Bachpan Guzra Aaya Larakpan - Qist 3

بچپن گزرا آیا لڑکپن قسط نمبر 3

عارف چشتی جمعرات جولائی

Bachpan Guzra Aaya Larakpan - Qist 3
میٹرک میں میرے مضامین اردو، انگلش، سوشل سٹیڈیز ، جنرل سائنس، جنرل میتھ، فارسی اور سوکس تھے. انگلش سب سے بھاری مضمون لگتا تھا، کیونکہ رٹا تو لگاتا تھا لیکن کمزور حافظہ کی وجہ سے بھول جاتا تھا، پھر دوبارہ رٹا لگانا پڑتا تھا. کتابی کورس میں ھیلن کیلر، گلیورز ٹریولز، مسٹر چیئر فل، برکن ھیڈ ڈرل کی کہانیاں شامل تھیں. درجنوں دفعہ دھرائی کی تھی.

اردو میں امریکی جمہوریت کے بانی صدر ابراھم لنکن کی کہانی شامل تھی اور مختصر شعراء کی سوانح عمری اور شاعری شامل تھی. فارسی میں مضارع اور سعدی کی بوستان اور دبستان کی حکایات شامل تھیں. جنرل سائنس میں لیب میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، آکسیجن کا پریکٹیکل شامل تھا. سوکس کے نئے ٹیچر اسی سال ھمارے سکول کی اساتذہ کی ٹیم میں شامل ھویے تھے، بہت ھی عمدہ طریقے سے پڑھاتے تھے.

والد صاحب میتھ اور فارسی میں ماسٹرز تھے، اسلیے انکی ٹیوشن اور مار نے کلاس میں اونچے ھی درجہ میں رکھا. میتھ میں عبدالغفور اور فارسی میں رزاق چھاچھی اور اصغر سے ھی مقابلہ رھتا تھا. فارسی کے سکول میں 50 ھفتہ وار ٹیسٹ ھویے تھے، جس میں، میں ٹاپ پر ھی رھا تھا. اسلئے خوشی محمد صاحب مجھ پر بہت توجہ دیتے تھے، حالانکہ میرے پاس درسی گیس پیپرز بھی نہ تھے.

مالی تنگی کی وجہ سے محلے کے بچے بچیوں کی ٹیوشن کے بعد رات کو عطا رنگ ساز کی دو بیٹیوں کو بھی دھلی روڈ فری ٹیوشن پڑھانے جانا پڑتا تھا.
ان دنوں عام معلومات کے لئے جنتریاں بک ڈپوز سے کبھی قیمتاً کبھی فری مل جاتی تھیں جس میں حروف ابجد، قسمت کا حال، اسلامی کیلنڈر، عیسوی کیلنڈر، بچوں کے اسلامی نام، ریلوے کا ٹائم ٹیبل، رمضان المبارک کے سحری اور افطاری کے اوقات بھی شامل ھوتے تھے.محلے کی بچیاں اور کم عمر بچے 'کوکلا چھپاکی جمعرات آئی جے، جیڑا مڑ کے دیکھے اودھی شامت آئی جے' شام کو کھیلا کرتے تھے.

اس میں ڈوپٹہ کو ھنٹر بنا کر ایک بچہ یا بچی دائرے میں بیٹھے بچے بچیوں کے گرد گومتا تھا، باقی سب منہہ چھپائے جھکے ھوتے تھے. جو اگر سر اٹھاتا تو اسے ھنٹر پڑتا تھا. پھر وہ ھنٹر کسی کے پیچھے رکھ دیا جاتا تو رکھنے والے کا اگر چکر مکمل ھو جاتا تو جسکے پیچھے ھنٹر رکھا ھوتا تھا وہ وھی عمل دھراتا تھا. اسکے علاوہ بچیاں کیکلی کلی سے بہت محظوظ ھوتی تھیں.

اس میں دو بچیاں ایک دوسری کے دائیں اور بائیں ھاتھ پکڑ کر سپیڈ سے گومتی تھیں. جب تھک جاتی تو وقت کی بنیاد پر ھار جیت ھوتی تھی.
کھسروں و ھیجڑوں کے ناچ گانے کی محفلیں بہت ھوتی تھیں. جہاں کسی کی شادی ھوتی تھی یا بیٹا پیدا ھوتا تھا انکو جیسے ھی معلوم ھوتا پہنچ جاتے تھے. کمال کی پر مزہ ناچ گانے کی محفل لگتی تھیں. انکا گرو ویلیں لینے میں لگا رھتا تھا.

