Naksi

نکسی

جمعہ اکتوبر

Naksi

مدت گزری کہ ایک پن چکی کا مالک جو مال واسباب میں مشہور تھا اور جس کی تمام ضروریات پوری ہونے کے بعد بھی دولت اس کے پاس رہتی تھی۔ لیکن کہتے ہیں کہ مصیبت رات کی تاریکی کی مانند آتی ہے ۔ اچانک یہ شخص مفلس وقلاش ہوگیا۔ اب وہ اپنی پن چکی کو بھی مشکل ہی سے اپنی ملکیت کہہ سکتا تھا۔ وہ سارا دن مایوسی اور ناامیدی میں سرگرداں پھرتا رہتا۔ جب رات کو وہ بستر پر لیٹتا تو ساری مغموم خیالات میں کھویا رہتا۔


ایک روزہ وہ منہ اندھیرے اپنے بستر سے باہر آگیا۔کیونکہ اس کا خیال تھا کہ کھلی ہوا میں اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوگا۔ وہ پن چکی کے پچھواڑے تالاب کے کنارے ٹہل رہا تھا کہ اس نے پانی میں ایک عجیب آواز سنی۔ قریب ہو کردیکھا تو تالاب کی بے تاب لہروں میں سے ایک عورت نمودار ہوئی۔

(جاری ہے)

اسے پہلی نظرہی سے معلوم ہوگیا کہ یہ تالاب کی نکسی کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتی ساتھ ہی اس پر اتنی زبردست ہیبت چھائی کہ وہ سکتے کے عالم میں کھڑا رہا اس کی سمجھ میں نہیں آتاتھا کہ وہ وہاں کھڑار ہے یا بھاگ جائے ۔

وہ اسی عالم میں کھڑاتھا کہ نکسی نے اس کا نام لیکر پکارا اور پوچھا کہ وہ اتنادکھی کیوں ہے۔ جب اس نے سنا کہ نکسی کالہجہ دوستانہ ہے تو اس نے جی کڑا کرکے بتایا کہ وہ اپنی تمام زندگی میں مالدار اور فارغ البال رہا ہے۔ لیکن اب اس کا ہاتھ اتنا تنگ ہوچکا ہے کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آتا۔
نکسی نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے اتنا دولت مند بنادے گی جتنا کہ وہ پہلے نہیں تھا۔

بشرطیکہ وہ اپنے گھر کی چھوٹی جاندار شے بدلے میں دے دے ۔
اس نے سوچا کہ نکسی کی مراد کتے یا بلی کے ننھے بچوں سے ہے۔ اس لیے اس نے نکسی سے وعدہ کرلیا اور پن چکی میں پرامیدواپس آگیا۔ گھر کی دہلیز پر ہی اسے خوش خبری دی گئی کہ اس کی بیوی کے لڑکا ہوا ہے۔ یہ سن کر وہ بڑاپریشان ہوا۔ وہ بوجھل دل کے ساتھ اپنی بیوی اور اس کے رشتہ داروں کے پاس گیا اور اس نے انہیں بتایا کہ اس نے ابھی ابھی نکسی سے کتنا خوفناک معاملہ طے کیا ہے ۔


نکسی نے مجھے جو دولت دینے کا وعدہ کیاہے۔ میں اس دولت کو دے سکتا ہوں۔ اگر میں اپنے بچے کی جان بچا سکوں۔ لیکن اسے کوئی مشورہ دینے کے متعلق کچھ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ سوائے اس کے کہ بچے کوکسی صورت میں بھی تالاب کے پاس نہ جانے دیا جائے ۔
بچہ بخیروعافیت جوان ہوا۔ اس زمانے میں پن چکی کا مالک پہلے سے بھی زیادہ مالدار ہو گیا۔ لیکن وہ اس امارت سے کوئی خوشی حاصل نہیں کرسکا۔

اسے نکسی سے اپنا وعدہ یادتھا۔ اور ہر وقت اسے دھڑکا لگا رہتا تھا کہ وہ وعدہ پورا کرانے کا مطالبہ کرے گی۔
کئی سال گزرگئے۔ لڑکا جوان ہوکرنا مور شکاری نکلا۔ مقامی جاگیردار نے اسے اپنے ہاں ملازم رکھ لیا کیونکہ وہ اتنا ہوشیار اور بہادر شکاری تھا جتنا کہ ہم دیکھنے کی تمنا کرسکتے ہیں ۔ بعد میں اس نے ایک حسین لڑکی سے شادی کرلی اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگا۔


