Gumshuda Train

گمشدہ ٹرین

ریحان محمد پیر مارچ

Gumshuda Train
ریلوے اسٹیشن کے ٹکٹ گھر کی کھڑکی میں طویل قطار میں کٹھن انتظار کے بعد باری آئی تو مطلقہ شہر کا ٹکٹ ختم ہو گیا۔ شدید مایوسی کے عالم میں باہر آیا۔ برہمی کے سخت اثرات میرے چہرے پر تھے۔ گو مگو کی کیفیت کا شکار تھا اب کیا کروں کہاں جاؤں۔اتنے میں میرا مسئلہ بھناپتے ہوئے ایک قلی آیا اور بغیر کسی تہمید کے بولا صاحب جی ٹکٹ چاہیے تو مل جائے گا۔میں نے حیرت سے کہا ٹکٹ کاوئنٹر والا تو کہتا ہے اگلے چار دن تک ٹکٹ نہیں ہے۔

قلی ہنستے ہوئے بولا آپ بھی سیدھے بندے ہیں یہ پاکستان ہے آپ کے سامنے اسی کاونٹر سے اسی آدمی سے ٹکٹ لے کر آوں گا بس آپ بتائیں جانا کہاں ہے۔میں نے اپنے مطلوبہ شہر کا نام بتایا تو قلی بولا صاحب جی ٹکٹ آپ کو مل جائے گا پر ڈبل پیسوں کا ملے گا۔ میں نے رحم طلب نظروں سے قلی کو دیکھتے ہوئے کہا یہ تو بہت زیادہ پیسے ہیں کچھ کم کر دو۔

(جاری ہے)

قلی کا لہجہ یکدم بدل گیا اور درشت لہجے میں بولا ایک روپیہ بھی کم نہیں ہو گا۔

لینا ہے تو لو میرا وقت برباد نہ کرو ٹرین چلنے میں کچھ منٹ ہی رہ گے ہیں۔ چاروناچار ڈبل پیسوں پر ٹکٹ لینا پڑا۔قلی اسی کاؤنٹر سے ٹکٹ لے کر آیا جہاں کچھ دیر پہلے مجھے ٹکٹ نہیں ملا تھا۔ رہ رہ کر یہ خیال آیا کہ ہر مجبوری ہر موقع پر ہماری قوم کس طرح فائدہ اٹھاتی ہے۔ پلیٹ فارم پر آیا تو معلوم ہوا ٹرین چار گھنٹے لیٹ ہے۔ قلی کی غلط بیانی پر سخت غصہ آیا کہ ٹرین چلنے میں چند منٹ ہیں۔

انتظار گاہ میں چلا گیا۔ جہاں کی صورت حال بہت ابتر تھی۔ بجلی خراب تھی۔معلوم ہوتا تھا صفائی کئے کئی مہینے ہو گئے ہیں۔واش روم میں نا لوٹا نا پانی اور غلاظت سے بھڑا ہوا تھا۔ایک کرسی کو اچھی طرح صاف کر کے بیٹھ گیا۔ چند سیکنڈ ہی گزرے تو ایسے لگا جسم پر کوی سویاں چبھو رہا ہے۔کچھ کاٹ رہا ہے۔ غور کرنے پر پتہ چلا کرسی کھٹملوں سے بھڑی پڑی ہے۔

پورے جسم میں خارش شروع ہو گی۔ اسی وقت انتظار گاہ سے باہر آ گیا۔ پلیٹ فارم پر جہازی سائز کا واٹر کولر لگا ہوا تھا۔ جس پر بڑا بڑا پینے کے لیے ٹھنڈا پانی جلی حروف پر لکھا ہوا تھا۔ پانی پینے کے لیے کولر کے پاس گیا تو پینے کے لیے گلاس نہیں تھا۔ آخرکار ہاتھ سے پانی پینے لگا۔پانی انتہائی گرم اور بد ذائقہ تھا۔ پانی کی رنگت بھی گدلی تھی۔