فرمائش پر بھی وہ گانا سناتے تھے. اختتام کر پیسے، اناج اور کپڑوں کے جوڑے لیکر جاتے تھے، ورنہ جان چھڑانا مشکل ھو جاتا تھا. اسکے علاوہ بانڈ میراثی بھی آ کر انتہائی جگتے لگا کر محظوظ کرتے تھے. ان سے جان چھڑانا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا. مگی بجانے والی گگڑیوں کی ٹیم الگ ھی ھوتی تھی، وہ کاغذی پھولوں کا سہرا بنا کر دروازے پر لٹکا دیتی تھیں.

پھر طرح طرح کے پنجابی گیت مگی اور چھنکنا بجا کر بہت محظوظ کرتی تھیں. سب بچے خوب مزے لیتے تھے.گھاس منڈی میں سال میں دو دفعہ قصہ گوئی کی گھنٹوں محفل لگتی تھیں اور مقابلہ ھوتا تھا. انکی شاعری اور اسٹیمنا دیکھ کر لگتا تھا جیسے کوئی جن کلام سنا رھا ھو. دیسی ستار بجا بجا قصہ گوئی جاری رھتی تھی. مجھے تو کئی دفعہ گھر سے زیادہ دیر باہر رھنے پر مار بھی پڑتی تھی.

دراصل انکا کلام سننے والوں کو مبہوت کر دیتا تھا کہ وقت کا پتا ھی نہ چلتا تھا.
گھاس منڈی ایک مزار پر سالانہ عرس ھوتا تھا خوب میلہ لگتا تھا. رات کو مختلف قوال آکر قوالی کرتے تھے. زیادہ تر سنتو قوال کی قوالی سننے میں مزہ آتا تھا اور پوری رات قوالیاں جاری رھتی تھیں.محرم الحرام کے پہلے دس دن ذوالجناح کے جلوس کے علاوہ تعزیے نکالنے کا رواج عروج پر ھوتا تھا.

بہت سخت مقابلہ ھوتا تھا. بانس کی لکڑیوں کے کھانچے بنا کر رنگ برنگی پنییاں چپکا کر تعزیے تیار ھوتے تھے. بعض تو کافی قد آور ھوتے تھے. نو اور دس محرم الحرام کو انکی عوام کے لئے نمائش ھوتی تھی اور چڑھاوے چڑھتے تھے. تعزیہ کے علم بردار یہی کہتے تھے پھلیاں چڑھا لو مراداں پالو. لا علم تواھم پرست لوگ جنہوں نے منتیں مانی ھوتی تھیں. سرسوں کا تیل، پھلیاں مخانے ، رنگ دار سونف کھوپرا اور پیسے چڑھاوا چڑھاتے تھے.

ایک گھاس کا بنا ھوا تعزیہ صدر بازار گول چکر کے قریب آبادی والے بناتے تھے. اتنی رونق ھوتی تھی کہ کندھے سے کندھا ٹکراتا تھا. شرارتی لڑکے خر مستیاں کرتے تھے اور پھڈے بھی پڑتے تھے. امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فقیر بن کر ننگے پاؤں مخصوص گرین لباس میں قاصد یا پیک کا گروپ لمبے لمبے گرین جھنڈے تھامے، سارا دن گلیوں بازاروں میں دس دن تک گھومتا رھتا تھا.

انکا استاد کچھ قصیدہ گوئی کرتا تھا اور اسکے شاگرد اسکو دھراتے اور بھاگتے چلے جاتے تھے. دراصل یہ قاصد یا پیک اپنے والدین کی منتوں کو پورا کرتے تھے. ھر طرف شربت اور دودھ کی سبیلیں لگتی تھیں. گرمیوں میں ان میں اضافہ ھو جاتا تھا. بچہ پارٹیاں خوب مزے لیتے تھے. ایک اور گروپ گتکا کھیلتا تھا اور مختلف کرتب دکھاتا تھا، جس سے لوگوں کا مجمع لگ جاتا تھا اور خوب مزہ آتا تھا.

دسویں محرم الحرام کو دوپہر 12 بجے تمام تعزیے بہار شاہ قبرستان کوچ کر جاتے تھے،جہاں بہت بڑا میلہ لگتا تھا اور تعزیوں کو دفن کر دیا جاتا تھا. تمام بچے کافی دنوں تک انکو یاد رکھتے تھے، پھر اگلے سال کے انتظار میں رھتے تھے.
امریکی اثر رسوخ بہت بڑھتا جا رھا تھا. اب لاھور سٹیشن کے پاس لنڈا بازار جہاں ٹین کنستروں اور پرانے لوھے کے سکریپ کا کاروبار ھوتا تھا.

