Adakar

اداکار‎

ارمان شہریار بدھ جولائی

Adakar
"امی! میں کولج جارہی ہوں۔۔۔" صالحہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر تقریبا بھاگتے ہوئے باورچی خانے کی طرف آئی تھی جہاں اس کی ماں فرحانہ ناشتے کی تیاری کررہی تھیں۔
"ارے بیٹا! ناشتہ تو کرلو۔۔۔ جلدی کس بات کی ہے؟" انہوں نے پراٹھے کا پیڑا بیلتے ہوئے کہا۔ "جلدی!؟۔۔۔" صالحہ نے حیرت سے پوچھا "رات کو ہی تو بتایا ہے کہ آج میرا پریکٹکل ہے جلدی جانا ہے"
اس نے انہیں یاد دلایا تھا۔

۔ "ارے ہاں!" فرحانہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ "اور ہاں! آتے ہوئے بھی دیر ہو جائے گی۔۔۔شاید رات ہوجائے کیوںکہ مجھے کرن کی طرف جانا ہے۔۔۔" اس نے انہیں آگاہ کیا اور بستہ دوبارہ کندھے پر ڈال کر چل دی۔ فرحانہ نے مسکراتے ہوئے دھیمی آواز میں اسے خدا حافظ کہا تھا۔

(جاری ہے)

جاتے جاتے اسے جیسے کچھ یاد آیا اور وہ پلٹ کر واپس باورچی خانے کی طرف آگئی۔

اسے وہاں دوبارہ آتا دیکھ کر فرحانہ بھی پلٹیں اور ڈائننگ روم کی طرف جانے لگیں۔ "رکیں!۔۔" اس نے انہیں روکا تھا۔ "ہاں!" پلٹے بغیر فرحانہ نے اس کو جواب دیا تھا۔ وہ ٹیبل پر پلیٹیں سجانے میں اس قدر مصروف تھیں کہ انہوں نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
"میری طرف دیکھیں۔۔۔" اس نے سختی سے کہا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش ساکت سی کھڑی رہیں اور پھر آہستہ سے پلٹیں تھیں۔

"یہ گردن پہ نشان کیسا ہے؟" صالحہ انکی گردن پر پڑے نیل کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔

انکے کانوں میں ایک اجنبی آواز گونجی تھی جس نے انکو کچھ شناسا کہا تھا..
"یہ۔۔۔؟" انہوں نے انجان بنتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ "وہ رات کو کروٹ بدلتے وقت سائیڈ ٹیبل لگ گئی تھی۔۔۔ اس وقت تو پتہ ہی نہیں چلا نیند میں۔۔ صبح دیکھا تو یہ نیل پڑا تھا۔

۔۔ تم پریشان مت ہو، میں برف لگا لوں گی۔۔صحیح ہوجائے گا تم جائو۔۔۔" انہوں نے برتن اٹھا کر ادھر سے ادھر رکھتے ہوئے تفصیل بتائی۔ "کتنی بار کہا ہے امی کہ خیال رکھا کریں۔۔۔ آئے دن آپ کو کوئی نا کوئی چیز لگ جاتی ہے۔۔۔ ابھی پرسوں ہی وہ گرم توے کا جلا صحیح ہوا ہے اور اب یہ۔۔۔" اس نے بہت پیار سے کہا تھا اتنا پیار سے کہ فرحانہ کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔

"ہاں! اب سے رکھوں گی خیال میرا بچہ۔۔اب تم جائو شاباش دیر ہورہی ہے۔۔۔"
"کٹ!!"
اسی اجنبی آواز نے کچھ اور شناسا کہہ کر انہیں اطمینان سا بخشا تھا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ کمرے میں چلی گئی تھیں اور وہاں جا کر نا جانے کیوں ان کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔۔
گھر سے باہر نکل کر صالحہ بھی ایسی ہی کسی انجان کیفیت کے زیر اثر اپنی ہی بہتی آنکھوں پر حیران تھی۔

