Dastak Darre Jawani - Qist 1

دستک درے جوانی ۔ قسط نمبر1

عارف چشتی اتوار جولائی

Dastak Darre Jawani - Qist 1
گھر کے بڑوں کی دور رس منصوبہ بندی کے تحت چچا صاحب نے میرے تعلیمی اخراجات کی حامی بھر لی اور والد صاحب کے سر سے کچھ بوجھ ھلکا ھو گیا. کافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ ھوا کہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاھور میں داخل کروا دیا جائے. تمام مطلوبہ کاغذات مکمل ھو گیے. قریشی سٹوڈیو سے زندگی کی پہلی تصویر ٹائی پہن کر اتروائی. اتنی اچھی نہ تھی بس گزارا چل گیا تھا.

23 نومبر 1963 ھم باپ بیٹا اسلامیہ کالج پہنچے. HUMANITY GROUP کا ارادہ تھا اسلئے انگلش، اردو، فارسی جو میرا من پسند مضمون تھا، سٹیسٹکس جو اسی سال متعارف ھوا تھا اور سوکس کا انتخاب کیا. داخلہ فارم پر کر لیا اب دستخط کا مسئلہ آن کھڑا ھوا. نام بہت لمبا ھونے کی وجہ سے الفاظ مخفّف کرکے آدھ گھنٹہ پریکٹس کی اور دستخط کرکے داخلہ فارم جمع کروا دیا. واپسی پر دادی کی سہیلی ماسی بالی کے ھاں جانا ھوا، جو قریب ھی دل محمد روڈ میں رھتی تھی.

والد صاحب کا کہنا تھا کہ ابھی اجنبی ھو دوپہر کو ھاف ٹائم میں انکے ھاں چلے جایا کرنا، کچھ آرام کر لینا تاکہ اداسی محسوس نہ ھو، لیکن میں ان کے گھر کبھی گیا ھی نہیں یہ میری اپنی انا یا سوچ تھی.
داخلہ سے ایک روز پہلے امریکی صدر جون ایف کینیڈی کو اسوالڈ نامی شخص نے قتل کر دیا تھا، جسکے ضمیمے بھی لوگ کالج کے ھال کمرے میں پڑھ رھے تھے.

بڑی حیرت ہوئی. مارچ 1962 میں انکی بیوی جیکولین کینیڈی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ھارس شو میں، میں نے ