Aur Wo Qatal Kar Di Gayi

اور وہ قتل کر دی گئی

سعید چیمہ جمعہ 9 جولائی 2021

Aur Wo Qatal Kar Di Gayi
تیسرا پہر رات کا شروع ہو چکا تھا کہ جب پستول سے ہونے والے دو فائروں نے فضا میں قبرستان کا سکوت توڑا، گھر میں ثلاثہ اشجار پر رات بسر کرتے ہوئے پرندوں نے فائروں کی آواز سن کر اڑان بھر لی، پہلا فائر اس لڑکی کی ابھری ہوئی چھاتی سے ہو کر چیرتا ہوا دل کو گدے میں دھنس گیا جس پر وہ لڑکی آج رات آخری بار سوئی تھی، کیوں کہ اب اسے صور پھونکے جانے کے بعد اٹھنا تھا، دوسرا فائر بھی وسط سینے کو چیرتا ہوا گدے میں جا چھپا، مقتولہ کا نام نادیہ تھا اور عمر عین شباب کی تھی، قاتل کا نام چوہدری خدا بخش تھا جس کے بالوں میں چاندی کے ریشوں کی چمک دیکھی جا سکتی تھی، نادیہ کے سینے کو چھلنی کرنے سے پہلے چوہدری کی چہرے پر سفاکیت اور لومڑی کی چالاکی کے آثار آنکھوں میں تھے اور فائر داغنے کے بعد اس منحوس چہرے پر عجب طمنانیت مترشح تھی، جب کہ مقتولہ کے پر نور چہرے پر معصومیت برابر تھی سانسیں تھمنے کے بعد بھی، گمان ہوتا تھا کہ وہ ابھی گہری نیند سے بیدار ہو گی اور انگڑائی لے کر کائنات کا نظام درہم برہم کر دے گی، مگر یہ صرف گمان تھا۔

(جاری ہے)


نادیہ تین ماہ پہلے ہی لائل پور کی ایک سرکاری جامعہ سے فزکس میں چار سالہ ڈگری لے کر گاؤں لوٹی تھی، وہ خوب یہ بات جانتی تھی کہ اب اس کی شادی کا مرحلہ آن پہنچا ہے کیوں کہ اس کا باپ اس کو نوکری کی اجازت کبھی نہ دے گا، وہ اجازت دیتا بھی کیوں کر، آخر وہ گاؤں کا چودھری تھا جس کی ملکیت میں چار مربعے زمین، دو سو بھینسیں، اعلیٰ نسل کے ستر گھوڑے، دس ٹریکٹر، اور چار کنال پر مشتمل ایک کوٹھی تھی جو کسی مغل بادشاہ کا قصر معلوم ہوتی تھی، چودھری کے خود ساختہ عقیدے کے مطابق اگر وہ اپنی بیٹی کو نوکری کی اجازت دیتا تو اس کی برادری اور گاؤں میں ناک کٹ جاتی، نادیہ سمجھ دار لڑکی تھی اس لیے اس نے نوکری کے متعلق اپنے باپ سے کچھ بات نہ کی۔