۔

"اف!" شام کو گھر پہنچ کر وہ تھکی ہوئی اپنے بستر پر گرگئی تھی۔۔۔ کچھ دیر سکون کا سانس لینے کے بعد اس نے سائیڈ ٹیبل پہ رکھے جگ میں سے گلاس میں پانی نکال کر پیا تھا۔۔ منہ ہاتھ دھو کر وہ کمرے سے باہر باورچی خانے کی طرف گئی تھی۔۔۔ باورچی خانے میں پہنچتے ہی اسے جیسے ایک جھٹکا سا لگا تھا۔ ایک شیشے کی پلیٹ زمین پر کرچیوں میں ٹوٹ کر پڑی تھی۔


"کیو!!"
چند ہی لمحوں بعد اسکی حیرت اطمینان میں بدل گئی تھی اور ایک اجنبی آواز اسے ایک ذمہ داری دے گئی تھی۔۔
"امی!۔۔۔امی!" اس نے زور زور سے چیخنا شروع کردیا تھا۔۔کمرے سے فرحانہ باہر آئی تھیں "کیا ہوا بیٹا؟" انہوں نے پوچھا تھا۔۔"امی یہ کیا ہے؟" اس نے فرش پر اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔"اللہ رحم۔۔۔ بیٹا پتہ نہیں کیسے ہوا میں تو اندر نیند کی گولی لے کر سورہی تھی۔

۔۔ شاید کوئی بلی آگئی ہوگی۔۔۔" انہوں نے فرش صاف کرتے ہوئے کہا
"امی یار دروازہ بند رکھا کریں نا، پچھلے ہفتے بھی پورا ڈنر سیٹ کسی بلی نے توڑ دیا تھا۔۔۔" صالحہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔ "ہاں اب یہی کرنا پڑے گا کہ دروازے کے اوپر جنگلا لگوا دیں ورنہ دیوار چڑھ کر آجائے گی کمبخت.."
"کٹ!!"
ان دونوں نے سکون کا سانس لیا تھا اور وہ اپنے اپنے کمروں میں چلی گئی تھیں۔



وہ رات بھی صالحہ کیلیے مشکل تھی۔ وہ ہر رات کی طرح کروٹیں بدلتی رہی لیکن بیک گرائونڈ میں ماضی سے کچھ فلیش بیکس بھی چل رہے تھے اور فی الحال انکھوں سے اوجھل مناظر کی آوازیں بھی صاف صاف سنائی دے رہی تھیں۔۔ وہ کروٹیں بدل بدل کر تھک گئی تھی اور اب سیدھی لیٹ کر اپنے اوپر چلتے پنکھے کو بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔ ہر کچھ منٹوں بعد آوازیں کم ہوجاتیں اور پھر کچھ ہی دیر میں انکی شدت میں دگنا اضافہ ہوجاتا۔

۔۔ آج یہ آوازیں کچھ زیادہ ہی تھیں۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آئی آوازوں کی شدت میں اضافہ ہورہا تھا، اسکا سر گھومنے لگا تھا اور جسم ٹھنڈا ہورہا تھا

ایسی کسی صورتحال میں یہ آواز آنا ایک نہایت غیر معمولی بات تھی۔۔بہرحال، وہ باورچی خانے کی طرف گئی تھی۔ اس نے برتنوں کے ریک پر سے دو شیشیے کی پلیٹیں اٹھائیں اور ایک ہی ساتھ انہیں مکمل طاقت سے زمین پر دے مارا اور ساتھ ہی ایک زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہوگئی۔

۔۔
آنکھ کھلنے پر اس نے اپنے آپ کو اپنے ہی کمرے میں پایا تھا۔ اس کے سرہانے اسکی ماں بیٹھی تھی جو کہ آنسوئوں سے رو رہی تھی۔ اس نے انکا ہاتھ پکڑا تھا۔ "میں ٹھیک ہوں۔۔۔!" اس نے کمزور سی آواز میں ان سے کہا تھا۔

"کٹ!!"

