعموم یہ وتیرہ رہا کہ انھوں نے چار دانگِ عالم میں دور دراز کا سفر کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا۔


علامہ شبلی نعمانی قرونِ وسطیٰ کے مسلمانوں کی تعلیم و تعلّم کے احوال میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ قرونِ وسطیٰ کے مسلمان اس شخص کو بڑی حیرت کی نظروں سے دیکھتے تھے، جس نے دور دراز کے سفر تو کیے نہیں مگر وہ شخص عالم و فاضل کہلاتا ہے۔ شاید اسی پس منظر میں مولانا روم، ابنِ رشد، ابنِ سینا اور شیخ سعدی وغیرہم نے ایسے دور افتادہ مقامات کے سفر کیے جہاں ان کی دانست میں علم و حکمت کے سرچشمے موجود تھے۔

کتابوں میں آیا ہے کہ شیخ سعدی شیرازی نے بڑی طویل عمر پائی تھی۔ انھوں نے اپنی عمرِ عزیز کا ایک تہائی حصّہ یعنی چالیس سال سفر و حضر میں بسر کیا۔ سات حج پا پیادہ کیے اور ایک روایت کے مطابق ملتان تک پہنچے اور کچھ مدت حضرت بہاء الدین زکریا کی خدمت میں رہ کر اکتسابِ علم کرتے رہے۔ اسی بنا پر ملتان کے بارے میں شیخ سعدی سے منسوب یہ شعر آج تک زبان زدِعام و خاص ہے:
چہار چیز است تحفہٴ ملتان
گرد، گرما، گدا و گورستان
چنانچہ ازمنہٴ وسطیٰ کے مسلمان ایک طویل مدت تک اس لیے دنیا کے افق پر چھائے رہے کہ انھوں نے دور دراز جگہوں کی خاک چھاننے میں کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیا تھا۔

”مدّو جزرِ اسلام“ میں مولانا حالی کا یہ ارشاد کہ:
”سیاحت میں مشہورِ دنیا ہوئے وہ“
تو ان کا اشارہ عظیم سیّاح اور موٴرخ ابنِ بطوطہ (۱۳۰۴ع - ۱۳۷۷ع) کی طرف ہے جو طنجہ(مراکش) کے رہنے والے تھے اور جنھوں نے تیس سال سے زیادہ کا عرصہ تین براعظموں کی سیاحت میں اس زمانے میں بسر کیا جب مواصلات کے انسانی ذرائع مسدود و محدود تھے اور سیاح خشکی کا سفر کارواں در کارواں اونٹوں، گھوڑوں، خچروں پر یا پاپیادہ اور بحری سفر بادبانی کشتیوں کے ذریعے کرتے تھے اور یوں ۷۵۰۰۰ ہزار میل کا جان جوکھوں کا سفر طے کیا۔

وہ سلطان محمد بن تغلق (۱۲۹۰ع-۱۳۵۱ع) کے زمانے میں دلّی آئے جہاں سے سلطان محمد بن تغلق کی طرف سے ایک سفارت لے کر چین کے حکمران قبلائی خان کے دربار میں پہنچے اور وہاں سے تحفے تحائف لے کر شاہراہِ ریشم کے راستے واپس ہندوستان آئے۔ واپس مراکش گئے اور اپنا سفر نامہ مرتب کیا۔ یہ دنیا کا پہلا سفرنامہ ہے۔
میں یہ کہتا ہوں کہ آپ بے شک تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔

اطالیہ کے میفیوپولو اور مارکوپولو کے اسفار ابنِ بطوطہ سے کہیں کم ہیں اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ پرتگیز جہاز ران واسکوڈے گاما (۱۴۶۰ع-۱۵۲۴ع) نے راس امید کا چکر کاٹ کر ۱۴۹۸ع میں ہندوستان کا بحری راستہ دریافت کیا تو حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے راس امید سے کالی کٹ تک کا سفر ایک عرب ملاح احمد بن ماجد کی رہنمائی میں طے کیا تھا۔ اس زمانے میں مسلمانوں کے برعکس ہندوؤں کا یہ حال تھا کہ وہ ہندوستان کی سرزمین سے اپنا قدم باہر نہ نکالتے تھے کیوں کہ ان کے مذہبی عقیدے کی روشنی میں سمندر پار جانے سے ان کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا تھا۔