دل ہی دل میں ریلوے کے انتظامات کو کوسا کہ وزیر ریل ریلوے اور مسافروں کو دی جانے والی سہولتوں کے مطلق میڈیا پریس کانفرنس میں اپنی طریفوں کے انبار لگا دیں گے۔ پلیٹ فارم پر ٹھلتے ہوئے ایک بینچ کے پاس پہنچا جہاں پر ایک باریش بزرگ تشریف فرما تھے کچھ شرارتی نوجوان ان کو تنگ کر رہے تھے۔ بابا جی چپ چاپ بیٹھے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔میں بابا جی سے سلام دعا لے کر بابا جی کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گیا۔

اور ان شرارتی نوجوانوں کو منع کیا۔ بابا جی آپ نے کہاں جانا ہے میں نے بابا جی سے پوچھا تو کچھ توقف کے بعد نہایت سرد لہجے میں جواب دیا مجھے کہیں نہیں جانا۔اچھا تو آپ نے کہیں نہیں جانا تو آپ کسی کو لینے آئے ہیں۔ تو بابا جی نے نفی میں سر ہلایا۔ میں نے حیرت سے پوچھا آپ نے کسی کو لینا بھی نہیں اور کہیں جانا بھی نہیں تو آپ کیا کرنے آے ہیں۔

بابا جی کی آنکھوں میں آنسو آگے اور دکھ بھڑے لہجے میں بولے۔برخودار میں پچھلے بہتر سال سے روزانہ آ رہا ہوں۔ اور کئی لوگ مجھے پاگل سمجھتے اور میرا مذاق اراتے ہیں تنگ کرتے ہیں۔ میرا تجسس میں اضافہ ہو گیا اپنا سوال دہرایا کہ آپ بہتر سال سے کیا کرنے آتے ہیں۔ بابا جی بولے مجھے گمشدہ ٹرین کا انتظار ہے۔ گمشدہ ٹرین میں زیرے لب بڑبڑایا میری الجھن میں مزید اضافہ ہو گیا۔

اور پوچھا بابا جی میں سمجھا نہیں'' گمشدہ ٹرین'' یہ کون سی ٹرین ہے۔ بابا جی سنسناتے لہجے میں بولے میں اس ٹرین کا انتظار کر رہا ہوں جو آزادی کے وقت انڈیا سے پاکستان آئی تھی۔اس ٹرین کا ہر مسافر آزادی پاکستان کا سپاہی تھا۔ بہت جذبہ تھا لوگوں میں۔ ہر کوئی انڈیا میں اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ پاکستان آیا تھا۔چاہے بچہ ہو یا بڑا جوان ہو یا بوڑھا ہر ایک میں پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھڑی ہوئی تھی۔

قربانی کے جذبے سے لبریز تھا۔ایک دوسرے کے لیے لڑنے مرنے کو تیار تھے۔یہ سب جذبے اسی لیے تھے کہ برصغیر کے مسلمانوں کا ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی حاصل کر کے الگ وطن کا خواب پورا ہوا تھا۔جس میں دو قومی نظریے کے مطابق ہر ایک کو مذہبی شخصی آزادی حاصل ہو گی۔ بابا جی انتہائی پر جوش لہجے میں بولے برخودار تمھیں پتہ ہے میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم سے ملا ہوں ان کو دیکھا ہے محسوس کیا ہے۔

ان سے مصافحہ کیا ہے ان کے ہاتھ کا لمس آج بھی میرے پورے جسم میں موجود ہے۔ ان کی تقاریریں ان کی آواز آج بھی میرے کانوں میں روز اول کی طرح گونجتی ہیں۔چاہے 23 مارچ کا منٹو پارک کا جلسہ ہی ہو جب میں ابھی بچہ ہی تھا۔ جس میں قرارداد پاکستان پیش کی اس کا ایک لمحہ میرے ذہین میں محفوظ ہے ۔ میں بھی انڈیا سے ٹرین کے ڈبے سے بغیر کسی ڈر خوف کے لٹک کر آیا تھا۔

