Bhook

بھوک

ریحان محمد اتوار نومبر

Bhook
آج میرے پاس گاڑی ہے بنگلہ ہے بینک بیلنس ہے ۔بھائی تمھارے پاس کیا ہے۔ میرے پاس ماں ہے۔ دیوار فلم کے اس جذباتی سین نے مجھے پوری طرح اپنے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔ بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہی اونچی آواز میں بولی والیم آہستہ کریں۔ میں نے فورا" عمل کرتے ہوے ٹی وی کی آواز آہستہ کر دی ۔تو بیگم بیزاری سے بولی آپ جب بھی گھر ہوں سوائے پرانی فلمیں دیکھنے کے علاوہ کوئ کام نہیں۔

فلم بند کریں سکیورٹی گارڈ ڈولی کے لیے ماسی لے کر آیا ہے ۔آپ اس سے پوچھ گچھ کر لیں۔ ڈولی میری تین سالہ اکلوتی بیٹی ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی نوکری کرتے ھیں۔ اور اچھے عہدوں پر فائز ھیں۔ نوکری کی وجہ سے سارا دن آفس میں گذرتا ہے تو اس وجہ سے ڈولی پر توجہ نہیں دے سکتے۔مناسب دیکھ بھال اور توجہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈولی چڑچری غصے والی ضدی ہو گئ تھی۔

(جاری ہے)

جسمانی صحت بھی اچھی نہ تھی ۔ لہذا ڈولی کی دیکھ بھال کے لیے آیا کی ضرورت تھی جو ڈولی کی اچھی طرح دیکھ بھال کر سکے۔ اسی پیشں نظر بہت سی عورتیں ڈولی کی دیکھ بھال کے لیے رکھیں کچھ ڈولی کی ضدی طبعیت کی وجہ سے خود ہی چلے گئ اور کچھ بیگم کے معیار پر نہ اتری ۔میری ذاتی راے میں زیادہ تر بیگم کے معیار اور ملازموں سے سخت لہجہ کے استعمال کی وجہ سے خود ہی نوکری سے جواب دے دیا۔

اب صورتحال بہت سنگین تھی ڈولی کے لیے جلد از جلد آیا کی ضرورت تھی۔موجودہ صورت حالات کا اثر ہماری جاب پر بھی پر رہا تھا۔ اپنے محلے کے سیکورٹی گارڈ سے آیا کے لیے کہا تھا تو وہ آج ایک آیا کو لے کر آیا۔وہ گارڈ کی دور کی رشتے دار ہے۔ اور ہر طرح کی اس کی ضمانت دینے کو تیار تھا۔
پہلی نظر میں مجھے وہ ملگیجے کپڑوں میں ملبوس پچاس پچپن سالہ دیہاتی عورت لگی ۔

اپنا نام نجمہ بتایا۔ اور دیگر تفصیلات پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کی عمر چالیس سال ہے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق ہو چکی ہے۔بہن بھائیوں نے طلاق کے بعد اچھا سلوک نہیں کیا اور کوئ بھی اس کو اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں۔ان حالات میں گذر اوقات کے لیے نوکری اور رہائش کی اشد ضرورت ہے۔
میری بیگم کو تو نجمہ ایک آنکھ نہ بھای پر میرے کچھ سمجھانے بجھانے پر بیگم عارضی طور پر رکھنے کو تیار ہو گیئں کہ جیسے ہی مناسب یا بہتر آیا ملے گی تو نجمہ کی چھٹی کر دی جاے گی۔


ڈولی کو نجمہ سے ملوانے سے پہلے بیگم نے چند اپنے پرانے سوٹ دیے اور نہا کر صاف ستھڑا ہو نے کا کہا۔ جب نجمہ کو صفائ سھتڑائ کے بعد ڈولی سے ملوایا تو حیران کن طور پر ڈولی بغیر کسی احتجاج اور شور وغل کے نجمہ کے پاس چلے گئ۔ دو تین دن میں ڈولی نجمہ سے بےانتہا مانوس ہو گئ اس کے بغیر ایک منٹ بھی نہیں رہتی۔ اور یہ سب میری بیگم کو کسی صورت گوارا نہیں تھا۔