وہ علیحدہ بات ہے کہ آج یہ معاملہ جدا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے یہاں ایک زمانے تک ذوقِ سفر دوسری اقوام کی نسبت کہیں زیادہ تھا۔
پھر یہ بھی حضرتِ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اچھے حالات سے گزرے یا برے حالات سے یا اسے نت نئی صورتِ حالات کا سامنا کرنا پڑا ہو، وہ اپنے تجربات و مشاہدات میں دوسروں کو شریک کرنا بھی ضروری خیال کرتا ہے کیوں کہ وہ دنیا کی خوشیوں یا غموں کو اکیلا ہضم یا برداشت نہیں کر سکتا۔

دوسروں کو ہم راز و رازدان بنانے کی اسی خواہش کے بطن سے سفرنامے کے فن کی تولید ہوئی۔ جہاں تک سیروسیاحت کے محرکات کا تعلق ہے تو عہدِ قدیم سے لے کر آج تک اجناس کا تبادلہ، تجارت، حصولِ علم و فن، تبلیغِ دین، سیاسی مقاصد، تلاشِ معاش اور زیاراتِ مقاماتِ مقدسہ وغیرہ وہ چند ایسے مقاصد ہیں جنھوں نے نسلِ انسانی کے پاؤں میں چکر ڈال رکھا ہے۔


سفرنامہ ایک ایسی بیانیہ صنفِ نثر ہے جس میں سفرنامہ نگار اپنے مشاہدات اور چشم دید واقعات کو قارئین کے لیے ضابطہٴ تحریر میں لاتا ہے۔ چوں کہ سفرنامہ نگار اپنی تحریر کا مرکزی کردار خود ہوتا ہے اس لیے یہ آپ بیتی کے بہت قریب کی چیز ہے اور بعض نقاد تو ان دونوں اصناف کو سگی بہنیں قرار دیتے ہیں۔ سفرنامے کی نہ تو کوئی باقاعدہ تعریف ہے، نہ ہی اس کے کوئی متعینہ اصول و ضوابط مقرر ہیں مگر پروفیسر افضل علوی ”دیکھا لیا ایران“ کے دیباچے ”سخنے چند“ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
”اچھا سفر نامہ وہ ہے جس میں داستان کی سی داستان طرازی، ناول کی سی افسانہ سازی، ڈراما کی سی منظرکشی، کچھ آپ بیتی کا مزہ، کچھ جگ بیتی کا سا لطف اور پھر سفر کرنے والا جزوِ تماشا ہو کر اپنے تاثرات کو اس طرح پیش کرے کہ اس کی تحریر پُرلطف بھی ہو اور معلومات افزا بھی۔


فی زمانہ اردو میں سفرنامے نے ایک باقاعدہ اور مقبول صنفِ نثر کی صورت اختیار کر لی ہے اور آج بے شمار ادیب محض اسی صنف کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں جن میں یوسف خاں کمبل پوش سے لے کر زمانہٴ حال کے مستنصر حسین تارڑ، مرزا طارق محمود اور عامر بن علی تک اتنے نام شامل اور معروف ہیں کہ اگر ہم ان تمام سفرنامہ نگاروں کے بارے میں دو دو سطریں بھی لکھیں تو یہ آرٹیکل اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔


قدرے طویل تمہید کے لیے معذرت! مگر سچ یہ ہے کہ ہمارے آج کے سفرنامے کو کچھ قدآور ادیبوں نے بڑی ہر دل عزیز ادبی صنف کی صورت میں ڈھال دیا ہے اور اب سفرنامہ ظاہری سطح سے بلند ہونے کے بعد ذہنی و روحانی سطح تک پہنچ گیا ہے اور ہمارے کچھ سفرنامہ نگاروں نے تو اپنے تاثرات کو باقاعدہ افسانوی انداز میں پیش کرنے کی سعی کی ہے اور سفری روداد کو کہانی پن سے اس طرح ہم آہنگ کیا ہے کہ آج کا سفرنامہ ادب اور سیاحت کے سنگم پر تخلیق ہو رہا ہے اور خاصے کی چیز بن گیا ہے۔


