Burhiya Ki Billi

بڑھیا کی بلی

جمعرات نومبر

Burhiya Ki Billi

سعدی رحمتہ اللہ علیہ
ایک مسکین بڑھیا اپنے ٹوٹے پھوٹے مکان میں زندگی بسر کررہی تھی۔ اس نے ایک بلی پال رکھی تھی جو اس گھر میں جوان ہوئی تھی اس لیے بلی کو بھی بڑھیا سے بے حدانس تھا۔
بچوں نے ایک مرتبہ کوچے میں بلی کوڈرایا تھا۔ ایک مرتبہ کتوں نے بھی اس کا تعاقب کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بلی نے گھر سے باہر کبھی قدم بھی نہ رکھا تھا اس لیے بھوک اور قناعت سے گزربسر کررہی تھی۔


اس بدبخت بلی نے کبابوں کی خوشبو صرف ہمسایوں کے گھر سے سونگھتی تھی اور تازہ روٹی صرف لوگوں کے ہاتھ میں دیکھی تھی کیونکہ اس گھر میں اس کی خوراک صرف خشک روٹی تھی یا کبھی کبھاراس کی مالکہ اس کے لیے خشک روٹی شوربے میں بھگو دیتی تھی۔
بلی کو ہمیشہ یہ خواہش ہوتی کہ وہ اس انتظار میں رہے کہ کسی بل سے چوہے کی آواز سنے، کچھ دیر گھات لگا کر بیٹھ جائے تاکہ چوہے کو اپنے چنگل میں پکڑلے، ان خیالات سے وہ خوش ہوتی اور کہتی ، مجھے تو انہیں کھانا بھی گوارا نہیں ہے لیکن مجبوری ہے صرف یہ چاہتی ہوں کہ کچھ دیران سے کھیلتی رہوں انہیں پکڑ کر چھوڑدوں اور آنکھیں بند کر لے لیٹ جاؤں اور جونہی وہ بھاگے تو اس کا تعاقب کروں اور دوبارہ پکڑ کر کھالوں۔

(جاری ہے)

اور اس کے بعد اس کی وہی قحط سالی اور بھوک شروع ہو جائے۔
وقت اسی طرح گزرتا رہا کہ ایک دن بلی خوراک کی تلاش میں بڑی مشکل سے دیوار سے ہوتے ہوئے چھت پر جا پہنچی اس نے چاروں طرف سونگھنا شروع کردیا کہ دیکھے کہ کھانے کی بوکہاں سے آرہی ہے۔
وہ جونہی چند قدم آگے بڑھی تو اس نے دیکھا کہ ہمسائے کے گھر کی دیوار پر ایک قوی ہیکل جانور بیٹھا ہے جس کی بڑی بڑی مونچھیں کانوں کو چھورہی تھیں اس کے کان بھی بڑے اور پاؤں بھی بھر کم تھے یہ جانور آہستہ آہستہ بڑھنے لگا جسے دیکھ کر بلی خوفزندہ تھی اس نے چاہا کہ بھاگ جائے لیکن اپنی بے حالی اور بے طاقتی سے بھاگنے کی ہمت نہ کرسکی۔


جب اس نے غور سے دیکھا تو یہ جانور بلی ہی تھی اس لیے اپنی جگہ پر کھڑی رہی یہاں تک کہ بڑی بلی اس کے قریب پہنچ گئی بڑھیا کی بلی کو اس کا قیافہ اندام اور ہیکل بے حد پسند آئے، اس لیے کہنے لگی واہ واہ ! میں بے حد خوش ہوں، کیا ممکن ہے کہ مجھے بھی بتاؤ تمہیں ایسی توانائی کس طرح حاصل ہوئی ہے۔ بڑی بلی نے جواب دیا، میں تمہارے حسن ظن کی مشکور ہوں میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے تو تمہارے لاغرپن سے یہ خیال کیا کہ شاید تم مکڑی ہو لیکن اب دیکھ رہی ہوں کہ تم واقعی ایک بلی ہو لیکن تم پوچھ رہی ہو کہ میں اتنی موٹی تازی کیوں ہوں؟ میری بہن ! اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی سے لطف اٹھاتی ہوں۔

