Shario Ka Mouh Kis Ny Dhoya

شیروں کا منہ کس نے دھویا

جمعہ جنوری

Shario Ka Mouh Kis Ny Dhoya
اطہراقبال:
حسن نے اسکول سے آتے ہی یونیفارم تبدیل کیا اور اپنی امی سے کھانا مانگنے لگا۔ بیٹے پہلے منہ ہاتھ دھو لو پھر کھانا کھانا۔ حسن کی امی سے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔ امی بہت بھوک لگی ہے بس جلدی سے کھانا لادیں۔“حسن نے اپنا ہاتھ پیٹ پر رکھتے ہوئے کہا۔ نہیں پہلے ہاتھ منہ دھو۔ حسن کی امی نے اصرا ر کیا۔

کون ہاتھ منہ نہیں رہا بھئی حسن کے ابو نے اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے ہنس کرپوچھا۔

(جاری ہے)

دیکھیں حسن اسکول سے آنے کے بعد بغیر ہاتھ منہ دھوئے کھانا کھانے بیٹھ رہا ہے۔“ حسن کی امی نے محبت سے حسن کی شکایت کرتے ہوئے کہا۔ ارے بھئی ”شیروں کا منہ کس نے دھویا“ حسن کے ابو نے ہنستے ہوئے کہا۔ حسن تم ہاتھ منہ نہیں دھو گے تو کھانا نہیں ملے گا۔ اس بار اس کی امی نے ذرا غصے سے کہا تو حسن میاں ہاتھ منہ دھونے چلے گئے۔ ایک بات تو بتائیں حسن نے کھانے کے میز پر بیٹھتے ہوئے اپنے ابو سے کہا۔ ہاں ․․․․ہاں․․․․پوچھو؟ میں نے اپنے ہاتھ منہ دھولئے تو کیا میں اب شیر نہیں رہا؟ حسن نے انتہائی معصومیت سے پوچھا اور اس کی معصومیت پر اس کے ابو امی ہنس دیئے۔

تاریخ اشاعت: 2018-01-12

Your Thoughts and Comments