Mera Dost Chin Gaya, Aur Kash Baqi Reh Gaya

میرا دوست چِھن گیا۔۔۔اور کاش باقی رہ گیا

حفصہ انور جمعہ مارچ

Mera Dost Chin Gaya, Aur Kash Baqi Reh Gaya
مجھے آج بھی یاد ہیں اس کے آخری الفاظ.... کہ اگر جی پائے تو جی لینا ورنہ *مر* جاؤتو اچھا ہے آج لگا کے مجھ سے میری زندگی چھین لی گئی میرے ایک خوف نے مجھ سے میرا سب سے پیارا دوست چھین لیا۔۔ وجہ بنی!! میرا غصہ خوف ڈر۔۔۔ خوف تنہائی کا۔۔ نعمت کے چھین جانے کا۔۔خوف دل کے ٹوٹنے کا تکلیف کے ہونے کا۔۔خوف کسی اپنے کو بے پناہ محبت کی وجہ سے کھو دینے کا۔

۔۔خوف پھر سے خود کو ان اندھیروں میں واپس جاتا دیکھنے کا۔۔۔خوف رونے کا۔۔نیند کے نا آنے کا۔۔۔خوف مایوسی کا۔۔ خوف خود کے ختم ہونے کا۔۔خوف ایک احساس کے بچھڑ نے کا۔۔خوف کھو دینے کا۔۔۔خوف خوشیوں کے بدل جانے کا۔۔خوف عادت بننے کے بعد ٹوٹٹی دیکھنے کا۔۔۔خوف عادت کے بدل جانے کا بدلنے میں ہونے والی تکلیف کا۔۔خوف وقت کے ساتھ محبت کے جذبے کو کم ہوتے دیکھنے کا۔

(جاری ہے)

۔ میرے ڈر نے خوف نے آج مجھ سے میری زندگی کا سب سے پیارا دوست میری جان میری دنیا وہ اک دوست چھین لیا۔۔۔میں اپنے خوف پر اتنی خود غرض ہو گئی کے اسے جانے کا کہ دیا۔۔۔ ایک بار نا سوچا اس کا۔۔ اس کے دل کا۔۔ یہ بھی نا سوچا کے میں تو دنیا ہوں اسکی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے تو اسے محبت سے نفرت ہو گئی تو اسکا مان بھروسہ ٹوٹ گیا تو۔۔۔ کاش یہ سب بھی سوچا ہوتا کاش کے نا جانے دیا ہوتا کاش کچھ سیکنڈ کے لفظ جو صدیوں کا درد بن گئے نا بولے گئے ہوتے۔

۔کاش میرا بھروسہ خوف سے زیادہ بڑا ہوتا۔۔۔کاش میں وقت کو چند لمحہ پیچھے لے جا سکتی۔۔۔ اے کاش میں نے جانے دیا کیوں کہ مجھے کھونا نہیں تھا اسے۔۔۔مجھے لگا کے میرا دور کردینا وقت کے دور کردینے سے زیادہ آسان ہوگا پر یہ سب سے مشکل نکلا۔۔میرا دوست میری وجہ سے دُکھی ہوا اب یہ احساس میری زندگی کے ہر پل کو تکلیف دہ بنائے گا اس کے جانے پر ایسے لگا جیسے میری روح مجھ سے جدا ہوئی۔

۔۔ ایسے جیسے دل ابھی پھٹ جائے گا۔۔ میری سانسیں تھم جائیں گی۔۔ پھر!! چند لمحے کی غلطی کا احساس واپسی کی التجا کرنے لگا آخری موقع کی تلاش کی تڑپ اٹھنے لگی لیکن لفظوں کا ازالہ کیسے ہوتا۔۔ میرا ہر مرہم تو بیکار تھا۔میری دنیا چِھن گئی تھی پر یقین نا ممکن تھا ۔۔۔ ہائے وہ میری آخری صدا مت جاؤ چھوڑ کر خدا کے لیے''- میرا خوف زیادہ مہلک ثابت ہوا اگر قسمت دور کر دیتی تو صبر ممکن تھا۔۔۔پر اب تکلیف اپنے کیے کی ہے ملال اپنی سوچ کا ہے جو شائد ساری زندگی ایک بوجھ کی طرح میرے دل دماغ پر ہاوی رہے گا۔۔۔آج یہ پچھتاوا میری زندگی کا حصہ بن گیا۔۔۔زندگی چیخ بن گئی میری، درد ایسے اُلجھ پڑے ہیں مُجھ سے۔۔ ''وہ کسی اور کی بانہوں میں ہے اور یہ صدمہ خدا جانتا ہے''
تاریخ اشاعت: 2020-03-06

Your Thoughts and Comments