وھاں امریکی اترن یعنی امریکیوں کے استعمال شدہ کپڑوں، خاص طور پر گرم کوٹوں اوور کوٹوں، پتلونوں ، سویٹروں، جرابوں ، جانگیوں، جین کی پتلونوں، کمبلوں، مردانہ ٹائیںوں اور جوتوں کا کاروبار شروع ھو چکا تھا. وھاں کے کاروباری طبقہ پرانے کپڑے کی گھانٹیں امپورٹ کرکے نیلامی کرتے تھے. خریدار دوکاندار انکی چھانٹی کرتے تھے. اچھے مال کو مہنگے داموں اور گھٹیا مال کو سستے داموں بیچ کر اس کاروبار کو بڑھا رھے تھے.

وقت نے ثابت کیا کہ اس کاروبار کو کافی فروغ حاصل ھوا. سردیوں میں گرم کپڑوں اور گرمیوں میں سرد کپڑوں کے ریٹس بڑھ جاتے تھے.
سوشل سٹیڈیز کے ٹیچر یعقوب صاحب نے بتایا کہ پاکستان نے ھندوستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر دستخط کر دیے تھے. امریکہ اپنے دیر پا مفادات کو مدنظر رکھ کر پاکستان پر جال بن رھا تھا. انگلینڈ نے یہاں کے غلام لوگوں کے بارے میں ریسرچ اور غلام بنایے رکھنے کے تمام منصوبوں سے امریکہ کو اطلاعات فراہم کر دیں تھیں.

پاکستان میں سرکاراما دکھایا جا رھا اور دریا بیچے جارھے تھے، ادھر انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کر لیا اور ایٹم بم بنانے کے لیے یورینیم پر کام کر رھا تھا. سرکاراما ایک گلوب نما منی سینما تھا، جو پنجاب اسمبلی کے مغربی حصے کے میدان موٹے موٹے پائپوں کو ویلڈنگ کرکے بنایا گیا تھا. اسکے اندر چاروں طرف سترہ ٹی وی نصب کیے گئے تھے. لوگ قطار اندر قطار پہلے فری ٹکٹ لیتے تھے، پھر ایک گھنٹے تک اپنی باری کا انتظار کرتے تھے.

اندر گلوب میں داخل ھوتے ھی تمام لائٹیں بند کردی جاتی تھیں اور سترہ ٹی وی آن کردیئے جاتے تھے. دیکھنے والے کھڑے ھی رہ کر چاروں طرف ٹی وی دیکھتے تھے. ایسا لگتا جیسے آپ سفر کر رھے ھیں اور دائیں، بائیں، آگے پیچھے سفری سینز نظر آتے تھے. لوگ اسی چکر میں امریکہ کو بہت ترقی یافتہ آقا سمجھتے تھے. یہ ایک انتہائی بڑی چال تھی جس نے امریکی مداخلت کو ملکی گورننس کے امور عمل دخل کو تقویت دی.

لیکن پاکستان کو سرحدی علاقوں میں ڈیمز بنانے اور انڈسٹری کو فروغ دینے میں کافی امداد ملی تھی.
اس دور کے کچھ کرداروں کا ذکر بھی ضروری ھے. ایک بوڑھی اماں 'ھے جمالو' کا بڑا چرچا تھا وہ ھفتہ میں دو دفعہ مدد مانگنے آتی تھی اور ھے جمالو کے گیت پر بہت عبور رکھتی تھی. بچوں اور عورتوں کے جسم کی مالش کا فن اسکو آتا تھا. خاص طور پر پیٹ درد کے وقت یا جسمانی پٹھے کے دردوں میں وہ پرفیکٹ طریقے سے مالش کرتی تھی اور واقعی درد دور ھو جایا کرتے تھے.

لیکن اس کی رھائش کا کسی کو پتا نہ چلا کہ وہ کہاں رھتی ھے لیکن اس پر اعتبار کرتے تھے اور جگت ھے جمالو ھی رھی. تھی ایماندار اور محنتی. اسکے علاوہ ایک اور اماں 'میر بی بی چاؤان' اسکے دو بیٹے تھے ایک بیٹی. اسکی ھلکی داڑھی تھی تھی اسلئے محلے کے بچے اسکو چاؤان کے نام سے چھیڑتے تھے اور وہ گالیاں نکالتی تھی. غریب بہت تھی اور ھر وقت تسبیح پڑھتی رھتی تھی 'مدینہ والیا مینوں اپنے کول بلا لے' اپنی طرف سے نعتیں بنا کر پڑھتی رھتی تھی.

