Harkat Me Barkat Hy

حرکت میں برکت ہے

منگل دسمبر

Harkat Me Barkat Hy
اطہر اقبال:
گاؤں میں کچھ عرصے سے بارش نہیں ہوئی تھی اس لئے فصلیں بھی پیدا نہیں ہوسکیں۔ گاؤں کے کسانوں نے اس دوران اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کئی دوسرے کام شروع کردیئے۔ ان ہی کسانوں میں فضلو بھی شامل تھا مگر اس نے اس بات کا تہیہ کررکھا تھا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہیں بیٹھے گا بلکہ کسی طرح بھی کہیں نہ کہیں سے پانی لائے گا اور زمین پر فصل اگائے گا۔

فضلو اپنی دھن کا پکا تھا وہ زمین پر فصل اگانے کی کوشش کرتا رہا۔ دو ر دراز سے پانی لاتا اور زمین پر چھڑکتا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ فضلو کی محنت رنگ لائی اور اس کے بوئے ہوئے بیجوں میں سے ننھی ننھی کونپلیں پھوٹنے لگیں۔ فضلو بہت خوش ہوا اور اللہ سے دعا کرنے لگا”یا اللہ تو نے اتنا کرم کردیا کہ بیجوں مین سے کونپلیں نکل آئی ہیں اب تو بارش بھی برسادے تو فصل شاندار نکلے گی“۔

(جاری ہے)

اللہ کے فضل وکرم سے بارش بھی ہوگئی، فضلو کی خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں تھا ۔ کیوں کہ پورے گاؤں میں صرف اس نے ہی زمین میں بیج بوئے تھے لہٰذا صرف اس کی زمین پر ہی فصل اگی اور وہ بھی اتنی شاندار کے دیکھنے والے دیکھتے رہ گئے۔ گاؤں کے دوسرے کسانوں نے جب فضلو کی فصل دیکھی تو اسے مبارک باددی۔ ایک بوڑھا کسان فضلو سے کہنے لگا”فضلو تم نے ہم کسانوں کو آج ایک بڑا سبق دیا ہے ، ہم بارش نہ ہونے سے ہمت ہار گئے تھے اور اپنی زمینوں کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئے مگر تم نے ہمت نہیں ہاری اور ہم سب کو یہ بتادیا کہ بیٹھے بٹھائے کچھ حاصل نہیں ہوتا”حرکت میں برکت ہے“ کام کرنے ہی سے فائدہ ہوتا ہے۔

تم نے ہمت کی اپنی زمینوں پر کام کیا تو اللہ نے تمہیں خوب نوازا اور شاندار فصل دے ڈالی۔ آج سے ہم بھی سب کسان یہ وعدہ کرتے ہیں کہ چاہے حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں ہم بھی ہمت نہیں ہاریں گے بلکہ کام کرتے رہیں گے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں گے“۔ سب ہی کسانوں نے ایک ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ ہمت سے کام کریں گے اور ہر طرح کے حالات کا ڈٹ کا مقابلہ بھی کریں گے۔
تاریخ اشاعت: 2017-12-19

Your Thoughts and Comments