Art Ki Qadar

آرٹ کی قدر

ایمن افتخار ہفتہ جولائی

Art Ki Qadar
انسان کی خواہشیں کتنی چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں۔وہ جب کچھ کرتا ہے تو بدلے میں صرف کچھ تعریفی کلمات سننا چاہتا ہے۔وہ بس اپنے کئے کی قدر چاہتا ہے۔اور شاید یہی چاہ انسان کو رول کے رکھ دیتی ہےیا یوں کہہ لیجئےاسکے اندر کے اس انسان کو مار دیتی ہے جو اسے اکساتا ہے کہ تم اپنے ہنر کو بروۓ کار لاؤ اور پھر لوگ تمہیں سراہیں۔پر حقیقت اس سے مختلف اور تلخ ہےاور جب اسے سراہا نہیں جاتا تو وہ شخص اپنی موت آپ مر جا تا ہے۔


آج سے کچھ سال پہلے اردو کی کتاب میں "ادیب کی عزت"پڑھا تھا۔اس کہانی کا مرکزی خیال یہی تھا کہ ادیب کو نہ کسی محفل نہ کسی اور جگہ عزت دی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے لکھے کے قدر دان ہوتے ہیں۔عزت صرف شاید دوسرے پیشوں اور امیر لوگوں کے لۓ مختص کر دی گئی ہےیا پھر ان کے ادب کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ بہت ٹھاٹ بھاٹ والے ہوں۔

(جاری ہے)


اگر آج کے دور میں دیکھا جاۓ تو ایک ماڈل کی تصویر پر شیر،لائکس اور کمنٹس زیادہ ہوتے ہیں۔

ایک ناچتی گاتی ہوئی عورت کے پیج پہ بھی مداحوں کی تعداد ان گنت ہوتی ہےاور اس کے بالکل برعکس ایک لکھاری بمشکل لوگوں کو اس بات پہ آمادہ کر پاتا ہے کہ اس کے لکھے کو پڑھیں۔
ایک ماڈل کے پیج پہ جتنی بھرمار ہوتی ہے اس سے آدھے بھی کسی ادبی پیج پہ نظر نہیں آتے۔
لوگوں کے ایسے روے کی وجہ سے بہت سے اچھے لکھاری دل چھوٹا کر کے لکھنا چھوڑ چکے ہیں۔

ان کا دل درد کی گہری دلدل میں دھنسا ہوا ہے کہ ان کے آرٹ کی قدر نہیں جبکہ ایک آدھے ادھورے لباس میں ملبوس عورت سب کی توجہ کا مرکز ہے۔اس کے مداحوں کی تعداد ان گنت ہے اور دوسری جانب آرٹ والے کسی گنتی میں ہی نہیں۔تبھی ایسے لوگ گٹ گٹ کر اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔
آپ بھی ذرا ملاحضہ کریں کہ کسی کی لکھی ہوئی تحریر کو آپ کتنے غور سے پڑھتے ہیں ،آیا آپ پڑھتے بھی ہیں یا نظر انداز کر کے اگلی پوسٹ پر چلے جاتے ہیں۔
ادب کو جانیے۔کسی کا لکھا پڑھ کر اسکا حوصلہ بڑھایے۔ہو سکتا جو چیز آپ کے لیۓ ایک فضول سی تحریر کی حامل ہو اس پہ کی متاع حیات کا دارو مدار ہو۔ذرا سوچیے!
تاریخ اشاعت: 2020-07-11

Your Thoughts and Comments