ہم دیکھتے ہیں کہ عامر بن علی کا سفرنامہ ”نگر نگر اِک نظر“ اس کسوٹی پر بکمال پورا اترتا ہے۔ ہرچند انھوں نے اس سے قبل بھی دو سفرنامے: ”آج کا جاپان“ اور ”جہاں گردی“ لکھے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری نظروں سے آج تک جتنے بھی سفرنامے گزرے ہیں، ان میں بیگم اختر ریاض الدین کے دونوں سفرناموں: ”سات سمندر پار“ اور ”دھنک پر قدم“ کو آج سے بیس تیس سال پہلے پڑھا تھا مگر میں اُن سے آج تک متاثر چلا آ رہا ہوں کیوں ان سفرناموں کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ بیگم اختر ریاض الدین کو بوجوہ ملکوں ملکوں پھرنا اور وہاں قیام کرنا پڑا تو انھوں نے ان جگہوں کو قریب سے اور بارہا دیکھا، پھر انھیں انگریزی ادب کی استاد ہونے کے ناتے لکھنا بھی آتا تھا چنانچہ انھوں نے اُن جگہوں کی خوب مرقع کاری کی ہے ، جب میں نے ان کے سفرنامے ”دھنک پر قدم“ میں دنیا کے وسیع ترین و عمیق ترین سمندر بحرالکاہل میں واقع جزائر ”ہوائی“ کے حالات پڑھے تو میں اتنا متاثر ہوا کہ میرا آج تک جی للچاتا ہے کہ کسی طرح بن پڑے تو ایک نظر ہوائی کے جزائر دیکھ لوں۔

میرا یہی حال اس وقت ہوا جب میں نے عامر بن علی کا سفرنامہ ”جہاں گردی“ پڑھا جس میں مصنف نے میکسیکو کے علاوہ جنوبی امریکا کے ممالک: ارجنٹینا، پیرو، برازیل اور چلی کے چشم دید حالات بیان کیے ہیں اور وہ جو فارسی ضرب المثل ہے کہ ”شنیدہ کَے بَوَد مانندِ دیدہ“ ہم نے جن ممالک کا صرف نام سنا ہے اور جن کے بارے میں ہماری آگاہی فقط صفر سے کچھ زیادہ ہے، مصنف نے انھیں خوب دیکھا بھالا بلکہ کنکھالا ہے اور چونکہ انھیں حالات و واقعات کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی خوب آتا ہے اس لیے وہ ہمیں گھر بیٹھے بیٹھے ایک غیر جانب دار کی نظروں سے ان ممالک کی سیر کروا دیتے ہیں۔


دنیا کی سیر بھی انھیں راہوں میں ہو گئی
حالانکہ ہم نے تجھ سے تجھی تک سفر کیا
اب رہی بات ”نگر نگر اِک نظر“ کی، جو ہمارا اصل موضوع ہے تو پیش ِ نگاہ کتاب عامر بن علی کا تیسرا سفرنامہ ہے اور انھوں نے اپنے اس سفرنامے کا عنوان شاید میرا جی کے اس شعر سے لیا ہے:
نگری نگری پھرا مسافر، گھر کا رَستہ بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا
مگر خوش آیند بات یہ ہے کہ ہمارا یہ فاضل مصنف ملکوں ملکوں تو ضرور پھرا مگر وہ اپنے گھر کا راستہ اور اپنا پرایا نہیں بھولا بلکہ اس نے اپنے راستے کے عجائب و غرائب اور حالات و مشاہدات بتانے میں اپنے دوست احباب اور اپنے قارئین کو بھی شریک کر لیا۔

پیشِ نگاہ کتاب ”نگر نگر اِک نظر“تین حصوں: ”جہانِ تازہ“، ”تُرابِ آفتاب کا منظر“ اور ”جو بچا ہے مقتلِ شہر میں“ پر مشتمل ہے۔ مجھے ان میں پہلے دو حصّے جو حقیقتاً سفرنامے کے زمرے میں آتے ہیں، زیادہ پسند آئے۔ ”جہانِ تازہ“ کی ترکیب سے معاً میرے ذہن میں علامہ اقبال کا یہ شعر آ گیا:
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
ان دونوں حصّوں میں عامر بن علی نے مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق لاطینی امریکا کے دو ملکوں چلی اور پیرو کے دو ایک دیہی علاقوں کا حال اس چابکدستی سے قلم بند کیا ہے کہ وہ شعور کی نگاہوں سے اپنے لاشعور میں پوشیدہ دونوں ملکوں کی قدامت، ان کا ناک نقشہ اور تمدّن بخوبی دیکھ لیتا اور جہانِ تازہ سے افکارِ تازہ محسوس کرتا ہے۔


