Arsal Or Dua

ارسل اور دعا

لائبہ عتیق جمعرات جنوری

Arsal Or Dua
دعا معصوم لڑکی دنیا سے بےخبر چمکتا رنگ کالی گہری آنکھیں سیاہ بال خوش اخلاق لیکن خاموش طبیعت جب وہ چھوٹی تھی طب ہی سب اس کو پسند کرتے تھے شادی کے نام سے چڑ جاتی تھی اسکی امی اس کے سامنے ذکر کرتی اکثر شادی کا اور وہ رو دیتی بہت چوٹے دل کی مالک تھی جلدی ڈر جاتی تھی جلدی رو دیتی تھی خوش اخلاق اتنی تھی کے جلدی دوست بن جاتے تھے لیکن سب سے اچھی دوست اسکی ماں تھی اسکول سے آتے ہی سارے دن کی بات امی کو بتانی گھر میں بہت بولتی تھی اکثر اسکی امی کہتی تھی سسرال جا کر کیا کرو گی بہت حساس تھی اسے دنیا داری کا علم نہیں تھا ہمیشہ خوش رہنا اور اپنی پڑھائی پر توجہ دینا کچھ ٹیم بعد دعا کے گھر والوں نے گھر شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا وہ ایک دوسرے محلے میں شفٹ ہوگے وہاں دعا کی ایک سہیلی بنی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انکی دوستی گہری ہوتی گی دعا کی بہن کی شادی فکس ہوگی دعا اور اسکی سہیلی ہر جگہ ساتھ دعا بیچاری نادان تھی اپنی زندگی میں گم اچانک اسکی زندگی میں ایک طوفان آیا لیکن کہتے ہے نا ہر چیز کا اندازہ وقت کے ساتھ ہوتا ہے ایک لڑکا اس کو پسند کرنے لگا وہ بھی اپنے گھر کا لاڈلہ اچھی رنگت ویل ڈریس وہ کوئی باہر والا نہیں اس کا اپنا کزن تھا دونوں میں بہت محبت تھی لیکن دوست کی طرح- اسکا نام ارسل تھا دعا کے سامنے ارسل کا محبت نامہ آیا اس نے جھٹ سے انکار کر دیا آئستہ آئستہ پورے خاندان کو ارسل کی محبت کا اندازہ ہوگیا یہ تھا دعا کی زندگی کا پھیلا پڑھاؤ کہتے ہے نہ زندگی آپ کو محبت کرنا سیکھاتی ہے کس سے محبت کرنی ہے یہ تجربہ سیکھتا ہے اور آپ سے کون محبت کرتا ہے یہ حالات سیکھتے ہے معصوم دعا بھی نہ چاھتے ہوے بھی ارسل کی باتوں میں آگئی ایسا نہیں تھا کا ارسل کو محبت نہیں تھی دعا کو دیکھ کر جیتا تھا اور اس پر ہی مارتا تھا اس کے معصوم دل سے محبت تھی اسکو دو تین سال گزرے اور انکی منگنی ہوگئی دعا ارسل سے بےانتہا محبت کرنے لگ گے اسکو ارسل کی عادت تھی دونوں ۔

(جاری ہے)

