18+ Ka Adab

18+ کا ادب

نازیہ عباسی بدھ اکتوبر

18+ Ka Adab
18+ دیکھ کر نظر انداز کر کے مت گزر جائیے گا, ویسے مجھے پتا ہے سب لوگ ایسا کرتے نہیں ,18 سے کم والے بھی نہیں پر ایک دو لوگ ایسا کرتے بھی ہیں تو وہ بھی صرف نظر ڈال کر نہ جائیں پڑھ کر جائیں. کیوں کے اس 18+ میں "گند" نہیں لکھا ہوا ہے.
آج کل انٹرنیٹ کا زمانہ ہے جہاں اس کے بہت فوائد بھی ہیں وہاں بہت سارے نقصانات بھی ہیں. خاص کر بچوں کے لیے یہ بہت خطرناک ہے اس لئے بچوں کے والدین خیال کرتے ہیں کے بچے ایسی سائٹس استعمال نہ کرے جس سے کوئی ایسا اشتہار , وڈیو یا تصویر سامنے آئے جس سے بچوں کے ذہنوں پر غلط اثر پڑھے.

باقی فیسبک, واٹس اپ وہ سائٹس ہیں جو ہر دوسرا بچہ بھی استعمال کرتا ہے.

(جاری ہے)

وہاں والدین زیادہ دھیان ہی نہیں دیتے کیوں کے "یہ تو ہر کوئی استعمال کر رہا ہے آج کل" یا بس یہ دیکھا جاتا کون فرینڈز ایڈ ہیں. پر ان کے فیملی اور ادب کے نام پر بنے گروپس اور پیجز پر بھی نظر ڈالا کرو خدارا. دیکھا کرو ادبی فیملی گروپس میں 18+ کے ٹیگ کے ساتھ آپ کو کیسا ادب پڑھنے کو ملتا ہے جو آپ کے بچوں کو تباہ کردے گا, وہ ادب پڑھ کر آپ کو بھی شرم آجائے گی...

ایک ادبی گروپ کا احوال بھی بیان کر دیتی ہوں.
میں اور میری ایک دوست ادبی گروپ میں ہیں, ہزاروں میں لوگ اس میں ہر عمر کے, وہاں ناول شاعری وغیرہ سب پوسٹ ہوتی ہیں جو بعد میں کتاب میں بھی شائع ہوتی ہیں. بہت نئے پرانے لکھنے والے وہاں, بہت اچھا پڑھنے کو ملتا. وہاں کچھ ناول نظروں سے گزرے جن پر 18+ لکھا ہوتا ہے. میں آن لائن کم پڑھتی اور وہاں 18+ پڑھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا , میری دوست کو ایک ناول کا نام اچھا لگا اس ناول کی قسط پر بہت زیادہ تعریفی کمنٹ بھی تھے اس نے پڑھنا شروع کیا دو قسط پڑھی بہت تعریفی کمنٹ بھی کئے, پر جب تیسری قسط پڑھی تو ادھوری چھوڑ کر مجھ میسج کیا کے تم یہ ناول پڑھتی ہو میں نے کہا نہیں تو کہا پڑھنا بھی مت.

پھر جب میری اس سے تفصیلی بات ہوئے تو اس نے کہا "میں حیران ہوں ادب کے نام پر کیسا "فحش" ناول لکھا ہوا ہے. مطلب 18+ لکھ کر آپ کچھ بھی لکھ دو جو دل چاہے . ان کو کیا اپنے لکھے الفاظ کا اللہ کو حساب نہیں دینا ہے؟ ایک عورت لکھاری نے وہ ناول لکھا ہے اس کو یاد نہیں وہاں ہر عمر کے مرد عورتیں ہیں. بچیاں بچے ہیں, , 12, 13, 14 ,15 سال تک کے بچے ہیں اور میں نے کچھ کے کمنٹ بھی دیکھے اس ناول پر.

ان کے ذہنوں پر کیا اثر پڑھے گا؟ . ناول میں کوئی ضرورت نہ ہوتے ہوئے بھی رائٹر نے اتنا گندا لکھ دیا. کیا آپ یہ گند ڈالے بنا ناول نہیں لکھ سکتی؟ . میں اپنی دو اقساط پر تعریفی کمنٹ کرنے پر شرمندہ ہو رہی ہوں کسی نے پڑھے ہونگے تو کیا سوچا ہوگا کیسی لڑکی ہے کیسے ناول پڑھتی ہے. مجھے ان دو کمنٹ کرنے پر جو اب میں ڈلیٹ کر چکی ہوں پر ان کے کرنے پر بھی بہت افسوس ہے.

