Nadia Morad Ki Kahani

نادیہ مراد کی کہانی

بدھ اکتوبر

Nadia Morad Ki Kahani

عراق کی پرامن یزدی برادری سے تعلق رکھنے والی نادیہ کو آج اقوام متحدہ نے انسانی تجارت کا شکار بننے والے افراد کے لیے خیر سگالی سفیر مقرر کیا ہے ۔اقوام متحدہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ظلم سہنے والے کسی فرد کو اس عہدے پر فائز کیا گیا ہے ۔23سالہ نادیہ کو داعش کے درندوں کے ظلم سہنے اور پھر مظلوم لوگوں کے حق کے لیے جدوجہد کرنے پرامن کے نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا ہے ۔


دراصل جارج بش اور ٹونی بلےئر نے 2003میں جب عراق پر حملہ کیا تو نادیہ مراد 8سال کی تھی ۔اس احمقانہ حملے کے نتیجے میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کو جڑ پکڑنے کے موقع میسر آئے اور اس نے خون کی ندیاں بہا دیں۔
اگست 2014ء کا وہ خوفناک دن آج بھی نادیہ کی یادداشت پر نقش ہے جس داعش نے عراق کے شمالی علاقے سنجار کے گاؤں کو چوپر حملہ کیا ۔

(جاری ہے)

دہشت گردوں نے گاؤں کے تمام مردوں کو قتل کر دیا اور تقریباً 3200عورتوں اور ننھی بچیوں کو اپنے گڑھ موصل لے گئے ۔

نادیہ کے 6بھائی اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیے گئے اور اسے اس کی دو بہنوں اور بھتیجیوں کے ساتھ یر غمال بنالیا گیا ۔داعش نے سنجار کے علاقے میں 5ہزار یزدیوں کا قتل عام کیا۔
50ہزار سے زائد یزدیوں نے بھاگ کر کوہ سنجار پر پناہ لی ۔موصل میں دہشت گردوں نے ان خواتین اور بچیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ،کچھ کو فروخت کیا گیا جبکہ کچھ کو تحفتاً ایک دورے کو دے دیا گیا ۔

نادیہ نے تین ماہ جنسی غلامی میں گزارے جہاں اسے کئی ہاتھوں میں بیچا گیا،پھر وہ اپنی ہی طرح مصیبت کے شکار ایک خاندان کی مد د سے فرار ہوئی اور عراق میں کردوں کے علاقے ”دھوک “میں موجود پناہ گزین کیمپ چلی گئی،جہاں سے اسے دیگر تارکین وطن کے ساتھ سیاسی پناہ کے لئے جرمنی لے جایا گیا۔
داعش کی جہنم سے نکل کر آزاد فضاؤں میں سانس لینے تک کا سفر نادیہ مراد طحہٰ کے لیے آسان نہیں تھا ۔

اجتماعی زیادتی ،جسمانی تشد د اور پھر جنسی غلام بنا کر بار بار فروخت ہونے کے عمل نے انسان ہونے کا احساس ختم کر دیا تھا ۔انسان نما درندوں کے چنگل سے فرار ہونے کے بعد نادیہ مراد نے عالمی برادری کا ضمیر جگانے اور دنیا کو داعش کی بہیمیت سے آگاہ کرنے کا تہیہ کیا۔جرمنی میں سیاسی پناہ ملنے کے بعد نادیہ کی ملاقات انسانی حقوق کی کارکن اور معروف لبنانی نژاد برطانوی بیر سٹرامل کلونی سے ہوئی اور امل نے دنیا کو اس جرات مند لڑکی سے متعارف کرا یا ۔


دسمبر 2015ء میں سلامتی کو نسل نے پہلی دفعہ جنسی غلامی اور انسانی سمگلنگ کے موضوع پر اجلاس منعقد کیا جس میں نادیہ نے عالمی رہنماؤں کو بریفنگ دی۔ستمبر 2016ء میں نادیہ کو آزادی خیال کے سخاروف پرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا ۔”ٹائم جریدے“نے نادیہ کو 2016 کے 100بااثر افراد میں شمار کیا تا کہ اس کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جاسکے ۔

