Novel - Ishq Aurat Aur Ankabot

ناول : عشق ، عورت اور عنکبوت

ریحانہ اعجاز جمعرات فروری

Novel - Ishq Aurat Aur Ankabot
ناول : عشق ، عورت اور عنکبوت
مصنفہ : گل ارباب
گل ارباب کے افسانے اور کہانیوں پر کئی بار اپنی رائے دے چکی ہوں۔ ایک کہنہ مشق رائٹر کی تحریروں پر تبصرہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔

اور پھر جب بات ہو مکمل ناول پر تبصرے کی تو کوشش ہوتی ہے کوئی پہلو رہ نہ جائے ، میں بھی ایک ادنیٰ سی کوشش کرنے کی جسارت کر رہی ہوں ۔

۔۔۔۔۔
328 صفحات پر مبنی اس ناول میں گل نے اپنے قاری کے " منورنجن" کا بھرپور اہتمام کرتے ہوئے پہلے صفحے سے آخری صفحے تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا ۔
" عشق ۔ عورت اور عنکبوت " کہانی ہے جذبات و احساسات کی جس میں پیار ، محبت ، انتظار ، قربانی ، حسد ، نفرت ، مان ، اعتماد سبھی احساسات کی قوس قزح اپنے عروج پر ہے ۔

(جاری ہے)


ولید حسن اور سارا کی کھٹی میٹھی نوک جھونک سے شروع ہونے والے اس ناول نے کہیں ہنسایا تو کہیں رلایا ۔

اس ناول کے کرداروں میں ہمارے ارد گِرد ، ہم سے جڑے خونی رشتوں کی جھلک ہر ایک کو کہیں نہ کہیں ضرور دکھائی دے گی ۔
قرطاس کے ایک طرف " ماں ، بیٹی " کی لازوال محبت نظر آتی ہے تو دوسرے ہی " پنے" پر ایک لالچی ، اور خود غرض ماں کی نفرت بھی عروج پر نظر آتی ہے ۔
حسد اور انتقام کے نشے میں ڈوبی " تائی جان " جیسے کردار کئی گھرانوں میں پائے جاتے ہیں جن کے دل میں خاندان کے خاندان تباہ کرتے وقت ایک پل کے لئے بھی خوفِ خدا نہیں ہوتا ۔

ایسے رشتے ساری عمر قطرہ قطرہ اپنا زہر اپنے سے منسلک رشتوں میں منتقل کرتے ہیں اور مرنے کے بعد اپنے جانشیں " مومل " کی صورت چھوڑ جاتے ہیں ۔
یہ کہانی ہے ڈاکٹر ابراہیم اور شگفتہ کی جو دل کی گہرائیوں سے کی گئی بے لوث محبت کے ہاتھوں عشق کی معراج تک جا پہنچے۔
یہ کہانی ہے ایک ایسے انتظار کی جو لاحاصل نہ ٹھہرا اور سچے دل سے کی گئی دعاؤں کے آگے سر نگوں ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی ہے اعتقاد کی ۔
جب پورے دل سے اللہ پر اعتقاد کیا جائے ، جب کُن کہنے والے سے صِدقِ دل سے دعا مانگی جائے تو بےشک وہ انسان کو مایوس نہیں کرتا اور اپنے معجزے سے موہوم سی امیدوں کو زندگی بخش دیتا ہے۔
جذبے صادق ہوں تو موت بھی اپنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے ،۔
یہ کہانی ہے ولید حسن اور سارا کی جنہیں نہ چاہتے ہوئے بھی اک دوجے کا ہمسفر بننا پڑا اور اسی پر اکتفا نہیں بلکہ اک دوسرے سے محبت بھی کرنا پڑی کسی کے کہنے پر نہیں " دل " کے ہاتھوں مجبور ہو کر ۔

۔۔
ورنہ گل نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی تھی دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے میں ۔۔۔۔
جہاں گل نے بےشُمار آزمائشوں اور کٹھنائیوں سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر ابراہیم اور شگفتہ کے دِلوں میں پُھوٹتے محبت کے سوتے خشک نہ ہونے دیئے وہیں ولید حسن اور سارا کے درمیان " بی جمالو" کا رول خوب ادا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بےچاری معصوم سی سارا کو جی بھر کر بدظن کیا ولید حسن سے اور ان کی ہر بار کی جانے والی نوک جھونک کے بعد مجھے لگتا اب تو ولید حسن کے جملہ حقوق " علشبہ" کے نام ہو ہی جائیں گے ۔