"
میں اپنی دوست کی وہ سب باتیں اور احساسات نہیں لکھ سکتی جو اس وقت تھے. وہ 20+ ایک میچور لڑکی ہے, جب وہ ناول آگے پڑھ ہی نہیں سکی تو اس قدر بے باک لکھا ہوا ناول 18 سے کم عمر بچوں کے ذہنوں پر کیا اثر چھوڑے گا ؟ اب آپ لوگ یقیناً یہ سوچ رہے ہونگے کے 18+ لکھا تھا تو 18+ نے پڑھا کیوں؟ انسان کی تو فطرت میں تجسس ہے, کیا آپ لوگوں کو لگتا ہے کے 18+ لکھا دیکھ کر اس سے کم عمر بچے اس کو تجسّس میں نہیں پڑھیں گے کے آخر اس میں کیا ہے جو ہمیں پڑھنے سے منع کیا جارہا ہے ؟ کیا ایسا ممکن کے ہر بچہ ایسا ہو جو 18+ لکھا دیکھ کر نظر انداز کر دے نہ پڑھے ؟..

نہیں ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا اور نہ آپ 18+ لکھ کر ہر ذمہ داری سے آزاد ہوجاتے ہیں.. کیا 18+ لکھ کر جس کا جو دل چاہے لکھ سکتا, بس اوپر ہم 18+ کا ٹیگ لگا دیں پھر آپ ہر بات ہر گناہ سے آزاد ہو. آپ نے تو 18+ کا ٹیگ لگا کر اپنا فرض پورا کیا ہے. 18+ کا ٹیگ لگا کر آپ آزاد ہو لکھنے میں جو بھی دل جاہے لکھو, اب ہر ذمہ داری ہر گناہ پڑھنے والے پر ہوگا کیوں کے اس نے اپنی مرضی سے پڑھا ہم نے تو 18+ لکھا تھا نہ .

"یہ تو وہ بات ہوگئی کے آپ چھوٹے سے بچے کو سانپ کی پٹاری کے قریب بٹھا کر بول دو بیٹا اس کے قریب مت جانا یہ کاٹ لے گا اور اپنے کام میں لگ جاؤ اب بچہ قریب گیا پٹاری کھولی اور سانپ نے کاٹا تو بھی اس کا ذمہ دار وہ بچہ خود ہوگا آپ نے تو اس کو منع کر کے اپنا فرض نبھایا تھا وہ قریب گیا ہی کیوں؟"..
"آپ کا لکھا ہوا یہ 18+ کا ادب کسی سانپ سے کم نہیں ہے اور نہ ہی ہر بچہ اتنا سمجھدار ہوتا ہے کے جو منع کرنے پر سانپ کے قریب نہ جائے کے قریب جانا اس کے لیے نقصان دہ ہے"
آپ کو ایسا لگتا ہے آپ ذمہ دار نہیں ہیں آپ پر گناہ نہیں ہوگا آپ نے 18+ لکھ کر اپنا فرض پورا کیا تو ایسا نہیں ہے.

وہ 18+ کی تحریر ہر پڑھنے والے کو چاہے کسی بھی عمر کا ہو بڑا ہو چھوٹا ہو 18+ ہو نہ ہو گناہ گار تو ہر پڑھنے والے کو کرے گی اور آپ کو "اللہ کو حساب دینا ہوگا اپنے لکھے گئے ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہوگا, چاہے آپ نے وہ لفظ بولا ہو یا لکھا ہو حساب سب کا ہوگا, جو الفاظ آپ سب کے سامنے بول نہیں سکتے آپ کو شرم آتی ہے تو وہ ہی الفاظ آپ کو لکھتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی ہے؟ شرم صرف سب کے سامنے بولنے میں ہی کیوں آتی ہے لکھنے میں کیوں نہیں ہے, یہ کیسی شرم و حیا ہے بھئی"؟؟
ہمارا مذہب ہمیں بے حیائی سے روکتا ہے .