میرے بار بار سمجھانے اور اپنی نوکریوں کے حالات کے پیش نظر کہ اس کہ علاوہ کوئ اچھا حل نہ تھا۔کچھ ہی عرصے میں بھرپور توجہ کی وجہ سے ڈولی کی صحت بہت اچھی ہو گئ۔ چڑچرا غصہ بھی پہلے سے کم ہو گیا۔
دوسری طرف اچھی خوراک اور اچھے رہہن سہن کی وجہ سے نجمہ جو اپنی عمر سے بہت بڑی لگتی تھی اب اپنی اصل عمر سے بھی کم نظر آنے لگی اور خوش شکل بھی ہو گئ۔

اسی وجہ سے میری بیگم کا نجمہ کے ساتھ رویہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا تھا۔میری نظر میں نجمہ ایک انتہائ شریف باکردار عورت تھی۔ جب بھی میں گھر ہوتا میرا آمنا سامنا بہت کم ہوتا۔ آج تک نظر اٹھا کر بات نہیں کی۔
چھٹی کے دن حسب روایت میں اپنے بیڈ روم میں پرانی فلم دیکھ رہ تھا۔ کہ باہر سے بیگم کے چیخ چیخ کر بولنے کی آواز میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

صورت حال کا جائزہ لینے میں کمرے سے باہر گیا۔ تو سامنے نجمہ مجرموں کی طرح کھڑی تھی اور انتہائ سہمی ہوئ لگ رہی تھی۔بیگم بغیر کسی توقف کے نجمہ پر لعن طعن کر رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اس سارے معاملے کی وجہ معلوم ہوئ۔ بقول بیگم کے میں ڈولی کے کمرے میں گئ تو یہ منحوس عورت میری بیٹی کی پلیٹ میں ایک ہی چمچ کے ساتھ خود بھی کھا رہی تھی اور ڈولی کو بھی کھلا رہی تھی۔

اس کمتر عورت کی جرات کیسے ہوی میری بیٹی کو اپنا جھوٹا کھلائے۔ میں اس کو آج نہیں چھوڑوں گیا اس سنگین صورت حال کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا۔ آئیندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی پر نجمہ کو چھوڑا اور آخری وارنگ بھی دے ڈالی۔ ایک دو مرتبہ میں نجمہ کی طرف داری یا حمایت میں بولا تو بیگم نے جس طرح آڑھے ھاتوں مجھے لیے وہ ناقابل بیان ہے بلکہ کئ شادی شدہ مرد میری اس کفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔

بیگم کی اس عزت افزائ کے بعد دوبارہ میری ہمت نہیں ہوئ۔
کچھ دنوں بعد ڈولی کی سالگرہ تھی جو ہم نے دھوم دھام سے شہر کے معروف ہوٹل میں منانے کا فیصلہ کیا۔سالگرہ کے لیے بےحد قیمتی ڈریس کا انتخاب کیا۔ہوٹل جانے کے لیے ڈولی کو لینے میں اور بیگم اس کے کمرے میں گے تو ڈولی نے گوٹے اور کڑھائ والی شلوار قمیض پہنی ہوئ تھی جو اس پر بہت جچ رہی تھی ۔

بیگم کا یہ دیکھتے ہی پارہ ایک دم ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔ یہ کپڑے کس کی اجازت سے پہناے ہیں۔میری بیٹی نے آج تک اتنے گھٹیا کپڑے نہیں پہنے۔ بیگم دھاڑتے ہوے بولی تمہاڑی جرآت کیسے ہوی۔مجھے بتاو۔ نجمہ نحیف سی آواز میں بولی بیگم صاحبہ میں نے کپڑے بڑے پیار سے سیئے ہیں اور اپنے ھاتوں سے ان پر گوٹے اور کڑھای کا کام کیا ہے ۔ صرف ایک بار ڈولی کو پہنا کر دیکھنے تھے۔

بیگم حقارت سے بولی ایک منٹ سے پہلے ان کپڑوں کو اتارو اور جو میں انتہائ قیمتی کپڑے لائ ہوں وہ پہناوں۔ ڈولی کے تیار ہونے کہ بعد ہوٹل جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھنے لگے تو بیگم نے نجمہ کو کہا تم گھر میں رہو تمھارا وہاں کوئ کام نہیں۔سارے راستے ڈولی نجمہ کو پکارتی رہی۔ ایک دوبار تو بیگم نے ڈولی کو ڈانٹ بھی دیا۔ ہوٹل مہمانوں سے بھڑا ہوا تھا شہر کی بہت معروف ہستیاں سالگرہ پر آئیں ۔