کچھ لوگ ایسے تیز طبع، تیز زبان اور تیز قلم ہوتے ہیں کہ وہ کسی ملک میں محض ہفتہ عشرہ تک قیام پذیر ہوتے ہیں مگر اپنی تیز نگاہی، زباندانی اور لفاظی کے زور پر وہاں کا ایک معقول ضخامت کا سفرنامہ لکھ دیتے ہیں اور جسے لوگ بلاتوقف اور بے جھجک قبولِ عام کی سند بھی دے دیتے ہیں، جو کسی طور روا نہیں۔ بھلا ایک آدمی، خواہ وہ کتنا ہی تیز طراز اور قلم کا دھنی کیوں نہ ہو، آسٹریلیا جسے طویل و عریض ملک کا، جو ایک ملک ہی نہیں بلکہ برِّاعظم ہے ، ہفتہ عشرہ میں بچشمِ خود مشاہدہ و مطالعہ کیسے کر سکتا ہے۔

اتنے عرصے میں تو داڑھ بھی گیلی نہیں ہوتی مگر ہم اسے لکھنے والوں کے کمال ہی پر محمول کریں گے اور طرفہ تماشا کہیں گے۔ مگر عامر بن علی کے بارے میں یہ معاملہ بالکل جدا ہے۔ انھوں نے اپنے دوسرے سفرنامے: ”جہاں گردی“ میں لاطینی امریکا کے ملکوں بالخصوص میکسیکو، برازیل، ارجنٹینا، کیوبا، بولیویا، پیراگوئے اور ونیزویلا کی سیر و سیاحت کے حالات اور پیش نگاہ سفرنامے ”نگر نگر اِک نظر“ میں بالعموم چلی، پیرو کے مشاہدات و واقعات رقم کیے ہیں۔

ان دونوں سفرناموں میں ان کا بیان اتنا حسبِ حال اور شگفتہ ہے کہ راقم الحروف یہ سوچ کر دنگ رہ گیا کہ عامر بن علی تو اردو کے پروفیسر بھی نہیں پھر انھوں نے ایسی دلآویز زبان کیسے لکھ لی اور پھر وہ مصوّر بھی نہیں پھر انھوں نے یہ لفظی مرقع کاری کیسے کر لی کہ پڑھنے والا اپنے آپ کو ان ملکوں کی سیاحت کرتا اور تمام مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا محسوس کرتا ہے۔

میر انیس کے بارے میں مولانا حالی کا کہنا ہے کہ میر انیس نے اپنی زورِ طبع سے اردو بیانیہ شاعری کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اسے دنیا کی کسی بھی بیانیہ شاعری کے مقابلے میں رکھا جا سکتا ہے۔ مصوّر رنگوں سے تصویریں بناتا ہے، ممکن ہے کہ رنگوں کی کمی بیشی یا امتزاج سے کسی تصویرمیں کوئی خامی رہ جائے مگر میر انیس نے جس منظر کا بھی بیان کیا ہے، اسے قاری اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور اس میں کھو جاتا ہے۔

اسی صداقت کا اطلاق بے شائبہ و بلامبالغہ عامر بن علی کی نثر پر بھی ہوتا ہے۔ ہمارے اس خیال کی تائید ”نوائے وقت“ کے کہنہ مشق و بزرگ صحافی اسد اللہ غالب نے بھی کی ہے۔ وہ ”نگر نگر اِک نظر“ کے حوالے سے ”محبتوں کے سفیر کا سفرنامہ“ کے عنوان سے کتاب کے پیش لفظ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
”ان کا نیا سفرنامہ ”نگرنگر اِک نظر“ بہت ہی دلچسپ واقعات پر مبنی اور طرزِ تحریر سہل اور خوب صورت ہے۔

قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مصنّف کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا ہے۔ کہیں ادبی چاشنی تو کہیں صحافتی رنگ غالب نظر آتا ہے۔ ثقہ ادیب اور معتبر صحافی ہونے کے سبب زبان و بیان پر انھیں دسترس ہے مگر لکھنے کا انداز عام فہم اور سادہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی بات سمجھا سکیں۔“
مغل بادشاہ جہانگیر کے بارے میں کتابوں میں آیا ہے کہ اسے سیر وسیاحت کا بڑا شوق تھا۔

