Sehraa Aur Pani

صحرا اور پانی

منگل جون

Sehraa Aur Pani

ایک صحرا میں ایک عبادت گزار عابد قیام پذیر تھا۔ کچھ حاجی وہاں سے گزرے تو اسے گرم ریت پر عبادت میں مصروف دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صحراکی گرمی ہلاک کرنے والی تھی۔ وہ اس قدر تکلیف دہ مقام میں اپنی عبادت پر اس قدر خوش تھا جیسے کوئی سبزہ گل میں مسرور ہویاجیسے براق کی سواری پر ہو۔ وہ خشوع وخضوع اور عاجزی سے بھرپور اپنے دوست سے استغراق میں گم راز ونیاز کررہاتھا۔


حاجیوں کاوہ گروہ کھڑا ہوگیا اور انتظار کرنے لگا کہ وہ عابد اپنی نماز سے فارغ ہو۔ جب وہ عابد استغراقی کیفیت سے لوٹاتو انہوں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے سے وضوکاپانی ٹپک رہاہے۔ انہوں نے اس سے دریافت کیاکہ یہ پانی کہا سے آیا؟ اس نے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔ حاجی کہنے لگے کہ اے دین کے بادشاہ! ہمیں اپنے راز سے آگاہ کر تاکہ تیری اس حالت سے ہمیں یقین کی قوت نصیب ہو۔

(جاری ہے)


اس عابد نے ان کی دعا کی قبولیت کے لئے آسمان کی جانب ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ اے مولا! میں عالم بالا سے رزق تلاش کرنے کا عادی ہوں کیونکہ تونے میرے لئے اس کادروازہ کھول رکھا ہے تو ان حاجیوں کی دعا قبول فرمالے۔ تو نے مجھے وفی السَّمَاء روُقُکمہ کا مشاہد کروایا ہے۔
اس دوران ابر آیا اور اس نے برسنا شروع کردیا۔ ہر جگہ جل تھل ہوگیا۔

حاجیوں میں سے کچھ کو یقین کامل کی دولت نصیب ہوگئی کیونکہ ہدایت اور یقین عطاکرنا اللہ عزوجل ہی کے اختیار میں ہے۔ ان حاجیوں میں کچھ لوگ کھوٹے اور کچھ کچے تھے یعنی ابدی ناقص تھے اور وہ محروم رہے۔
مقصود بیان:مولانا محمد جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ یقین کامل اور ہدایت کی دولت اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے ہی نصیب ہوتی ہے اور ہدایت انہیں ہی ملتی ہے جو ہدایت کے طلبگار ہوتے ہیں ناقص اور کھوٹے اللہ عزول کی رحمت سے دور ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2018-06-12

Your Thoughts and Comments