ایک روز وہ شکار کھیل رہاتھا۔ کہ ایک خرگوش اس کے پاؤں کے قریب اچھلا اور اس کے سامنے کھلے کھیت میں بھاگنے لگا۔ شکاری اس کا تعاقب کرنے لگا۔ آخر اسے مارگرایا۔ اسی جگہ اس نے خرگوش کی کھال اتارنا شروع کردی اور اسے دھیان ہی نہ رہا کہ وہ پن چکی کے پچھواڑے تالاب میں پہنچ چکا ہے ۔ جس کے متعلق اسے بچپن ہی سے ذہن نشین کرایا گیاتھا کہ وہ اس سے ہمیشہ دور رہے۔

اس نے جب خرگوش کی کھال اتارلی تو اپنے خون آلود ہاتھ صاف کرنے کیلئے تالاب میں جھکا۔ابھی اس نے پانی کو چھوا ہی تھا کہ نکسی پانی سے ابھری اور اسے اپنے گیلے بازوؤں میں لے کر تالاب کی لہروں میں گم ہوگئی۔
شام کو شکاری گھر نہ پہنچا تو اس کی بیوی بڑی پریشان ہوئی۔ اسے تلاش کرتی ہوئی اس تالاب کے پاس پہنچی ۔ اپنے خاوند کا شکاری تھیلا دیکھ کر اسے معلوم ہوگیا کہ شکاری پرکیا بیتی ہے وہ دکھ اور غم سے نڈھال ہوگئی۔

اور تالاب کے گرد چکر لگاتے ہوئے اپنے خاوند کو پکارنے لگی۔ لیکن اسے کوئی جواب نہ ملا۔ آخر کار تھک ہار کر وہیں بیٹھ گئی اور اسے جلد ہی نیند آگئی ۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک خوش نما سبزہ زار میں وہ جارہی ہے۔ اور سبززار کے آخری کنارے پر ایک کٹیا ہے۔وہ اس کٹیا میں داخل ہوتی ہے وہاں ایک بڑھیا جادوگر اسے ملتی ہے جو اس سے وعدہ کرتی ہے کہ اس کا خاونداسے واپس دلا دے گی۔


جب وہ بیدار ہوئی۔ تو اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ اس جادوگرنی کو ضرور تلاش کرے گی۔ اور وہ اس کی تلاش میں ماری ماری پھرتی رہی۔ آخر اسے وہ سبزہ زار مل گیا۔ جو اس نے خواب میں دیکھا تھا۔ اس کے کنارے کٹیا بھی موجود تھی۔ وہ کٹیا میں گئی اور اس نے جادوگرنی سے تمام واقعہ کہہ سنایا۔
جادوگرنی نے اس سے مدد کا وعدہ کیا اور اسے مشورہ دیا۔ چاند کی چودھویں رات کو تالاب پر جائے ۔

کنارے پر بیٹھ کر سبز کنگھے سے اپنے کالے بال سنوارے۔ شکاری کی بیوی نے جادوگرنی کو ایک قیمتی تحفہ دیا اور اس کا شکریہ ادا کرکے اپنے گھر واپس آئی۔
چودھویں کے چاند تک وقت بڑی مشکل سے گزرتا رہا۔ جب وہ رات آئی تو شکاری کی بیوی تالاب پر پہنچی اور اپنے سیا ہ بالوں میں کنگھی کرنے لگی اور جب اس نے اپنے بال سنوار لیے توکنگھی کو کنارے پر رکھ دیا۔

پھر وہ پانی کو بڑی بے تابی سے دیکھنے لگی۔ اس نے پانی میں ایک آواز سنی اور ساتھ بڑی بڑی لہریں اٹھیں اور وہ کنگھی کو تالا ب میں لے گئیں اور ایک لمحہ کے بعد اس کے خاوند کا سر پانی سے ابھرا اور وہ بڑی حسرت سے اسے دیکھنے لگا۔ لیکن فوراًدوسری لہر اٹھی اور اس نے سرکو پانی میں غرق کردیا۔ یہ اتنی جلدی ہوا کہ وہ بے چارہ ایک لفظ بھی اپنی بیوی سے نہیں کہہ سکا۔