اس دن وہ کولج سے نہایت تھکی ہوئی آئی تھی۔ اسکا پیپر بھی تھا اور پریکٹکل بھی۔ اسکے سر میں پھٹن والا درد ہورہا تھا اوپر سے اتنی شدید گرمی تھی کہ اب اس سے چلا بھی نہیں جارہا تھا۔

۔۔ قریب چھہ بجے کا وقت تھا جب وہ اس مکان کا دروازہ کھولے اندر آئی تھی جہاں وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ داخل ہوتے ہی اس کے کانوں میں پھر ایک بار وہی شدید آوازیں گونجنا شروع ہوئی تھیں اور اس کے سر کے درد میں اور اصافہ ہوا تھا۔۔ اسکا جسم پسینے میں شرابور تھا اور وجود کمزوری سے ہل بھی نہیں پارہا تھا۔۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے اندر کی طرف آئی تھی، اپنے کمرے تک کا راستہ اسے میلوں کا سفر لگ رہا تھا۔

وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی تھی۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑ لیا تھا۔۔۔اب وہ کسی آواز کی منتظر تھی جو اسے راستہ دکھاتی۔۔۔

بلآخر اسے وہ آواز آ ہی گئی تھی جسکا اسے انتظار تھا، وہ ہمت کرکے اٹھی اور اپنے بے بس ہوتے وجود کو تقریبا گھسیٹتے ہوئے باورچی خانے تک لے گئی۔۔ وہاں پہنچ کر اس نے برتنوں کے ریک پر سے گوشت کاٹنے والا چاقو نکالا تھا۔

۔اس کو مکمل طاقت سے پکڑ کر اس نے اپنے بائیں کلائی کو آگے کیا تھا۔۔۔ اب وہ چاقو کو کلائی کی بلکل قریب لے جاچکی تھی اور۔۔۔۔
"کٹ!!"
ایک نہایت غیر موزوں وقت پر اسے دوسری آواز آئی تھی۔۔۔ صالحہ کا غصہ اب جنون کی شکل اختیار کرگیا تھا۔۔۔ آس پاس کی آوازیں مسلسل شدید ہورہی تھیں اور اب اسے اپنی بے بسی کا احساس بھی اتنا ہی شدید ہورہا تھا۔

۔ اسی غصہ اور جنون کی کیفیت میں اس نے چاقو کو مزید طاقت سے پکڑا اور وہ بھاگتی ہوئے اپنی ماں کے کمرے میں گھس گئی۔۔۔ وہاں موجود اس اجنبی سے شناسا شخص نے اسے دیکھ کر دھاڑنا شروع کردیا۔۔۔ صالحہ شدید جنون کی کیفیت میں آگے بڑھی۔۔۔اس شخص نے اسکا ہاتھ کس کر پکڑ لیا۔۔ اس نے مکمل زور لگا کر اپنا ہاتھ اس سے چھڑوایا اور بغیر سوچے یا رکے، وہ چاقو اس شخص کے سینے میں گھونپ دیا۔

۔۔۔

صالحہ کی ماں سفید کپڑوں میں ملبوس ان عورتوں کے درمیان ساکت بیٹھی تھی۔۔ اسکی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔۔ دوسری طرف صالحہ کی آنکھیں بھی پوری طرح بھیگی ہوئی تھیں۔۔
"بیٹا! یہ تو کب سے کچھ بول ہی نہیں رہیں۔۔۔ایک کام کرو انہیں اندر لے جائو اور بستر پر لٹا دو شاباش۔۔۔ہم بھی اب جارہے ہیں۔۔۔انشاءاللہ کل آئیں گے۔۔۔"
ان عورتوں میں سے ایک نے صالحہ سے کہا اور ایک ایک کرکے سب گھر سے باہر چلی گئیں۔۔
"آئیں امی اندر چلیں" اس نے فرحانہ کو سہارہ دے کر اٹھایا اور کمرے میں لے گئی۔

"یہ لو اسے پھینک دو۔۔۔عرق گلاب کی بوتل فرحانہ نے صالحہ کو دی تھی۔۔۔
صالحہ نے مسکرا کر انہیں دیکھا تھا۔۔۔"
تاریخ اشاعت: 2020-07-01

Your Thoughts and Comments