۔۔۔
علشبہ جیسی لڑکیاں میرے لئے کبھی بھی اہمیت کی حامِل نہیں رہیں جن کے نزدیک اپنی نسوانیت و وقار چنداں معنی نہیں رکھتا ۔۔
کسی بھی لڑکی کو زیب نہیں دیتا محبت میں پہل کرتے ہوئے اظہارِ عشق کرنا چہ جائیکہ شادی شدہ مرد کے عشق میں ذلیل و خوار ہونا؟
آج کل کی نام نہاد محبت کے ہاتھوں مجبور ،علشبہ جیسی بےشُمار لڑکیاں اپنی عزتِ نفس کچل کر ، ماں باپ کی عزت داؤ پر لگا کر جس محبت کے حصول کے لئے مری جا رہی ہوتی ہیں وہ نہ صرف دنیا بلکہ اپنی آخرت بھی اپنے ہاتھوں تباہ و برباد کر ڈالتی ہیں ۔

۔
یہ گل کی حساسیت جس نے علشبہ جیسی لڑکیوں کا انجام کچھ ایسا دکھایا کہ بے ساختہ یہ کہاوت یاد آئی
" نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی"
علشبہ جیسی لڑکیوں کا انجام تو ایسا ہونا چاہیئے کہ ہر لڑکی محبت کے نام پر کانوں کو ہاتھ لگائے ۔
لڑکیوں کو سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ ہر گز ارزاں نہیں ہوتیں ۔
لڑکیاں " شگفتہ " جیسی ہوتی ہیں جنہیں کسی کی محبت ، بھرپور محبت و اعتماد حاصل بھی ہو تو پندارِ محبت کا بھرم رکھتی ہیں ۔

۔۔۔ بےشک ان کے نصیب میں بےشُمار کٹھنائیاں لکھی جاتی ہیں لیکن دنیا جہان میں سرخ رو بھی وہی ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
عشق ، عورت اور عنکبوت میں محبت ہی وہ عنکبوت ہے جو عورت کو عشق کے جال میں جکڑ کر بےبس کر دیتا ہے لیکن فہم و عقل والیاں اس عنکبوت کو ریزہ ریزہ کرتے ہوئے اپنے نسوانی وقار کو پامال ہونے سے بچا لیتی ہیں ۔۔۔۔۔
عشق عورت اور عنکبوت نے مہر ثبت کی اس یقین پر کہ " تربیت " رنگ لاتی ہے ۔

۔۔۔۔
اولاد تو جانور بھی پیدا کر لیتا ہے لیکن تربیت کا وصف اللہ نے فقط انسان کو بخشا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ رگوں میں دوڑتا خون رنگ لائے اچھی تربیت بھی رنگ لاتی ہے جیسے شگفتہ کی تربیت نے سارا کی رگوں میں دوڑتے ماں کے خود غرض خون کو یکسر بدل ڈالا ۔۔
گل نے ہر کردار کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ایک بہترین موڑ پر ناول کا اختتام کیا اور بالکل اُسی طرح کہ جیسے گل نے ان کرداروں کو لکھتے ہوئے ان کے دکھوں پر آنسو بہائے اور خوشیوں پر اس کے لبوں نے مسکان کی مٹھاس کو محسوس کیا بالکل اسی طرح میں نے بھی اس کے کرداروں کے ہر ہر احساس کو خود پر طاری ہوتا محسوس کیا۔

۔۔
پھر چاہے وہ ڈاکٹر ابراہیم کا سارا کو سینے سے لگا کر ان کہے دکھوں پر ، ٹوٹے اور بچھڑے ہوئے انمول رشتوں پر آنسو بہانا ہو یا شگفتہ کا بیٹی سے چھپ کر بیماری کی اذیت کو برداشت کرنا ،
ولید حسن کا سارا کو چھیڑتے ہوئے کن اکھیوں سے اسے دیکھ کر مسکرانا ہو یا سارا کا ولید حسن کو زچ کرتے ہوئے خوش ہونا ۔
ولید حسن کی آپا کا ولید کے لئے پیار میں آبدیدہ ہونا ہو یا علشبہ کے ذکر پر ناگوار ہونا ۔

۔
علشبہ کے ماں باپ کا بےبس ہونا ہو یا علشبہ کا محبت کے ہاتھوں خوار ہونا ،،،،،،
اور آخر میں ولید حسن کا شکر گزار ہونا کہ ولید اور سارا کے دائمی ساتھ کے لئے ازخود دل سے دعا نکلتی رہی۔۔۔۔۔
میں نے اس ناول کو بغور اس تناظر میں پڑھا جب گل کے لکھنے کا آغاز تھا ۔ چار سال تقریباً چار سال پہلے گل نے یہ ناول لکھا تھا اور اس لحاظ سے کہیں پر نہیں لگا یہ ناول گل نے اپنے قلمی سفر کے آغاز میں لکھا ہے ۔ اور اب تو ماشاءاللہ گل کا شُمار بہترین رائترز میں ہو رہا ہے ۔
ایک بہترین مکمل ناول کی اشاعت پر گل کو دِلی مبارکباد ۔۔۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔
آمین ثم امین ۔
دعا گو ۔

تاریخ اشاعت: 2021-02-04

Your Thoughts and Comments