مگر شادی اور نوکری میں تو بہت فرق ہے، والدین کی خاطر نوکری کی قربانی دینا تو ممکن ہوتا ہے مگر مرضی کے بر خلاف کسی کے بندھن میں بندھ کر زندگی کو جہنم بنا لینے کا یارا کس کو ہو، چودھری کی مرضی بلکہ حکم یہ تھا کہ نادیہ کی شادی اس کے چچا زاد چودھری انجم سے ہو جائے، انجم چوبیس پچیس سال کا ایک گھبرو جوان تھا جس کے چہرے پر سجی بڑی بڑی مونچھوں کو دئیے گئے وٹ اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ شرافت اس جوان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی، باپ کی بے بہا دولت کا غرور اور نوابی شوق جیسا کہ کتے لڑانا، کبوتر اڑانا اور شرطیں بدھنا، ہر شب خمر کے دور کرنا وغیرہ الگ تھے، ایک دن خدا بخش نے نادیہ سے کہا کہ میں تمھاری شادی انجم سے کرنا چاہتا ہوں، یہ بات سن کر نادیہ نے محسوس کیا کہ اس کے سر پر کسی نے آسمان لا رکھا ہے، وہ چیخیں مار کر در و دیورا سے سر پیٹنا چاہتی تھی مگر وہ صبر کیے جا رہی تھی، باپ کی بات سننے کے بعد نادیہ نے سر جھکا کر کہا کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں، در آں حالے کہ یہ بات سر اٹھا کر کرنے والی تھی، باپ کا خوف تھا کہ احترامِ پدر تھا مگر اس کا سر جھکا ہوا تھا، بیٹی کی بات سن کر چودھری کی آنکھیں انگارہ ہوئیں، اس کا دل چاہا کہ ابھی اٹھ کر سامنے بیٹھی ہوئی بیٹی کا گلا داب لے مگر وہ ضبط کیے رہا کہ شاید نادیہ سمجھانے سے ہی باز آ جائے، چودھری نے لہجے میں مصنوعی غصہ لاتے ہوئے کہا کہ یہ ناممکن ہے کہ خاندان سے باہر تیری شادی ہو اور وہ بھی تیری پسند سے، تیرا باپ کبھی اس بات کی اجازت نہ دے گا، مگر ابا میرا مذہب تو مجھے پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے، کان کھول کہ یہ بات اپنے بھیجے میں ڈال لے کہ تیرے لیے مذہب بھی میں ہی ہوں، ہو گا وہی جو میں چاہوں گا چاہے مذہب درمیاں آئے یا کچھ اور، لیکن ابا انجم کے ساتھ میری زندگی تباہ ہو جائے گی، زیادہ سے زیادہ تیری زندگی ہی تباہ ہو گی ناں، تو مر تو نہیں جائے گی، آپ اپنی اکلوتی بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں کر کر سکتے ہیں، اپنی غیرت کے لیے تو میں کچھ بھی کر سکتا ہوں، لیکن اگر میں پسند کی شادی کر لوں تو آپ کی غیرت پر کیا خرف آئے گا، چودھری نے اٹھ کر ایک زناٹے دار تھپڑ نادیہ کے چہرے رسید کیا، معلوم ہوتا کہ سفید رخسار پر عباس کے علم کی شبیہ بن گئی ہے، دیکھ تجھے بتا رہا ہوں کہ شادی تیری ہو گی تو میری ہی مرضی سے وگرنہ اس گھر سے تیری میت ہی روانہ ہو گی قبرستان کو، وہ گال سہلاتے سسکیاں لیتے ہوئے گویا ہوئی کہ شادی کروں گی تو اپنی مرضی سے وگرنہ نہیں، شاید اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کا باپ اپنے کہے کو سچ کر دکھائے گا، بیٹی یہ سمجھتی تھی کہ باپ کا غصہ وقتی ہے، اکلوتی بیٹی کی خواہش کے آگے بہر طور باپ کو جھکنا پڑے گا اور باپ یہ سمجھتا تھا کہ تھپڑ کھانے کے بعد بیٹی اپنے دل سے پسند کی شادی کا خیال نکال باہر کرے گی، وہ دونوں غلط تھے، باپ جھکا نہ بیٹی نے پسند کی شادی کے خیال کو جھٹکا، اور پھر ایک دن چودھری نے فیصلہ کیا کہ غیرت کے نام بہر حال نادیہ کی قربانی فرض ہو گئی ہے، کیا ہوا جو نادیہ بھی قربان ہو جائے گی، آخر پہلے بھی تو لاکھوں عورتوں کا بلی دان دیا گیا ہے، اور پھر اس رات نادیہ کو اس کے باپ نے قتل کر دیا، نہ مقدمہ ہوا نہ چودھری اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہوا، پولیس والوں کو اپنا حصہ ملتا تھا اور گاؤں والے خوف زدہ تھے کہ اگر لب کشائی کی تو چودھری فرعون بن جائے اور گاؤں والے بنی اسرائیل، گاؤں والوں کے پاس اس واقعے کی صداقت پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا کہ رات کو چودھری پستول صاف کر رہا تھا کہ صفائی کہ دوران غلطی سے دو فائر چل گئے جو سوئی نادیہ کی چھاتی کے پار ہو گئے۔


پس تحریر: اس کہانی کا حقیقت کے ساتھ اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ شب کا چاند کے ساتھ۔ آج سے کچھ پانچ برس قبل لائل پور میں سڑک کنارے دودھ کی دوکان کے باہر چند دوست بیٹھے تھے کہ ایک نے یہ واقعہ سنایا، راوی ثقہ تھا اس لیے غم نے آن پکڑا کہ اکیسویں صدی میں بھی فرسودہ روایات، نادیہ کی زندگی کی ڈور فقط اس لیے کاٹ دی گئی کہ وہ پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی۔
تاریخ اشاعت: 2021-07-09

Your Thoughts and Comments