Dasht E Tanhai

دشتِ تنہائی

ایمن افتخار جمعرات جون

Dasht E Tanhai
پھر سے آنکھوں میں خواب انشاء جی
اجتناب،اجتناب،اجتناب انشاء جی
انشاء جی کا شعر پرٹھ کے مارخ تھم سی گئی تھی-یادوں کا سیلاب تھا جو تھمنے میں نہیں آ رہا تھا-ایک نام کی باز گشت تھی ،جو سنائی دے رہی تھی-ایک نام تھا جو اسکی حیات تھا،اب تو تلخیوں کا قصہ ہے یعنی ماضی کا حصہ ہے-محبتوں کے خراج ادا کرتے کرتے وہ شریف سے کنجری بن گئی تھی-ایک ایک کر کے آج پھر اس بے وفا کے وعدے یاد آ رہے تھے-
وہ جب ماہ رخ میری جان کہ کے مخاطب کرتا تھا -توماہ رخ کی سانسیں تھم جاتی تھیں-وہ شخص کب اتنا اہم ہوا کہ وہ گھر والوں سے بغاوت کر گئ-بہت سے دکھوں میں ایک اور دکھ بابا یاد آتے -نا جانے کیسے ہو گے سب ،زندہ بھی ہو گئے یا مر گئے ہو گئے-
اس نے جب گھر کی دہلیز پار کی تھی تو خود ان دیکھی مصیبتوں اور تنہائیوں کے سپرد کر دیا تھا-جس کے لئے اس نے سب چھوڑا ،اسکا تو کاروبار ہی یہی تھا-اس کی روزی روٹی ہی یہی تھی-مجھے بھی بیچ دیا اس نے،محبت میں بے وفائی کا غم اور دوسرا ایسی جگہ کی زینت بننا ،جس کا تصور تک نہیں کیا تھا-اس بازار حسن میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا-
وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی سمجھوتہ کر گئی تھی ،اور جانی مانی طوائفوں میں شامل ہوتی تھی-جتنی خوش مزاجی وہ اپنے انے والوں کو دکھاتی تھی -کیا ایسی ہی خوش مزاجی اس کے اندر بھی تھی-اس سوال کے جواب میں کوئی چیخ کے بولتا ہے -اسے یہاں کے درو دیوار وحشتوں میں مبتلا کرتے ہیں-ہر روز کسی کے بستر کی زینت بن کر،کسی کو راحت دے کر جو کانٹے اسے اپنے بستر پر محسوس ہوتے ہیں- ان کا مداوا کوئی نہیں کر سکتا-کسی کو راحت بانٹ کے جو بے سکونی اس کے حصے آتی ہے -اسکا کوئی مداوا نہیں-یہاں کی رنگ برنگی دنیا میں بھی اسکی تنہایاں اسے نو چتی ہیں-اس کے اندر کی گٹھن نہ جینے دیتی ہے نہ مرنے دیتی ہے-اسکی غلطی تھی محبت اسکی غلطی تھی آنکھوں کو خوابوں سے سجانا،ہاں یہی غلطی تھی اسکی-اس رنگ و بو کے بھرے بازار میں کتنے مردے ہیں،کوئی نہیں جانتا-انشاء جی کا شعر پڑھ کے وہ بھی کن خیالوں میں گئ تھی-اب تو یہاں ہی رہنا ہے،زندہ لاش بن کر یا پھر مرے وجود کے اس دھندے کو چلا کر،پر تنہائیاں ڈستی ہیں زہریلے ناگوں کی طرح-پر محبت کی یہی تو سزا ہوتی ہے-یہ ان دیکھی آگ ہے جس میں تن بدن جل رہا ہے-میں کیا سوچ رہی ہوں ،خود بھی معلوم نہیں،پر یہاں کی تنہائیاں میری جان لیں لیں گی-
دروازے پہ ہونے والی دستک سے اسکے خیالوں کا تسلسل ٹوٹ گیا تھا-آنکھوں کے کنارے سے نمی پونچھتی جب وہ مڑی تو اک امتحان سامنے کھڑا تھا-آج پھر اس کو نوچا جانا تھا-آنے والے کی آنکھوں کی حوس بتاتی تھی کہ وہ اپنی حوس سے اسکی روح کھینچ لے گا-اپنی الجھنیں اس میں منتقل کر کے مری ہوئی ماہ رخ کو گاڑ جائے گا-
تاریخ اشاعت: 2020-06-25

Your Thoughts and Comments