Chakki Ka Pathar

چکی کا پتھر

بدھ نومبر

Chakki Ka Pathar

سعدی رحمۃ اللہ علیہ
شیخ ابو سعید بہت بڑے درویش تھے جو نہایت نیک دل اور دانا تھے،نیشا پور میں آپ کی خانقاہ میں کئی صوفی منش افراد آپ کے درس میں شامل ہوتے نیز آپ کے کئی مرید اور شاگرد تھے۔ایک دن شیخ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ ایک صحراسے گزررہے تھے جہاں ایک پن چکی تھی،چشمہ کا پانی بلندی سے پہئے پر گرتا جس سے چکی کا پتھر گھومتا اور جو اور گندم پس کر آٹا بنتے رہتے۔


ہمیں معلوم ہے کہ چکی میں دوگول پتھر ہوتے ہیں ایک نچلا پتھر جو حرکت نہیں کرتا،ایک اوپر والا پتھر جو پانی کے دباؤ سے گھومتا ہے،گندم اور جوکے دانے ایک سوراخ سے دونوں پتھروں کے درمیان گرتے رہتے ہیں جنہیں پتھر بیس دیتے ہیں‘جو اور گندم کا آٹا نچلے پتھر سے گر جاتاہے۔

(جاری ہے)

حضرت ابو سعید جب چکی کے نزدیک پہنچے تو اپنے دوستوں سے کہا ،تم یہیں ٹھہرو،میں اندر جا کر یہ نظارہ دیکھ کر ابھی واپس آتا ہوں۔

چکی بان اپنے شاگرد کے ہمراہ کام میں مشغول تھا چند دوسرے گاہک بھی موجود تھے جو اپنی باری کے انتظار میں تھے۔
شیخ ابو سعید اپنے درویشی لباس میں پن چکی میں داخل ہو گئے انہیں سلام کیا اور ایک کونے میں کھڑے ہو کر ان کا کام دیکھنے لگے۔
ایک گاہک اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا اس نے اپنا آٹا بورے میں ڈالا اور چل پڑا ایک دوسرے گاہک کی گندم چکی میں ڈال دی گئی تھی اور وہ بھی جانے کی تیاری کررہا تھا۔

چند دوسرے گاہک بھی آگئے تھے لیکن شیخ ابو سعید بدستور کھڑے تھے اور چکی کو غور سے دیکھتے رہے۔جب ایک گاہک نے دیکھا کہ ابو سعید پتھر کو گھومتے ہوئے دیکھ کر سیر نہیں ہورہے تو چکی بان کے پاس آکر کہنے لگا،اس درویش کو دیکھو،گویا اس نے چکی کبھی نہیں دیکھی۔
چکی بان نے کہا،نہیں یہ بات نہیں ہے،میں اس درویش کو جانتا ہوں یہ سب چیزیں اسی طرح دیکھتا ہے اورایک مضمون تیار کرتاہے تم اسے اپنے حال پر رہنے دوتاکہ تماشا کرتا رہے۔

ایک دوسرے گاہک نے کہا،لیکن یہ مومن تو رورہا ہے اس کی آنکھیں دیکھو شاید خیال کرتاہے یہ پتھر کسی معجزہ سے گھومتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کررہا ہے۔
ایک دوسرے نے کہا،نہ بابا ،یہ درویش اور گداگر ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کوئی اسے مٹھی بھر آٹا خیرات دے دے۔
لیکن ابو سعید نے ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی وہ اسی طرح سوچتا رہا۔آنسوؤں سے اس کا چہرہ بھیگ گیا تھا اور بد ستور کھڑا تھا۔


جب شیخ کو لوٹنے میں دیر ہو گئی تو آپ کے دوست آپ کی تلاش میں آکر کھڑے ہو گئے․․․․ایک دوست نے کہا معلوم ہوتاہے جناب شیخ کو یہ نظارہ بہت پسند ہے؟
گاہک بھی شیخ کا جواب سننے کے لیے متوجہ تھے۔شیخ نے جواب میں کہا چکی کا تماشا مجھے پسند ہے یا نہیں لیکن چکی کے پتھر کی نصیحت مجھے پسند ہے،یہ پتھر مجھ سے باتیں کررہا ہے اور مجھے نصیحت کررہا ہے ۔

کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کیا کہتاہے؟
شیخ کے ایک مرید نے کہا،آپ بہتر جانتے ہیں۔
ابو سعید نے کہا ،یہ پتھر اپنی زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ تونے اپنا نام درویش رکھا ہے اور تیرادل خوش ہے کہ دانا دل اور ہوشیار ہو دنیا میں گھومتے اور مضمون لکھتے ہو اور سمجھتے ہو کہ کوئی اہم کام انجام دے رہے ہو لیکن درویش تو میں ہوں،دانا دل اور ہو شیار بھی میں ہوں۔

میرے پاؤں بندھے ہوئے ہیں لیکن اس حال میں بھی تم سے زیادہ گردش کرتا ہوں،یہ گردش دوسروں کو زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے․․․․تو خیال کرتاہے کہ موٹے اور سخت کھدر کا لباس پہن رکھا ہے جو تیری درویشی کی نشانی ہے لیکن میں تجھ سے بہتر ہوں کیونکہ سخت دانے لیتا ہوں اور نرم آٹا بخشتا ہوں․․․․تو خیال کرتاہے کہ پوری دنیا میں گھومو اور اسے پاؤں تلے روندوتا کہ سمجھ سکو کہ لوگوں کو حقیقت کا بہت ہی کم علم ہے اس لیے پریشان ہیں۔

لیکن اے ابو سعید!میں نے اسی قید میں حقیقت کو سمجھ لیا ہے․․․․․تو خیال کرتاہے کہ چونکہ تجھے سب باتوں کاعلم نہیں اس لیے غور وفکر کو پیشہ بنا لیا ہے اور دولت دنیا کی بدگوئی کرتے ہو لیکن میں تجھ سے بہتر ہوں کہ اپنے ہنر کے انداز اور توانائی کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہوں اور دوسروں کے کاموں سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا․․․․تو سمجھتا ہے کہ جس شخص نے اپنی داڑھی پن چکی میں سفید کی ہے اور بے تجربہ ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ کئی ایسی داڑھیاں ہیں جو وقت گرنے پر سفید ہو جاتی ہیں لیکن ان کا مالک اسی چکی بان کے مانند زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھتا․․․․․تو نے باوجود اس کے دنیا کے مال سے کنارہ کشی اختیار کی ہے اور سمجھتا ہے کہ درویش اور صوفی ہو لیکن لوگوں نے تحائف وصول کرتے ہو اور اس کے بدلے انہیں کچھ نہیں دیتے لیکن میں جو کہ چکی کا پتھر ہوں اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں کرتا میں لوگوں سے جو چیز لیتا ہوں دوبارہ اس سے بہتر انہیں لوٹا دیتاہوں اور ان کے حق کا ایک ذرہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتا․․․․․
شیخ ابو سعید نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،چکی کے پتھر کی باتوں کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا ہے اور میرادل جل رہا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ درست کہتاہے ۔

ہم سب صرف دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ ہنر ہے۔ہم گفتار ہیں لیکن وہ عمل ہے۔ہم بیکار ہیں لیکن وہ کام میں لگا ہے،ہم سب تلاش میں ہیں لیکن اس نے پالیا ہے۔ہم سب رستہ میں ہیں لیکن اس نے منزل کو چھولیا ہے۔
ابو سعید کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا آپ کے دوست بھی اس نکتہ سے متاثر تھے لیکن گاہک سب کو دیکھ رہے تھے اور نہ جانتے تھے اور شیخ کیا کہنا اور سمجھانا چاہتا ہے۔


ایک گاہک نے چکی بان سے کہا،کیا شیخ کا مقصد تمہاری سمجھ میں آرہا ہے؟
چکی بان نے کہا،ہاں!ان کا کام یہی ہے،چند روشن دل درویش ہیں یہ سب چیزیں دیکھتے ہیں اور انہی کی باتیں کرتے ہیں، شیریں زبان اور خوش ذوق ہیں ،ہر کام کار از تلاش کرتے ہیں اور نکتے بیان کرتے ہیں روتے ہیں اور ہنستے ہیں،سب کو نصیحت کرتے ہیں کبھی درست کہتے ہیں اورکبھی شبہ میں پڑ جاتے ہیں لیکن کا م کا رشتہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔یہ ہم ہی ہیں کہ جواور گندم کا آٹا بناتے ہیں جس پر لوگوں کی زندگی کا انحصار ہے ،دنیامیں کئی نیک لوگ موجود ہیں لیکن اگر کام اور عمل کرنے والے لوگ نہ ہوں تو دنیا کے کام لنگڑا کررک جائیں گے۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-13

Your Thoughts and Comments