Dariya Mein Rehna Or Magur Mach Say Bair

دریا میں رہنا اور مگر مچھ سے بیر

جمعرات جنوری

Dariya Mein Rehna Or Magur Mach Say Bair
اطہر اقبال:
فیصل پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد ایک نئے اسکول میں داخل ہوا۔ اپنی کلاس میں اس نے کئی لڑکوں کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ چونکہ فیصل خود بھی بہت اچھے انداز میں سب سے ملتا تھا۔ اس لئے سب ہی اس کے دوست بن گئے۔ کچھ دن بعد ان کے اسکول میں ایک نیا لڑکا داخل ہوا ۔ وہ نویں جماعت میں تھا ․․․․․ نا م اس کا خالد تھا۔

موٹا تازہ بالکل پہلوانوں کی طرح تھا۔ سب بچوں پر اس کا رعب ودبدبہ بیٹھ گیا تھا۔

(جاری ہے)

اس کی صحت اور طاقت دیکھ کر کوئی بھی بچہ بھی اس سے الجھنے کی کوشش نہیں کرتا ۔ بھائی جان خالد سے سب ہی ڈرتے ہیں وہ بہت موٹا ہے۔ فیصل نے اپنے بھائی کو بتاتے ہوئے کہا۔ ہاں بھئی جو طاقت ور ہوگا آخر اس سے کون الجھے گا؟ اور ویسے بھی ” دریا میں رہنا اور مگر مچھ سے بیر“ یہ کیسے ممکن ہے“ ․․․․ فیصل کے بھائی نے ہنستے ہوئے کہا۔ ” جب ہی تو اسکول کے سارے بچے خالد سے دبے دبے رہتے ہیں اور کوئی بھی اس سے فالتوبات نہیں کرتا“ فیصل نے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا۔

تاریخ اشاعت: 2018-01-11

Your Thoughts and Comments