رات گے سالگرہ کا ہلہ گلہ جاری رہا۔
اگلے دن ناشتے کے بعد میں اور بیگم لاونج میں بیٹھ کر سالگرہ پر دیے جانے والے تحائف چیک کر رہے تھے۔ سب تحفے انتہائ خوبصورت اور قیمتی تھے۔ اتنے میں ڈولی ہمارے پاس آئ تو اس کے ھاتھ میں ایک عام سی گڑیا تھی بیگم نے گڑیا ڈولی سے لی اور پوچھا یہ کس نے دی ہے۔ تو ڈولی بولی یہ مجھے نجمہ آیا نے دی ہے۔ بیگم نے ڈولی سے کہا تم ان قیمتی کھلونوں سے کھیلو۔

اس گھٹیا عورت کی گھٹیا گڑیا سے کھیلنے کی ضرورت نہیں یہ کہتے ہوے گڑیا کو دروازے کی طرف پھینکا جو سیدھی اندر داخل ہوتی نجمہ کے پاوں میں گری۔ نجمہ نے گڑیا کو اٹھیا اور سینے سے لگا کر بیگم کی طرف دیکھا دو آنسو کے قطرے اس کے چہرے پر بغیر منہ سے کچھ کہے اس کی اندرونی بیرونی کفیت بیان کر گے۔
وہ منہ کو دوپٹے کے پلو میں چھپا کر اندر چلے گئ۔

بیگم کے اس تکبرانہ نارواہ سلوک سے میں تڑپ کے رہ گیا وہی ازلی بزدلی راہ میں حائل ہو گئ اور ایک لفظ بھی اس غریب کے لیے بول نہ سکا۔
ہر گذرتے دن کے ساتھ بیگم کا نجمہ کے ساتھ سلوک ہتک آمیز ہوتا جا رہا تھا۔شائد ہی کوئ ایسا دن نہ ہوتا جب بیگم نجمہ کی بےعزتی نہ کرتی۔ذلت و تحضیک کا کوئ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی۔پر نجمہ نہ جانے کس مٹی کی بنی ہوئ تھی کہ آگے سے کھبی اف تک نہ کرتی۔


سردیوں کی ایک یخح بستہ شام دفتر سے گھر لوٹا تو بیگم نے نجمہ کو بالوں سے پکڑا ہوا تھا۔ اور چیخ چیخ کر نجمہ سے کہہ رہی تھی بولو میری برابری کرنے کی تمہاری ہمت کیسے ہوِئ۔ میں تمہیں آج ذندہ نہیں چھوڑوں گی۔ میرے گھر سے ابھی اور اسی وقت نکل جاو۔میرے پوچھنے پر یہ سب کیا ماجرہ ہے بیگم نے ایک زوردار مکا نجمہ کو مارا۔ اور بولی کہ میں آفس سے واپس آئ اور ڈولی کے کمرے میں گئ تو یہ ڈولی سے کہہ رہی تھی تم مجھے نجمہ آیا کی بجاے امی کہا کرو۔

میں بھی تمھاری ماں کی طرح ہوں۔ یہ سب میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔بیگم نے ایک بار پھر سے نجمہ پر لفظی گولہ باری شروع کر دی۔اور اسے دھکے دینے لگ گی اور چیخ چیخ کر ایک ہی بات دھرائے جائے نکل جاو میرے گھر سے دفع ہو جاو۔نجمہ نے کانپتے جسم اور تھرتھراتے منہ سے کہا بیگم صاحبہ خدا کے لیے مجھے نہ نکالو ۔میں ڈولی کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتی۔ساری عمر میں نے اولاد کی بھوک دیکھی ہے میں بچوں کی بھوکی ہوں۔میری تو ابھی بھوک مٹی بھی نہیں۔ ۔مجھے ڈولی سے دور مت کرو۔میں ایک دفع پھر بھوکی ہو جاوں گی۔میں بھوکی ہو جاوں گی۔۔۔۔۔
وہ ھاتھ جوڑ کر روندھی ہوئ آواز میں کہہ رہی تھی پر بیگم نے اس کی ایک نہ سنی اس ٹھٹڑتی بھیگی سرد رات میں نجمہ کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-29

Your Thoughts and Comments