میرے سارے ڈر خوف قیام پاکستان نے ختم کر ڈالے تھے۔ یہی حال باقی سب کا بھی تھا۔ ہر قسم کی رکاوٹیں بلا خوف و خطر عبور کیں۔ سکھوں ہندووں کے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔سب کی ماں بہنیں سانجھی سمجھی جاتی تھیں۔ اپنی ماوں بہنوں بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کی۔ میلی آنکھ سے دیکھنے والی آنکھوں کو نکال دیا۔ عزت پر ہاتھ ڈالنے والوں کے ہاتھ تن سے جدا کر دیے۔

نہ کوئی فرقہ واریت تھی نہ کوئی لسانی نہ کوئی رنگ نسل ذات پات کا جھگڑا تھا۔ سب ایک تھے۔ سب پاکستانی تھے۔سب کا گھر صرف پاکستان تھا۔ باباے قوم قائداعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان اس دن معرض وجود میں آ گیا تھا جس دن برصغیر میں ہندو سے پہلا مسلمان ہوا تھا۔ یہ سب بتاتے ہوئے بابا جی کی آواز روندھ گی۔ کچھ دیر خاموشی سے گزرے میں بابا جی کے چہرے کو باغور دیکھتا رہا۔

پھر بابا جی انتہائی سوگ میں ڈوبے لہجے میں بولے مجھے پچھلے بہتر سالوں سے اس ٹرین کے مسافروں کا انتظار ہے جو اپنے گھر آنے کے لیے روانہ ہوئے تھے وہ بھی تک نہیں پہنچے وہ کہاں کھو گے کہاں گم ہو گے کہا چلے گے۔ مجھے اس گمشدہ ٹرین کے مسافروں کی تلاش ہے اس ٹرین اور اس کے مسافروں کے آنے کی آس امید لے کر روزانہ اسٹیشن آ جاتا ہوں شاید وہ آج آجائیں۔

بابا جی نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ ماحول میں ناقابل بیان سوگواری چھا گئی۔ تھوڑے توقف کے بعد بابا جی میرا ہاتھ تھام کر بولے۔ آزادی کے سپاہی آج تک نہیں پہنچے پر یہ سارے لوگ کہاں سے آ گے۔ ان لوگوں نے مذہب کو بیچا ماں بہنوں کے سودے کیے لسانی مذہبی فرقہ واریت کو فروغ دیا۔ ذات پات کو لڑوا مروا دیا۔لوٹ مار کرپشن کو فروغ دیا۔ برادری کے نام پر سیاست کی۔

ملک کے دو لخت کر دیا۔ ملکی مفادات کا سودا کر دیا۔ پاکستانی قوم کی آئندہ آنے والی نسلوں تک کو قرضوں کے جال میں قید کر دیا۔بھاری قرضوں کی صورت ایک بار پھر غلامی کا طوق پہنا دیا۔ کل سے میرا دل بہت پریشان اور غم ذدہ ہے۔ کل میں نے اخبار میں خبر پڑھی قیام پاکستان سے لے کر آج تک بائیس خاندانوں کی پاکستان پر حکومت ہے۔ بابا جی نے مجھے جنجھوڑتے ہوئے پوچھا تم بتاو یہ ملک بائیس خاندانوں کی حکومت کے لیے معرض وجود آیا ہے۔

ان کی لوٹ مار کے لیے قربانیاں دی تھیں۔ بولو مجھے جواب دو۔مجھے جواب دو۔بار بار مجھے جنجھوڑ کر سخت لہجے میں پوچھ رہے تھے۔ میرے پاس ان کے کسی سوال کسی قربانی کسی جذبہ حب الوطنی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میں چپ چاپ انھیں دیکھے جا رہا تھا۔ اتنے میں ایک نوجوان آیا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔آپ یہاں سے اٹھ جائییں بابا پاگل ہے۔ پاگل کا لفظ سنتے ہی بابا جی فوراً اٹھے اور اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے ہیجانی کفیت میں بولتے چلے جا رہے تھے۔ ہاں میں پاگل ہوں۔میں نے پاکستان سے پیار کیا ہے۔ہاں میں پاگل ہوں۔۔پاگل ہوں۔۔ پاگل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2020-03-23

Your Thoughts and Comments