19 20 Ka Farq

انیس بیس کا فرق

منگل دسمبر

19 20 Ka Farq
صفوراخالد
2019 کی آخری شام ہے۔۔دن معمول کے مطابق ہی گزرا۔۔صبح سات بجے گرم بستر چھوڑ اور بھاگم بھاگ بنا ناشتے کہ اماں کی ڈانٹ کھاتے ہوئے بس پکڑنے کی عجلت اور پھر آفس تک ٹھٹھرتے ہوئے اس امید کے ساتھ سفر طے کیا کہ پہنچ کر ہیٹر پر ہاتھ گرم کر لیے جائیں گے۔۔مگر یہ وہ امید ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکی تو آج کیسے ممکن تھا۔

(آج سال کا آخری دن جو تھا اس لیے سوچا شاید کچھ الگ ہو جائے) دن بھر دفتر میں وہی دماغ کھپائی میں بھی کوئی رتی برابر تبدیلی محسوس نہ ہوئی۔(کہنے کو 2019 کا آخری دن تھا). سوشل میڈیا پر سکورلنگ وقت گزاری کا ایک بہترین اور ذریعہ اور ضروری امر بن چکا ہے۔وقت کو اس طرح سے گزارنے کی لت خود کو بھی خوب لگی ہے۔کام کے دوران بیسیوں بار سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو سکرول کرنے کا حق ادا کیا ہر دن کی طرح۔

(جاری ہے)

۔۔ہاتھ میں فون ہو اور انٹرنیٹ دسترس میں ہو تو سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر حاضری اور بار بار حاضری دینا فرض سا ہو جاتا ہے اور لوگ کوئی اور فرض ادا کریں نہ کریں یہ فرض ادا کرنا خود پر فرض کر لیتے ہیں۔سارا دن کام اور سوشل میڈیا ساتھ ساتھ چلتے رہے۔۔ہر کوئی 2019 کو خیر باد اور 2020 کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔دفتر میں بھی آج وجہ تنازعہ 2019 کے آخری سورج طلوع ہونے کی فوٹیج بروقت نہ بننے پر کھڑا ہوا تھا۔

۔۔(کیا سورج کو معلوم ہو گا کہ وہ آخری بار طلوع ہوا ہے (2019 میں) ؟؟؟) باقی دن معمول کے واقعات اور خبریں چلتی رہیں۔۔پھر سورج غروب ہونے کا وقت آیا شور اٹھا 2019 کے آخری سورج غروب ہونے کی فوٹیج لازمی بنوائی جائے (یہاں لازمی پر پہاڑ جتنا وزن ڈال دیں) تیاریاں شروع (شاید ابھی بھی سورج کو نہ پتا ہو کہ وہ آخری بار غروب ہو رہا ہے ( 2019 میں)) میں بھی باتوں باتوں میں کہاں نکل گئی بات ہو۔

رہی تھی کہ سوشل میڈیا پہ ہر کوئی اپنے سے متعلق 2019 میں ہونے والے تجربات کا ذکر کرتا نظر آیا۔۔کسی کا دل ٹوٹا کسی کا دل جڑا کسی نے دھوکا کھایا کسی کے حصے میں ناکامیاں آئیں کسی کے اپنے آستین کا سانپ نکلے کسی کو ارد گرد کے لوگوں کی اصلیت سے آشنا ہونے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔ایسا کہہ لیں کہ تباہیاں ہی تباہیاں پھری ہوئی نظر آئیں دلوں کی ہر طرف۔

۔۔۔مگر ان سب تباہیوں میں 2019 کا ایک معصوم سا قصور یہ تھا کہ جب ان پہ یہ ظلم ٹوٹے تو سال 2019 تھا۔۔۔ہر پوسٹ کی ایک مزے دار بات یہ تھی کہ رام کہانی کے آخر میں سب کو بھاڑ میں بھیج کر ایک نئی شروعات کرنے کا درس موجود تھا۔۔ہر پوسٹ مجھے اپنی کہانی لگی اور ہر پوسٹ کے آخر پر دیے گئے درس پہ میں نے آمین کہا۔۔مگر ایک بات دل کو چھو گئی۔۔۔ کسی نے لکھا تھا "صرف 19 اور 20 کا ہی تو فرق ہے"
سچ بھی تو یہی ہے فرق تو انیس بیس کا ہی ہے۔

۔۔ نمبر بدلہ باقی سب وہی ہے۔۔ غریب غریب ہے اور رہے گا , بھوکا بھوکا ہے اور رہے گا، اونچے محلوں میں بیٹھ کر غریبوں کی بے بسی کے عنوان پر بحث کے لیے ایسے ہی شاندار عشائیے اور ظہرانے ہوتے رہیں گے۔۔غریب کی بیٹی مہنگائی اور جہیز لمبی لسٹ پوری نہ ہو سکنے کے باعث آنے والے سال بھی بن بیاہی رہ جائے گی۔۔کسی بیمار بوڑھے دوائی آنے والے سال میں بھی اس کے بچوں کو اضافی بوجھ لگے گی۔

۔کسی تعلیم یافتہ بے روزگار کو 2020 میں بھی نوکری کے لیے دھکے ہی کھانے پڑیں گے۔۔۔آنے والے سال میں دیہاڑی دار مزدور کو مزدوری ملے گی تبھی چولہا جل پائے گا۔۔۔
فرق تو انیس بیس کے نمبر کا ہے مگر بارگاہ الہٰی رب العالمین میں دعا و التجا ہے کہ اپنا رحم و کرم ناز فرمائے۔۔نئے سال کی آمد نے نئی امیدیں جگائی ہیں رب تعالیٰ ان امیدوں کو پورا فرمائے اور امت مسلمہ بالخصوص جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان پر اپنا فضل و کرم کرے اور ظالموں کے ظلم سے نجات دے۔
نئے سال کی خوشیاں مبارک اس دعا کہ ساتھ کہ یہ سال صرف انیس بیس کے فرق کے بجائے مثبت تبدیلوں کا سال ثابت ہو۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-31

Your Thoughts and Comments