Dany Dany Pe Mohar Hy

دانے دانے پر مہر ہے

بدھ جنوری

Dany Dany Pe Mohar Hy
اطہر اقبال:
یار آصف کھانا تو کھا لیتے۔ قمر نے اپنے کزن آصف سے کہا جو ابھی ایک دن پہلے ہی اس سے ملنے اس کے گھر آیا تھا آصف ایک فوجی تھا اور وقت کا بڑا پابند تھا۔ اسے دو روز بعد اپنی ڈیوٹی پر واپس پہنچنا تھا اس لیے اس نے کھانا کھانے سے معذرت چاہتے ہوئے کہا۔ یار قمر کھانا کھانے بیٹھا تو دیر ہوجائے گی مجھے ابھی کچھ ضروری سامان کی پیکنگ بھی کرنی ہے اس لیے اب تو بس اجازت دو“ یہ کہہ کر آصف اپنے گھر جانے کے لیے کھڑا ہوگیا اور پھر دونوں آپس میں بغل گیر ہوئے اور آصف قمر کو خدا حافظ کہہ کر روانہ ہوگیا۔

آصف کو ابھی گئے ہوئے مشکل سے ایک گھنٹہ ہی گزرا ہوگا کہ وہ ایک مرتبہ پھر قمر کے گھر اس کے دروازے پر لگی بیل بجا رہا تھا۔ ارے آصف تم․․․․قمر نے حیرت سے کہا۔

(جاری ہے)

ہاں بھائی ․․․․لگتا ہے آج روانگی نہیں ہوسکتی، شہر میں ہرتال کے باعث کوئی بھی ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے، ایک گھنٹہ ہوگیا کھڑے کھڑے مگر نہ بس ، نہ رکشہ اور نہ ہی ٹیکسی“۔ آصف نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ چلواچھا ہوا تمہارے ساتھ ایک دن اور ملا رہنے کو، اب بتاؤ کھانا لگواؤں یا ․․․․قمر نے نے ہنستے ہوئے کہا۔ ہاں بھئی اب تو لگواؤ کھانا واقعی” دانے دانے پر مہرہے“۔ آصف نے بھی ہنستے ہوئے کہا اور پھر دونوں کھانے میں مشغول ہوگئے۔

تاریخ اشاعت: 2018-01-17

Your Thoughts and Comments