تالاب چاندنی میں ساکن وجامد نظر آرہا تھا اور شکاری کی بیوی پہلے کی طرح اسی طرح بے نیل ومڑام کھڑی تھی ۔
مایوسی اور ناامیدی میں وہ دن رات ماری ماری پھرتی رہی اور جب وہ تھک ہار کر سوگئی تو اس نے بعینہ وہی خواب دیکھا۔ بیدار ہو کروہ اس بڑھیا کے پاس پہنچی ۔ اس بار اس نے مشورہ دیا کہ چاندکی چودھویں رات سونے کی بنسری بجائے اور پھر اس بنسری کو تالاب کے کنارے رکھ دے۔


جب پورا چاند طلوع ہوا تو شکاری کی بیوی نے سونے کی بنسری بجائی اورپھر تالاب کے کنارے رکھ کر انتظار کرنے لگی۔ پھر تالاب سے ایک زور کی لہراٹھی اور بنسری کو بہالے گئی۔ دوسرے لمحے اس کا خاوند لہروں سے بلند ہونا شروع ہوا اور وہ حسرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کا دھڑپانی سے باہر نکلا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی بیوی کی طرف اٹھائے لیکن ساتھ ہی زبردست لہریں اٹھیں اور اسے پانی میں غرق کردیا شکاری کی بیوی اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خاوند کو دوسری مرتبہ غرق ہوتے دیکھ کر بہت ہی افسردہ ہوئی۔


لیکن تیسری مرتبہ پھر وہی خواب آیا اور وہ جادوگرنی کے پاس گئی۔ اس بار جادوگرنی نے اسے کہا کہ چاند کی چودھویں رات کو تالاب پر جائے اور سنہرے چرخہ پر سوت کاتے اور اسے کنارے پر رکھ کر نتائج کی منتظررہے۔
شکاری کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔ چودھویں کی چاندنی میں تالاب پر گئی اور وہاں سنہرا چرخہ کاتنے لگی۔ جب اس نے چرخہ تالاب کے کنارے رکھا تو تھوڑی دیر بعد تالاب سے زورکی لہر اٹھی اور چرخے کو بہا کر لے گئی۔

دوسرے لمحے اس کا خاوند پانی سے ابھرنے لگا اور کنارے پر قدم رکھااور اپنی بیوی سے بغل گیرہوا ابھی انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھاکہ تالاب میں زبردست طوفان پیدا ہوا وہ پانی کناروں سے باہر پھیل گیا اور دونوں کو تالاب میں بہالے گیا۔ ان کی مایوسی کی انتہانہ رہی ۔ جب کہ دونوں مینڈک اور مینڈکی میں بدل گئے۔ لیکن انہیں اکٹھے رہنے نہیں دیا گیا۔

پانی کے بہاؤ نے انہیں الگ کر دیا جب لہریں ختم ہوئیں تو وہ اپنی اصل صورت میں آگئے ۔لیکن دونوں نے اپنے آپ کو عجیب ملک میں پایا۔
شکاری گڈریا ہوگیا اور اس کی بیوی بھی چرواہن ہوگئی ۔ اس طرح کئی سال تنہائی اور مایوسی میں گزرگئے ۔
شکاری گڈریا اس ملک میں آیا جہاں پرچرواہن تھی۔ اسے جگہ بڑی پسند آئی کیونکہ یہاں چراگاہیں بڑی عمدہ تھیں۔

چنانچہ اس نے یہاں سکونت اختیار کرلی۔
دونوں چراگاہ میں ملے لیکن وہ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے البتہ وہ دونوں دوست بن گئے۔ ایک رات جب کہ چودھویں کی چاندی میں گڈریا بیٹھا اپنی بنسری بجارہاتھا۔ اور پاس ہی چرواہن بیٹھی ہوئی تھی۔ بنسری سن کر چرواہن کو وہ رات یاد آگئی۔جب کہ اس کا خاوند اس سے مل کر بچھڑ گیاتھا۔ اس یاد سے اس کا دل بھر آیا اور وہ رونے لگی۔ گڈریے نے اس سے اصرار کے بعد رونے کا سبب پوچھا۔ آخر اس نے تمام واقعہ کہہ سنایا۔ گڈریے کی آنکھوں سے پر دہ ہٹ گیا اور اس نے اپنی بیوی کو پہچان لیا۔ اس طرح چرواہن نے بھی اپنے خاوند کو پہچان لیا پھر دونوں ہنسی خوشی اپنے گھر میں پہنچے اور کئی سال تک خوشی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-25

Your Thoughts and Comments