Choron Ka Giroh

چوروں کا گروہ

جمعرات مئی

Choron Ka Giroh
سلطان محمد غزنوی رات کو بھیس بدل کر سیر کیا کرتا تھا کہ رعایا کے نیک و بد کی خبر رکھے۔ ایک دن اسے پانچ چور ملے۔ سلطان نے کہا میں بھی تمہارا ہی ہم پیشہ بھائی ہوں۔اے مکرکیش گروہ! تم میں سے ہر ایک کیا کیا کمال رکھتا ہے۔ ایک بولا؛ میرے کان میں یہ خاصیت ہے کہ کتے کی بولی سمجھ لیتاہوں۔ یاروں نے کہا یہ ہنر دو دمڑی کے برابر ہے۔ دوسرے نے کہا ؛میری آنکھ میں یہ خاصیت ہے کہ اندھیری رات میں بھی ہزاروں آدمیوں میں جس کسی کو ایک دفعہ دیکھ لوں دن کو میں اسے فوراً پہچان لیتا ہوں۔

تیسرا گویا ہوا ؛ میرے بازئوں میں یہ خاصیت ہے کہ خواہ کیسی ہی سنگلاخ دیوار ہو میں اس میں نقب لگا لیتا ہوں۔ چوتھے نے کہا ؛میری ناک میں یہ خاصیت ہے کہ میں مٹی سونگھ کر بتا سکتا ہوں کہ اس میں کیا ہے۔

(جاری ہے)

زر و جواہر ہے یا کچھ یعنی مجھے مٹی سے زر و جواہر کی بو آ جاتی ہے۔ پانچواںبولا ؛ میرے پنجے میں یہ خاصیت ہے کہ خواہ کتنا ہی بلند مقام ہو میں اس پر کمند مضبوطی سے لگا سکتا ہوں ۔

محمود نے جواب دیا میری ڈاڑھی میں یہ خاصیت ہے کہ جب میں اسے ہلائوں تو جلادوں کے سپرد کیے ہوئے گردن زدنی مجرم چھوٹ جاتے ہیں۔ چوروں نے کہا پھر تو تو ہمارا قطب ہے جب تو ساتھ ہے تو ہمیں کیا غم۔ آئو آج رات شاہی خزینے اور دفینے پر ہاتھ صاف کریں۔ جب وہ قصر سلطانی کی طرف روانہ ہوئے تو کتا بھونکا۔ تیز سماعت والا چور بولا؛ کتا کہتا ہے کہ بادشاہ تمہارے ساتھ ہے۔

راہ میں ایک مٹی کا تودہ ملا۔ سونگھنے والے نے کہا؛ یہاں ایک بیوہ کا مکان تھا۔ الغرض منزل مقصود پر پہنچے تو کمند لگانے والے نے شاہی محل پر کمندلگائی اور سب دیوار بلند کی دوسری طرف جا پہنچے۔ سونگھنے والے نے سونگھ کر بتا دیا ؛ یہاں خاص شاہی خزانہ ہے۔ نقب زن نے سیندھ لگائی اور زرو بفت اور قیمتی جواہرات نکال کر محل سے باہر لے گئے اور ایک محفوظ جگہ میں سب مال و متاع مخفی کر دیا تاکہ جب پکڑ دھکڑ کا سلسلہ ختم ہو تو پھر نکال کر بانٹ لیں۔

محمود پانچوں کا پتہ نشان پوچھ کر واپس آ گیا۔ صبح اٹھ کر جب دیوان لگا اور اس چوری کی رپورٹ ہوئی تو سب حیران تھے کہ چوروں کو قصر شاہی میں پہنچنے کی کس طرح جرأت ہوئی۔ بادشاہ نے کہا ؛اے غافلو! مجھے اس کا علم ہے، جائو فلاں فلاں جگہ سے پکڑ لائو چنانچہ سپاہی اور کوتوال گئے اور سب کو پکڑ کر دربارمیں لے آئے۔ اور تو سب اپنا اپنا کمال دکھا چکے تھے۔

عارف آنکھ والے کو ابھی اظہار کمال کرنا تھا۔ اس نے دیکھتے ہی اپنے ساتھوں کو بتا دیا کہ بادشاہ تو وہی تمہارا چھٹا ساتھی ہے ،جو تمہارے کام دیکھتا اور راز سنتا رہا۔ میںابھی اسے بتاتا ہوں کہ بادشاہ! میں نے تجھے پہچان لیا ہے۔ پس اس نے عرض کیا؛ اے رات کے رفیق! میرے ساتھیوں کو بخش دے، عارف کی سفارش کو کوئی رد نہیں کرتا۔ ہم سب نے اپنے اپنے کمالات دکھا دیئے۔ اب تو اپنی ڈاڑھی ہلا کہ سب قید و بند سے رہائی پائیں۔ بادشاہ ہنس پڑا اور اپنی ریش مبارک کو جنبش دی، جو اشارہ تھا۔ اس امر کی طرف کہ مجرم چھوڑ دیئے جائیں چنانچہ سب گنہگار آزاد ہو گئے۔(حکایات رومی)
تاریخ اشاعت: 2018-05-17

Your Thoughts and Comments