جو اب کھلے عام ہو رہی ہی. بس فرق یہ ہے انگریزی اور انڈین موویز میں دکھاتے ہیں تو ہم اب 18+ لگا کر لکھتے ہیں.. آپ موویز دیکھنے سے بچوں کو روکتے ہیں پر اب آپ 18+ کا ادب پڑھنے سے بھی اپنے بچوں کو روکیں. گورنمنٹ ٹک ٹوک پر پابندی لگاتی ہے غلط مواد پر, پھر گورنمنٹ ٹک ٹوک پر غلط مواد بلاک بھی کرواتی ہے تو گورنمنٹ فیسبک پر ان لکھاریوں پر توجہ کیوں نہیں دیتی؟..

کیا صرف دیکھنا گناہ ہے دیکھنے سے برائی پھلتی ہے, یہی سب پڑھنا گناہ نہیں ہے کیا اس برائی نہیں پھلتی؟ ...... پہلے آپ کو 18+ لکھا ہوا بہت کم جگہوں پر ملتا ہوگا. کوئی ایک آدھی پوسٹ پر, لیکن اب 18+ کے ٹیگ کا بے جا استعمال ہو رہا ہے, ادب میں بھی. اور کچھ تو آن لائن لکھاری "ایسا ہی ادب" لکھتے پر 18+ کا ٹیگ لگانا ہی بھول جاتے یا جان کر نہیں لگاتے کیوں کے سوشل میڈیا پر لکھنے میں وہ آزاد ہیں.

ہر کسی نے اپنا پیج گروپ بنایا ہوا ہے ان کو کوئی کچھ کہنے والا جو نہیں ہے. میگزین, رسالوں میں لکھنے کی اتنی زیادہ آزادی کہاں ہے؟. یہاں تو جو دل چاہے لکھ سکتے ہیں..
نبیﷺ کا ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ :
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ کریں. ‏( ﺍﺑﻮﺩﺍﺅﺩ : ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ : ۴۷۹۷ ‏)
اور اب ہمارے دل میں جو آتا ہے ہم کرتے ہیں , ہم لکھتے ہیں پڑھتے ہیں.

ہمیں اللہ یاد نہیں جو ہمیں دیکھ رہا ہے. جو کہتا ہے "مومن وہ ہے جس کی تنہائی بھی پاک ہو" اور ہم یہ سب لکھ پڑھ کر بھی اپنے آپ کو بہت اچھا مسلمان اور مومن کہتے ہیں.
حدیث میں ہے:
"اور جو شخص گمراہی برائی کی طرف بلائے' اس کو گمراہی برائی پر چلنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور ان چلنے والوں کے گناہ میں بھی کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی.."
(صحیح مسلم )
اب اس حدیثِ کو سمجھنے کے لئے ''سوشل میڈیا '' ایک بہترین مثال ہے.


خدارا ایسا ادب لکھنا چھوڑ دیں جو گمراہ کردے برائی اور گناہ کی طرف لے جائے , آپ کو بھی ہر پڑھنے والوں کو بھی. آپ کا لکھا یہ "18+ کا ادب" سوائے گناہ اور دلدل کے اور کچھ بھی نہیں ہے اس دلدل میں ہمارے ملک کے بڑے اور معصوم بچے جو اس ملک کا مستقبل ہے وہ ہی پھنسے گے. ہمارے ملک میں ویسے ہی آئے دن معصوم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کو مار دیا جاتا ہے.

اب یہ فحش ادب ان کا معصوم ذہن اور خراب کر دے گا. ہمارا "ادب" تو کہیں پیچھے جا رہا ہے اور "بے حیائی " نمایاں ہو رہی ہے. جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہے تو افسوس کیسے ہوگا.
ادب کو 18+ ٹیگ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی.
ادب لکھیں پر "گند" کے بنا لکھیں "صاف ستھرا" اچھے الفاظ اچھے سبق کے ساتھ جو سب پڑھ سکیں کچھ سیکھ سکیں. نہیں تو یاد رکھیں "اپنے لکھے گئے لفظوں کا حساب بھی اللہ کو دینا ہے"..
تاریخ اشاعت: 2020-10-28

Your Thoughts and Comments