سولہ سال تک اس کاپایہٴ تخت لاہور رہا تو اس عرصے کے دوران میں وہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں اپنی چہیتی بیگم نور جہاں کو ساتھ لے کر کشمیر ضرور جایا کرتا تھا۔ جب اس نے پہلی بار خطہٴ کشمیر کو دیکھا تو اس کی خوب صورتی کی تاب نہ لا سکا اور نظیری نیشاپوری کا یہ شعر اس کی زبان پر آ گیا:
ز فرق تا بقدم ہر کجا کہ می نِگرم
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا اینجاست
یعنی میں جدھر بھی دیکھتا ہوں اور جہاں بھی میری نگاہ پڑتی ہے، میرے دل کے دامن کو ایسی کشش ہوتی ہے کہ نگاہ وہاں سے اٹھنے کا نام نہیں لیتی۔


خیر یہ بات تو جملہٴ معترضہ کے طور پر آ گئی تھی۔ کہنا یہ ہے کہ ہمارے مصنف عامر بن علی کا بھی یہی حال ہے۔ انھوں نے کم و بیش دس سال کا عرصہ دنیا کے بے نظیر و بے مثال ملک جاپان اور پانچ سال لاطینی امریکا کے چیدہ چیدہ ممالک میں بسر کیا ہے۔ انھوں نے جب وہاں کی رسوم و روایات اور تہذیب و تمدّن کو حیرانی کی نظروں سے انوکھا پایا تو چاہا کہ ان کے ہم زبان بھی اسے خوش اسلوبی سے دیکھیں اور آگاہی حاصل کریں کہ یہ منطقہٴ ہمارے کلچر، عرصہٴ حیات اور ہمارے معاشرے سے کس حد تک مختلف ہے۔

مثلاً وہ پیشِ نظر سفرنامے ”نگر نگر اِک نظر“ کے ابتدائی اوراقِ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
”دنیا کے نقشے میں تو لوگ عام طور پر چلی، پیرو اور بولیویا کو ہی مشکل سے ڈھونڈ پاتے ہیں۔ پھر وہ دورافتادہ شہر جہاں ان ممالک کی سرحدیں ملتی ہیں، بہت ہی کم ہمارے دیس کے لوگوں کی نظروں میں آ پاتے ہیں۔ یہ منظر ایک دور دراز قصبے کا ہے۔ جنگل میں منگل کا سماں ہے۔

فضا انتہائی جذباتی ہے۔ کلیسا کا مرکزی ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ مغرب کا وقت ہے اور قندیلیں کثیر تعداد میں جگمگا رہی ہیں۔ زائرین میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ لڑکیاں زارو قطار رو رہی ہیں اور مناجات میں مشغول ہیں۔ لڑکوں کی اکثریت بھی آبدیدہ نظر آ رہی ہے۔ زیادہ تر حاضرین جوڑیوں کی شکل میں یہاں آتے ہیں۔ سرخ روئی ہوئی آنکھوں اور ان میں نمی کے بغیر ہم جیسے سیاح یہاں کم ہیں۔

غالب اکثریت مذہبی جوش و جذبے سے نہ صرف پورے چلی کے طول و عرض سے یہاں آئی ہے بلکہ جنوبی امریکا کے ہمسایہ ممالک سے آنے والوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔ ایک ہزار کی مقامی آبادی والے اس چھوٹے سے قصبے میں، جسے گاؤں کہنا زیادہ مناسب ہے، سال کے ان دنوں میں دو سے تین لاکھ لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس قصبے کا نام لاتیرانا ہے۔“
برعظیم پاک و ہند کے لوگوں کو تو صرف اتنا معلوم ہے کہ ایک زمانہ تھا جب یورپی اقوام میں سے لاطینی امریکا میں صرف ہسپانوی، پرتگیزی یا ولندیزی ہی برسرِپیکار تھے اور انگریزوں نے شاید ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنا رخ بالعموم جنوب یا جنوب مشرق کی جانب ہی رکھا تھا مگر جب ہمارے مصنف کو پیرو اور پولیویا کی سرحد کے قریب چلی کی حدود میں واقع خالصتاً ایک انگریزی نام کے ہمبرسٹون کے بارے میں پتا چلا تو وہ چونکے کہ یہ کیا معاملہ ہے اورہمبرسٹون کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کشاں کشاں وہاں پہنچے اور اس کا تفصیلی مشاہدہ و مطالعہ کیا، چنانچہ ”ہمبر سٹون“ کے حوالے سے ایک جگہ لکھتے ہیں:
”اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جانب سے اس شہر کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔

شاید یہ نام کی کشش تھی جو مجھے اس شہر میں لے گئی۔ کہنے کو تو اس شہر کو بھوت نگر یا اجڑا دیار بھی کہا جا سکتا ہے مگر آثارِ قدیمہ کہتے ہوئے جھجک رہا ہوں کیونکہ یہ جدید طرز کا شہر ہے اور اب پورے شہر کو عظیم الشان میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یوں کہنا زیادہ موزوں ہے کہ ہمبرسٹون اب کوئی آباد بستی نہیں بلکہ آثار قدیمہ کا بہت بڑا میوزیم ہے۔

اس دیار کا فقط نام ہی انگریزی نہیں، تمام طرزِ تعمیر بھی برطانوی ہے۔ اگر کسی نے جنوبی امریکا میں انگریزی طرز کی جھلک دیکھنا ہو تو اس کے لیے ہمبر سٹون سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔“
”نگر نگر اِک نظر“ میں لاطینی امریکا کے ملکوں چلی اور پیرو کے علاوہ ویسٹ انڈیز ، یو ایس اے، قطر، عراق، دبئی، روس، بھارت اور فلپائن کی سیاحت کا طائرانہ نظر سے جب کہ جاپان کے بارے میں، جو ہر نوع کی جدید ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا بھر میں سب سے آگے بڑھا ہوا ہے اور جہاں مصنف دس گیارہ سال سے مقیم اور جہاں گردی کے بعد پھر وہیں آ جاتا ہے، اس نوعیت کی عمدہ عمدہ تصویریں موجود ہیں جنھیں پڑھ کر کوئی بھی باذوق قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

میرا خیال ہے کہ اس طرح کی تصویریں فقط وہی شخص بنا سکتا ہے، جس کے دل میں ایک تو طلبِ سیاحت صادق ہو، دوسرے اس کو زبان و بیان پر قدرت حاصل ہو اور بفضلِ تعالیٰ ہمارے مصنف میں یہ دونوں خوبیاں بدرجہ کمال موجود ہیں۔
عامر بن علی کا ایک اور وصف، جو انھیں اردو کے قدیم و جدید سفرنامہ نگاروں میں ممتاز و مشرف کرتا ہے، یہ ہے کہ ہر چند انھیں خاورِ مشرق کی سرزمین یعنی جاپان میں رہتے ایک عمر بیت گئی ہے اور وہ یہیں کاروبار کرتے اور جاپان سے بھی محبت کرتے ہیں مگر وہ اپنے آباو اجداد کی سرزمین اور اپنے حقیقی وطن کو، جہاں ان کی نال گڑی ہے، کسی لمحے فراموش نہیں کرتے اور ان کی ذہنی حالت کا اطلاق شیخ سعدی شیرازی کے اس شعر پر ہوتا ہے:
یوسف کہ بہ مصر پادشاہی می کرد
می گفت: گدا بودن کَنعاں خوشتر
یعنی (حضرت) یوسف ہر چند مصر پر حکومت کرتے تھے مگر کہا کرتے تھے کہ کاش میں کنعان (وطن) کا گداگر ہوتا تو اس سے کہیں اچھا تھا ۔

عامر بن علی بھی جب دوسرے ملکوں کو شاداں و فرحاں اور وہاں ہر طرح کا نظم و ضبط کارفرما اور جدید ٹیکنالوجی کا دور دورہ دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں اسی وقت حب الوطنی کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے اور وہ وہاں کے حالات کا اپنے ملک کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے سوچتے ہیں کہ اے کاش یہ عمدہ عمدہ باتیں میرے وطن کا بھی مقدر ہوں تاکہ اس کا نام بھی اقوام عالم میں احترام و وقار کے ساتھ لیا جائے کیوں کہ باری تعالیٰ نے اگرچہ ان کے وطن کو اَن گنت قدرتی وسائل سے نواز رکھا ہے مگر ہم اس کی وہ قدر نہیں کرتے جس کا ہمارا وطن ہم سے تقاضا کرتا ہے۔

