Aayeen Tiyari Kar Lain

"آئیں تیاری کرلیں"

راشدہ سعدیہ جمعرات مارچ

Aayeen Tiyari Kar Lain
بیگم ! ”تمہیں ایک بات معلوم ہے؟ “میاں جی نے چاۓ کا خالی کپ دیتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔
”کونسی بات؟“ میں نے پوچھا۔
”بہت عجیب بات ہے کہ ساری دنیا کو "کرونا وائرس" کی وجہ سے خوف کا سامنا ہے۔ جب کہ پاکستانی مردوں کو اس کے ساتھ مزید ایک خوف کا سامنا کرنا ہے“۔ میاں صاحب نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا۔
”مجھے سمجھ نہیں آئی آپ کی بات۔

“ میں نے نا سمجھی سے دوبارہ استفسار کیا۔
” سارے بیوٹی پالرز بند ہوگئے۔ اب شوہر حضرات کو جن خوفناک حالات اور مصائب کا سامنا کرنا ہے۔ وہ بھی "کرونا" سے کم نہیں“۔ میاں صاحب نے تفصیل ذرا مسکراتے ہوئے سمجھائی۔
”پاکستانی مرد حضرات کو اتنا ڈرنے یا خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

(جاری ہے)

کیونکہ ہم خواتین میکپ کے حوالے سے اتنی تیاری تو لازمی رکھتے ہیں کہ ہنگامی صورتحال میں اپنے آپ کی حفاظت کر سکیں“۔

میں نے بھی چڑ کر جواب دیا۔
”اور جن خواتین کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنا نہ آتا ہو یا با الفاظ دیگر اپنی تیاری نہ کی ہو تو؟؟“ میاں صاحب نے ایک اور سوال داغ دیا۔
”ایسی خواتین اور ان کے شوہر حضرات کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے“۔ میں نے مزید سوالات سے بچنے کے لیے جلدی سے جواب دے کر کچن کا رخ کیا۔
”سنیں ! کل سے نماز فجر کے بعد کوئی نہیں سوئے گا۔

میں نے شام کی چائے پہ شوہر صاحب سے کہا۔
”مگر کیوں؟ ایسا بھی کیا نیا کام در پیش آگیا۔؟“ میاں جی نے پوچھا۔
”پہلے آپ میری مکمل بات سن لیں پھر سوالات جاری کیجئے گا۔“ میں نے ان کے سوالات کی کثرت سے عاجز ہوکر کا کہا۔
”جی جی۔آج کل حکومت نے چھٹیاں بیویوں کی سننے کیلئے ہی تو دی ہیں۔ بے فکر ہوکر کہیے“۔ میاں جی پھر شرارتی انداز میں بولے۔


”دیکھیں۔ جب آپ نے کہا بیوٹی پارلرز بند ہیں،اور آپ خوفزدہ ہیں اور میں نے کہا ہماری تیاری تو ہے۔“ میں جملوں کو ربط دینے لگی۔
”تم اتنی سنجیدگی سے کیا کہنا چاہ رہی ہو“؟ اب کی بار میاں جی سنجیدہ دکھائی دیے۔
”میری بات مکمل ہونے سے پہلے آپ نے کچھ نہیں کہنا۔دیکھیں، جب سے آپ نے سوال کیا ہے کہ جن خواتین کی تیاری نہ ہو تو؟ اس وقت سے پریشان میں ہوگئی ہوں۔

کیونکہ میک آپ یا دنیاوی امور کے حوالے سے حالات کا سامنا کرنے کی تیاری تو ہے مگر اچانک موت یا اللہ پاک کا سامنا کرنے کی تیاری تو نہیں ہے ہماری؟“
اچھا موقع ہے۔ ہم پانچ نمازیں ادا کرنے کے ساتھ بالترتیب قرآن کی تلاوت بھی کریں اور ان نمازوں کی قضا دہرائیں جو کسی بھی وجہ سے رہ گئی تھیں اور اب تک غفلت کی وجہ سے پڑھی نہ جاسکیں“۔


اور۔۔۔ میں سانس لینے کے لئے رکی۔
”اور؟؟ میاں جی نے فورا سوال کیا۔
”اور یہ کہ پلیز آپ داڑھی رکھ لینے کا ابھی سے عہد کرلیں۔ پلیز۔۔ آئیندہ کٹوانے کے ارادے سے اِسے ہاتھ نہیں لگائیں گے کیونکہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی جانب سے اپنا رخ انور موڑ دیں گے جس کی داڑھی نہیں ہوگی۔ اب آپ خود سوچیں، جب وہ ذات جس کے پاس شفاعت ہے۔

۔ وہی ہماری جانب توجہ نہ فرمائیں تو ہم سراسر خسارہ اٹھانے والوں میں سے بن جائیں گے۔“ میں نے اصل مدعا پیش کیا۔۔
”دیکھو“! میاں جی نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے کہ میں بول پڑی۔
”دیکھیں !” اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں۔ ”قو أنفسکو وأھلیکم نارا“: ”خود بھی بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی آگ سے بچاؤ“۔


میں نے کہا تھا نا، جن کی تیاری نہ ہو وہ ڈریں۔ آپ کے گھر والوں کی بھی تیاری نہیں ہے۔ اب وقت ہے عملی مسلمان بننے کا۔ اس سے پہلے کے وقت ختم ہو جائے اور ہمیں زبردستی کرونا کے مریض کی طرح جکڑ جکڑ دوزخ میں پھینک دیا جائے۔ اسوقت ہمارے پاس پچھتاوے کے سواء کچھ نہیں ہوگا پلیز“۔ اب کی بار میرے آنسو نکل پڑے۔
ہممم! ”میں بھی کل رات یہی سوچ رہا تھا کہ کرونا کی بجائے اگر آج ہی بستر پر موت آگئی تو کیا ہوگا؟۔

انشاءاللہ ہم ضرور عمل کریں گے مگر کل سے نہیں“۔ میاں جی نے پھر سے ابھرتی امید کو توڑنے کے دہانے پر لاکھڑا کردیا۔
”پھر کب سے“؟ میں نےدم توڑتی امید سے پوچھا۔
”بلکہ آج ہی سے نا پگلی۔ کیا پتہ کل تک بچ سکیں گے یا نہیں اور ہاں بہت بہت شکریہ نیک بیوی ہونے کے لیے“۔ میاں جی کے آخری جملوں نے رکی سانسوں کو بحال کیا۔ میں ”الحمداللہ“ کہتے ہوئے کچن کی جانب بڑھ گئی۔
تاریخ اشاعت: 2020-03-26

Your Thoughts and Comments