خوب کھاتی ہوں اور خوب سوتی ہوں اور اپنا وقت خوشی سے گزارتی ہوں، یہی وجہ ہے کہ چاق وچوبندہوں۔
دبلی بلی نے کہا، تو کیا کھاتی ہے اور اپنی خوراک کہاں سے حاصل کرتی ہو؟
بڑی بلی نے جواب دیا، میں بادشاہ کے دسترخوان سے ریزے چنتی ہوں۔ ہرروز شاہی باورچی خانہ میں حاضری دیتی ہوں وہاں روغنی روٹی ، بھنا ہوا مرغ اور بکرے کے کباب کھاتی ہوں اور اگلے دن سیر رہتی ہوں، باقی وقت بھی کھیل کود اور تفریح میں گزارتی ہوں یا آرام کرتی ہوں، شاید تو نہیں جانتی کہ سب لوگ خوراک ہی سے چست وچالاک بنتے ہیں اور کوئی شخص صرف ہوا میں سانس لینے سے طاقتور نہیں بنتا! اگر تیری زندگی بھی میری طرح ہوتی تو بھی میری طرح قوی ہیکل ہوتی۔

دبلی بلی نے کہا، تو سچ کہہ رہی ہے لیکن تو نے کہا ہے ، بھنا ہوا مرغ ! میں نے تواپنی زندگی میں اس کانام بھی نہیں سنا اور بکرے کے کباب کا رنگ بھی نہیں دیکھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ میری خوراک کیا ہے؟ تھوڑی سی خالی روٹی ․․․․ اور کبھی کبھار بڑھیاکا بچا ہوا شوربا، ہاں ! شاذونادر چوہے کا گوشت بھی ہاتھ آجاتا ہے۔
بڑی بلی ہنسی اور کہا، یہی وجہ ہے کہ تم اس طرح لاغرہواور مرنے کے قریب پہنچ گئی ہو لیکن اس میں تمہاری اپنی غلطی ہے، آخر چوہا بھی کوئی کھانے کی چیز ہے ؟ چوہا تو صرف بلی کے بچوں کے لیے کھلونا ہوتا ہے، بہتر ہوگا کہ میرے مشورے کے مطابق اپنے لیے کچھ سوچو کیونکہ عمر بہت چھوٹی ہے اس لیے جہاں تک ہوسکے خوشی سے زندگی گزار و اور جو چیز جہاں سے ملے کھالو،وگرنہ بڑھیا کے گھر سے چوہے پکڑنا، خشک روٹی اور شوربے پر قناعت کرنا، بلیوں کے لیے باعث شرم ہے․․․․․․ عقلمند بلی تو وہ ہے جو ایک گھر میں پابند نہ ہو، وہ ہر جگہ جائے تاکہ بہترین خوراک حاصل کرے۔


دبلی بلی نے درخواست کی اور کہا ، اے دوست ! اگر یہ معاملہ ہے تو ایک دوسرے کے ہم جنس ہونے کے ناطے سے میری رہنمائی کرو تاکہ میں بھی شاہی باورچی خانے سے اپنا پیٹ بھروں اور ہمیشہ تمہاری دعا گور ہوں۔
بڑی بلی کا دل بھر آیا اور طے ہوا کہ اب جس وقت شاہی باورچی خانے میں جائے گی تو اسے اطلاع دے گی اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ کر چلی گئیں۔


بڑھیا کی بلی اس وعدے کی خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی اس لیے چھت سے اتری اور سارا واقعہ گفت وشنید بڑھیا کو سنا دیا لیکن بڑھیا نے اسے نصیحت کی اور کہا تو نے جو باتیں کہی ہیں یہ تو ایک آزاد اور آوارہ بلی کی کہانی ہے جو نہ توچوہے پکڑتی ہے اور نہ ہی گھر کے مالک کی خدمت کرتی ہے وہ صرف پیٹ بھرنے اور باورچی خانہ میں چوری کرنے کی عادی ہے اس لیے ان کاموں کا نتیجہ برا ہوتا ہے۔