مثلاً جب وہ ایک چھوٹے سے جزیرہ نما مسلمان ملک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع نیشنل میوزیم ”زہرة الصحرا“ کو دیکھتے ہیں تو جذبات میں آ کر لکھتے ہیں کہ:
”۔۔۔ قطر کی پوری تاریخ در و دیوار پر اس طرح آویزاں ہے کہ دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ اس دنیا کی ابتدا سے لے کر جزیرة العرب کے افریقہ کے زمینی طور پر کٹ کر جدا ہونے کے ارتقائی عمل سے لے کر آج کے دن تک لمحہ بہ لمحہ کس طرح اہم واقعات رونما ہوئے، سب سامنے پڑا ہے۔

دنیا کے کئی براعظموں میں پھیلے درجنوں عجائب گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے مگر جدید ٹیکنالوجی کا اس قدر استعمال اور اس خوب صورتی کے ساتھ، کہیں نہیں دیکھا ہے۔ آثارِ قدیمہ کو دیکھتے ہوئے میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ موہنجو داڑو اورہڑپہ کے آثار بھی کاش اسی طرح ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ میں جانتا ہوں کہ ہمارے ملک کے وسائل محدود اور دیگر اہم مسائل بھی موجود ہیں مگر ایک وجہ شاید ترجیحات کی ترتیب بھی ہے۔


اس طرح عامر بن علی نے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنے تجربات و مشاہدات کو ”نگر نگر اِک نظر“ میں اس طو ر قلم بندکیا ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے۔ ان کے مذکورہ سفرنامے میں آپ بیتی کے ساتھ ساتھ افسانوی اندازِ بیان اور ایک موٴرخ کی تحقیقی بصارت سبھی کچھ موجود ہے اور انھوں نے بڑی مہارت اور نادر و نایاب تشبیہات و استعارات سے کام لے کر، جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں، اپنے قارئین تک اپنی بات بخوبی پہنچائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ انھوں نے ان مناظر کو کسی بے جان کیمرے کی آنکھ کے بجائے چشمِ بصیرت سے دیکھا ہے اور انھیں اپنے وطنِ عزیز کے حالات و واقعات سے اس طرح پیوست کر دیا ہے کہ ان کا کوئی بھی ہم وطن ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔


بنا بریں حقائق میں یہ بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ زیرِ نظر کتاب: ”نگر نگر اِک نظر“ ما قبل سفرناموں: ”آج کا جاپان“ اور ”جہاں گردی“ کی مانند ایسا سفرنامہ ہے جو نہ صرف سفرنامہ نگاری کے تمام لوازمات پر پورا اترتا ہے بلکہ یہ منظرکشی، لفظی مرقع کاری، برمحل موازنہ و مقابلہ اور عمدہ اسلوب کا ایسا دل آویز اور دلچسپ مرقع ہے جو اردو سفرناموں میں ممتاز مقام و مرتبے کا حق دار ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میری یہ بھی دلی خواہش ہے کہ عامر بن علی ایک بار سنٹرل ایشیائی مسلم ممالک: ازبکستان، قازقستان، کرغیزستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور چیچنیا میں سے دو ایک ملکوں کی سیاحت ضرور کریں جو ایک طویل عرصہ تک یو ایس ایس آر کے زیرِ تسلطّ رہے مگر اب آزاد و خودمختار اور جادہٴ ترقی پر گامزن ہیں اور وہاں کا سفر نامہ لکھیں کیوں کہ ان ممالک کے سفرنامے اردو میں ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہیں اور عامر بن علی کو اللہ تعالیٰ نے سفر و حضر کے وسائل بھی دیے ہیں اور قلم کی طاقت سے بھی سرفراز کیا ہے اور طُرّہ یہ کہ وہ ہفت زبان ہیں اور انھیں انگریزی جاپانی اور فارسی کے علاوہ ہسپانوی اور روسی زبان پر بھی قدرت و عبور حاصل ہے۔

اگر وہ عزّم بالجزم کر لیں تو ان سے کچھ بعید نہیں کہ یہاں کے سفر کے حالات بھی دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو!۔
تاریخ اشاعت: 2021-08-21

Your Thoughts and Comments