نادیہ نے متعدد ریاستی وحکومتی سربراہان سے ملاقات کی اور انہیں یزدی برادری کی حالت زار کے متعلق آگاہ کیا۔
امن کا نوبیل انعام جیتنے والی اس عراقی خاتون نادیہ مراد کی دستاویزی فلم’آن ہر شولڈرز ‘19اکتوبر کو پوری دُنیا میں ریلیز ہو چکی ہے ۔فلم کا پرومو پہلے ہی منظرِ عام پر آچکا تھا ۔نوبیل انعام کے اعلان کے ساتھ ہی اسے دیکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔


فلم’آن ہر شولڈرز‘نہ صرف امریکہ اور برطانیہ کے تھیٹر ز کی زینت بنی بلکہ دنیا کے کئی بڑے فلم فیسٹیولز کی بھی رونق بنی ۔ان میں ’فاریسٹ سٹی فلم فیسٹیول ‘بھی شامل ہے جو 24سے28اکتوبر تک امریکہ میں جاری رہا۔
فلم کے بارے میں نادیہ کا کہنا ہے کہ ”فلم میں انہوں نے اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو پیش کیا ہے اور اپنے قبیلے کی جدوجہد بیان کی ہے ۔


ان کا یہ قبیلہ شمالی عراق میں آباد ہے جہاں کے ایک گاوں میں نادیہ مراد 1993ء میں پیدا ہوئیں ۔اس گاوں پر چار سال پہلے داعش کے جنگجو حملہ آور ہوئے اور اس پر قبضہ کر لیا ۔اس ظلم کے خلاف جس نے بھی آواز اٹھائی یا ان کا حکم نہیں مانا،اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔مرنے والوں میں نادیہ کی والدہ اور چھ بھائی بھی شامل تھے جب کہ نادیہ ان لڑکیوں میں شامل تھیں جنہیں جنگجووں نے اپنی کنیزیں بنا کر آپس میں بانٹ لیا تھا ۔

نوبیل انعام جیتنے کے بعد سے نہ صرف نادیہ مراد کی عالمی سطح پر شہرت میں اضافہ ہوا بلکہ دنیا کے ہر ملک کا میڈیا ان پر گزری کہانی سامنے لا رہا ہے ۔
نادیہ کوداعش کی تین ماہ کی قید میں ان گنت تکلیفوں اور اذیتوں کو سامنا کرنا پڑا تھا ۔اس دوران انہیں جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا تارہا۔آخر کارتین ماہ بعد قید سے رہائی ملی تو انہوں نے یہ سوچتے ہوئے کہ جن تکالیف اور اذیتوں کا انہوں نے سامنا کیا ہے کوئی اور لڑکی اس طرح کے حالات سے دوچار نہ ہو،جنسی تشدد کو طور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف باقاعدہ ایک مہم شروع کی۔

اسی مہم پر انہیں امن کے نوبیل انعام نے نوازا گیا ہے ۔
نادیہ کا کہنا ہے کہ ”وہ داعش کی دہشت گردی کا شکار ہونے والی لڑکی کے نام سے مشہور ہونا نہیں چاہتیں ۔اس کے برعکس ان کے بقول انہیں خود کو ایک بہترین ڈریس میکر ،کھلاڑی ،طالبہ ،میک اپ آرٹسٹ یا کاشت کار کے طور پر متعارف کرانا پسند ہے ۔وہ اقوام متحدہ کی انسانی اسمگلنگ کے خلاف خیر سگالی کی سفیر رہنے کے ساتھ ساتھ ’واکلیو ہیومن رائٹس ایوارڈ ’اور ’ سخاروف ایوارڈ ‘بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔نادیہ اقوام متحدہ ،امریکہ اور یورپ کے بہت سے فورسز سے خطاب بھی کرتی رہی ہیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-10-24

Your Thoughts and Comments