میری بات غور سے سنواور اسی زندگی پر صبر اور شکر کرو اور جان لو کہ جہاں بھنے ہوئے گوشت ہوتے ہیں وہاں جان کا خطرہ بھی ہے ہم یہاں آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں اور ہماری دنیا میں کسی قسم کا غم اور تکلیف نہیں ہے۔
دبلی بلی نے کہا، یہ تمام باتیں درست ہیں لیکن اب میں روٹی اور شوربے پر قناعت نہیں کرسکتی ،میرا دل بکرے کے کبابوں اور بھنے ہوئے گوشت کھانے کے لیے مچلتا ہے لیکن اس گھر میں یہ چیز میسر نہیں ہے اب جبکہ ایک دوست میرے لیے یہ چیزیں مہیا کرنے کے لیے تیار ہے تو میں نہیں سمجھتی کہ تو کس لیے مجھے اجازت نہیں دیتی ۔


بڑھیا نے کہا، میری پیاری ! یہ باتیں توناتجربہ کار لوگوں کے لیے ہیں اور جو شخص چاہتا ہے کہ تجھے بھنے ہوئے مرغ تک پہنچا دے وہ تمہارا دوست نہیں ہے بلکہ دھوکہ بازاور آوارہ ہے ایسے شخص کو کسی گھر میں گھسنے نہیں دیتے اور اس کی زندگی کا دارومدار چوری پر ہے وگرنہ بھنا ہوا گوشت اور بکرے کے کباب بلیوں کے لیے نہیں پکائے جاتے اور جو لوگ انہیں تیار کرتے ہیں وہ کسی کو مفت نہیں دیتے ۔

اگر کوئی تمہارا خیر خواہ دوست ہے تو وہ میری ذات ہے، میں نے تجھے جوان کیا ہے اور اپنے دامن میں تیری پرورش کی ہے ،اگر پھر بھی نہیں سننا چاہتی تو تمہاری اپنی مرضی ․․․․․ لیکن بلی پرکوئی نصیحت کار گرنہ ہوئی اور بڑھیا کی باتیں اس کے کانوں میں نہ اتریں اس لیے اگلے دن آوارہ بلی کے پیچھے پیچھے شاہی باورچی خانے میں پہنچ گئی ۔اتفاقاً جب وہاں پہنچی تو کچھ دیر پہلے ایک ظالم بلی نے گوشت کا ایک ٹکڑا باورچی خانے سے چرایا تھا اور بھاگ گئی تھی اس لیے شاہی خدمت گار بلیوں کے ہاتھوں نہایت غصہ میں تھے ․․․․․
چونکہ بڑھیا کی بلی اس واقعہ سے لاعلم تھی اس لیے جونہی گرم غذا کی خوشبو اس کے دماغ میں پہنچی تو ہر طرح کی احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر گوشت کی طرف لپک پڑی جو باورچی خانے میں سیخ پر لٹکا تھالیکن ابھی اس کاہاتھ گوشت تک نہ پہنچا تھا کہ باورچی نے اس پر حملہ کردیا اور کباب کے سیخ تیر کی طرح اس کے پاؤں پر جالگی جس سے اس کا پاؤں بری طرح زخمی ہوگیا۔

بدبخت بلی لنگڑاتے ہوئے بڑی مشکل سے گھر پہنچ گئی اور اپنے دل میں عہد کیا کہ اب آوارہ بلی کی باتیں نہ سنے گی اور مفت کی خوراک کے لیے اپنے آپ کو خطرے میں نہ ڈالے گی اور اسی زندگی پر قناعت کرے گی۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-28

Your Thoughts and Comments