'Walking The Divide: A Tale Of A Journey Home'

حلیمہ خان کا تقسیم 1947 کے شہداء کو سلام

جمعہ 8 اکتوبر 2021

'Walking The Divide: A Tale Of A Journey Home'
جویریہ سلمان
ایک محب وطن جوانشاء اللہ ڈاکٹر بن کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔
میں نویں کلاس کی طالبعلم ہونے کی حیثیت سے مطالعہ پاکستان کی طالبعلم بھی ہوں. کبھی کبھی تاریخ کی کتاب پڑھ کے مجھے احساس ہوتا ہے کہ اس کتاب میں حقائق اور اعداد-و-شمار پر تو پورا زور ہے مگر وجود پاکستان کے جذباتی پہلو کی عکاسی کرنے سے قاصر ہے.

آج کی نسل حب الوطن ہونے کے باوجود اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے غافل ہے.
پاکستان کی ٧٤وے سالگرہ کے موقع پر سنگِ میل پبلی کیشنز نے حلیمہ خان کی کتاب 'Walking the Divide ' شائع کی ہے.
اس کتاب میں ١٩٤٧ کے حالات اور واقعات کے تعلق سے سید سردار احمد کی جدّوجہد کو منظر عام پرلایا گیا ہے.

(جاری ہے)

ان کی قربانیوں کو مرتب کر کے حلیمہ خان نے تقسیم ہند کے گمنام سپاہیوں کوخراج تحسین پیش کیا ہے.


کتاب میں بیان واقعات پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے اور اپنے بزرگوں کے جذبہ ایثار پر رونے کو جی چاہتا ہے. کورس کی کتاب میں پڑھا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق پندرہ ملین لوگوں نے تقسیم ہند کے موقے پر ہجرت کی. یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تصور کی جاتی ہے. 'Walking the Divide' ان پندرہ ملین مہاجرین کی بے بسی پر محمول ایک موثر اور دل ہلا دینے والی کہانی سناتی ہے.
١٩٤٧ میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں لگ بھگ بیس لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے.

اس ظلم کا نشانہ بننے والے افراد کا انجام اور ان کی بے حرمتی اور عزت وناموس سے جو بھیانک کھیل کھیلا گیا اس کا بیان بھی اس کتاب میں ملتا ہے.
حقائق پر مبنی یہ کتاب پڑھ کر صحیح معنوں میں احساس ہوا کہ ہم جتنا بھی شکر کریں کم ہے کہ الله پاک نے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے نوازا.
تاریخ اشاعت: 2021-10-08

Your Thoughts and Comments