دن میں ایک وقت کا کھانا ھمارے ھاں ھی کھاتی تھی. کیونکہ اسکے بیٹوں نے اس کو چھوڑ دیا تھا اور بیٹی کی شادی محلے داروں کے تعاون سے ھو گئی تھی. اسکا داماد بھی بہت غریب تھا. علاقے کے ایک صاحب حیثیت مقیم نے نبی کریم صل اللہ تعالٰی و سلم سے محبت کی وجہ سے اس کو عمرہ کروا دیا اور وہ کافی عرصہ مدینہ منورہ رھنے کے بعد واپس آئی تھی. اسکی مثال سے ھم نے بہت کچھ سیکھا تھا.

محبت، عقیدت اور لگن ھو تو اللہ تعالٰی کے دربار میں قبولیت ضرور ھوتی ھے.
میٹرک کے امتحانات کا وقت قریب آرھا تھا اور تمام کھیل کود سرگرمیاں بند ھی ھو چکی تھیں. گرمیوں کی وجہ سے دماغ کم ھی کام کرتا تھا. اس کے علاوہ ایک خوف طاری رھتا تھا. تمام اساتذہ نے الوداعی نصیحتیں کیں، جس سے آنکھوں میں آنسو جاری تھے. الیاس صدیقی صاحب نے نصیحتیں کیں کہ شرک نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، غیبت نہ کرنا، کسی کو دھوکہ نہ دینا، اگر کبھی ناکام ھو جاؤ تو ھمت نہ ھارنا، کسی سے اسکی تنخواہ نہ پوچھنا، کسی کچے کان کے دوست سے راز کی باتیں نہ کرنا.

پھر سارے سکول کے کمروں کا چکر لگوایا گیا اور ھم سیکنڈری بورڈ کا امتحانی رجسٹریشن نمبر لیکر سکول کو الوداع کہہ کر گھروں میں لوٹ گئے. دن رات کی مشقت کی وجہ سے مُجھے بخار ھو گیا اور ٹمپریچر 104 تک پہنچ گیا، لیکن میں بستر پر لیٹے ھی پڑھائی کرتا رھا. میرا امتحانی مرکز عارف ھائ سکول دھرمپورہ بنا تھا. اسلئے والد صاحب مجھے شیڈول کے مطابق بخار کی حالت میں ھی میڈیسن دے کر سائیکل پر سنٹر لے جاتے تھے اور حوصلہ بڑھاتے تھے بس فکر نہ کرو جو کچھ آتا ھوگا لکھ دینا.

خیر امتحانات اختتام کو پہنچے اور بعد میں صحت یابی بھی ملی. دوستوں سے مختلف مقامات کی تفریح بھی کی. ان دنوں بورڈ کا نتیجہ گزٹ کے ذریعے سے مشتہر ھوتا تھا. لو جی نتیجہ آگیا میں 598 نمبر حاصل کرکے دو نمبروں سے فرسٹ ڈویژن حاصل نہ کر سکا. بعد میں گزٹ سے کنفرم ھوا کہ 593 نمبر آیے ھیں اور معروضی مضمون سوکس میں فیل ھونے کے باوجود مجھے پاس کر دیا گیا ھے.

اگر کمپارٹمنٹ آجاتی تو میں فرسٹ ڈویژن بہت آرام سے لے سکتا تھا. والد صاحب نے مشاورت تو بہت کی لیکن سب نے یہ کہا کہ آگے کا سوچو کہیں بچے کا سال ضائع نہ ھو جائے. اب کسی اعلیٰ کالج میں داخلے کا مسئلہ در پیش تھا اور پھر مالی حالات بھی بہتر نہ تھے کیونکہ دوسرے بہن بھائیوں کو بھی اگلی کلاسوں میں داخل کرنا تھا. خیر دوستوں سے مل کر تین چار کالجوں کی پراسپیکٹس میں نے لا کر والد صاحب اور چچا صاحب کو دے دیں تھیں. تاکہ تعلیم جاری رکھنے پر سوچ بچار کر لیں

(جاری ہے)

تاریخ اشاعت: 2020-07-23

Your Thoughts and Comments