کی بہت اچھی دوستی بھی تھی دونوں نے ہمیشہ ساتھ رہنے کے اور آخر تک ساتھ چلنے کے خواب دیکھ ڈالے تھے ارسل بھی دعا کی محبت میں مبتلا تھا لیکن ہر انسان کی طرح اسکو بھی اپنا گھر عزیز تھا اچانک زندگی نے ایک اور سائیڈ بدلی بہت سے لوگوں سے انکا رشتہ برداش نہیں ہوا کیوں کے سب جانتے تھے انکی محبت کو اور سب کی نظرے ہی کھا گی انکو هستے رشتے رو دیہ ارسل اور دعا کی لڑائی ہوگئے دعا نے نارضگی میں ارسل سے رشتہ ختم کرنے کا کہا اور اس نے مان لیا دعا اسکے روکنے کے انتظار میں تھی لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کے یہ اب اس کا ارسل نہیں رہا دعا کے انکار میں ارسل نے اسکو جانے کا کہا اور وہ ٹوٹ کر ره گی دعا کے دل پر ایک آواز نے دستک دی اطمینان بھی اندر سے آتا ہے اور ضمیر کے کوڑے بھی اندر سے لگتے ہے خوشی کی کانپل بھی اندر سے پھوٹتی ہے اور آنسو کی آبشار بھی اندر سے امڈتی ہے خوف کا آتش فشا بھی اندر سے پھٹتا ہے اور سکون کی نادیہ بھی اندر سے بہتی ہے تو باہر کیا ہے ؟؟اسکے آنسو نے اس کا تکیہ بگو دیا اور لڑکی کا دنیا سے اعتبار اٹھ گیا اسکی دنیا ہی ختم ہوگی ہو جیسے لیکن دعا کو ابھی بھی امید تھی کے اسکی محبت جھوٹی نہیں ہے اس نے ایک سال انتظار کیا دن رات روئی خدا کے سامنے اپنا صبر ثابت کرنے کی کوشش کی ایک انا نے دونوں کی زندگی تباہ کر دی جن دنوں چاہتے عروج پر تھی دونوں چمکتے تھے اب دیکھو ارسل کا ملگجا حلیہ بڑھی شیو بجھی آنکھیں کالا رنگ یہی حال دعا کا تھا لیکن دونوں کی سوچ ابھی بھی یہی تھی کے ان دونوں نے وفائی کی ہے ایک دوسرے کے ساتھ دعا پر الزام کا ایسا پہاڑ ٹوٹا تھا کے چھوٹی سی عمر میں اس کو دنیا کی اصلیت پتا چل گی وہ لوگوں سے ڈرنے لگی خدا کے قریب ہوگی اور جان گی کے درد ہی انسان کو اللہ‎ کے قریب کرتا ہے
درد میں ہی انسان کو احساس ہوتا ہے کے ایک سواے خدا کے کوئی اسکی ذات کو سمٹنے والا نہیں ،،
درد میں ہی انسان کو خدا قریب لگتا ہے انسان سوچتا ہے کے ہم کتنے مطلبی ہے درد میں یاد کرتے ہے الله کو لیکن خدا خوش ہوتا ھی ہے یہ دیکھ کر کے میرا بندا جانتا ہے کے میرے علاوہ کوئی اور نہیں معاف کرنے والا،،
دعا نے بھی ہر درد خدا کو سنایا اور امید رکھی بہت پڑھائی کی اپنی محبت کے تصور میں دن رات یاد کیا صرف اسی گمان میں کے وہ بھی یاد کرتا ہو گا لیکن کچھ ماہ بعد ارسل نے منگنی کر لی
دعا کا صبر اس دن ختم ہوتا جا رہا تھا یہ وہی دن تھا جس دن ارسل اور دعا کی منگنی ہوئی تھی دعا ہمیشہ کی طرح اپنے رب کے آگے حاضر ہوئی اسے سنایا سب کچھ بات ایسی بھی دماخ میں آگی جو گناه ہے ہم سوچ میں پڑھ جاتے ہے کے خدا ہماری دعا قبول نہیں کر رہا وہ ہم لوگوں کو سزا دے رہا ہے جو ہم چاھتے ہے وہ نهیں دے رہا جب کے کچھ راستے ہماری ہی بہتری کے لیا بند کیا جاتے ہے کیوں کے آگے جا کر ہمیں زیادہ تکلیف ملتی ہے یہ سزا نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ کی محبت ہے حفاظت ہے کیوں کے وہ ہمیں مسلسل تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ہمارے فیصلے ہماری چاہت کے مطابق ہوتے ہے جب کے اس کے فیصلے ہماری حفاظت اور بہتری کے لیے ہوتے ہے لیکن ہم یہ بات اکثر بھول جاتے ہے وہ سنتا بھی ہے ،جانتا بھی ہے ، دیتا بھی ہے ہر بات کا علم ہے اللہ‎ کو ،اور انسان تو ایک کچا منصوبہساز ہے تم خود کو خود ہی تکلیف میں رکھتے ہو ورنہ وہ تو بہت مہربان ہے ۔

۔۔
اب دونوں جدا ہے لیکن محبت زندہ ہے دعا اپنے صبر پر خوش ہے اور ارسل شاید کسی امید کے سہارے کچھ محبت کی دنیا میں کوئی منزل نہیں ہوتی ہر منزل کا راستہ ہی اللہ‎ کی طرف جاتا ہے دعا تو خدا کے ساتھ ہے لیکن ابھی ہمسفر بنانے کا حوصلہ نہیں ہے لیکن ارسل کے ساتھ ایک لڑکی کا نام جڑ گیا ہے ۔۔اللہ‎ سب کی منزل آسان کریں آمین۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-07

Your Thoughts and Comments