Bapp Bhala Na Bhaiye Sub Sy Bara Rupiya

باپ بھلا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ

جمعہ دسمبر

Bapp Bhala Na Bhaiye Sub Sy Bara Rupiya
اطہر اقبال:
ساجد اور ماجد آپس میں بہت ہی گہرے دوست تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب اسکول دو ماہ کے لیے بند ہوئے تو ساجد اور ماجد نے لاہور جانے کا پروگرام بنایا۔ ساجد کی خالہ لاہور میں رہتی تھیں اور ماجد کے ماموں لاہور سے ذرا کچھ آگے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ دونوں دوست ریل گاڑی کے ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پہنچے۔

بڑی دیر تک وہ دونوں کوشش کرتے رہے کہ انہیں ریل گاڑی کے سیلپر باکس میں جگہ مل جائے مگر یہ کام مشکل نظر آرہا تھا۔ بابوجی کیوں پریشان گھوم رہے ہو؟“ ایک قلی نے ساجد اور ماجد کو ریلوے اسٹیشن پر ادھر ادھر ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کر پوچھا۔ سیلپر روم کے دوٹکٹ چاہیئں مگر ٹکٹ دینے والی کھڑکی پر جو صاحب بیٹھے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ٹکٹ ختم ہوچکے ہیں اور آئندہ دس روز تک کی بکنگ ہوچکی ہے۔

(جاری ہے)

ماجد نے قلی کو بڑی تفصیل سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ بابو جی کھڑکی پر ختم ہوگئے ہیں تو کیا ہوا اپنے پاس تو ہیں مگر اصل رقم سے فی ٹکٹ300 روپے اوپر دینا ہوں گے۔ قلی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے رازدارانہ انداز میں ماجد کے کان میں کہا۔ ”مجبوری ہے بھائی ، دو ٹکٹ دے دو“۔ ماجد اور ساجد نے اپنے اپنے ٹکٹ کے پیسے نکالے اور ٹکٹ لے کر گھر آگئے۔ پاپا ٹکٹ نہیں مل رہے تھے، قلی سے لئے وہ بھی فی ٹکٹ300 روپے زیادہ دے کر۔ ساجد اپنے پاپا کو بتانے لگا اور اس کے پاپا ہنستے ہوئے یہ کہہ کر ”باپ بھلا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ۔“ کہتے ہوئے اپنے دفتر چلے گئے۔
تاریخ اشاعت: 2017-12-08

Your Thoughts and Comments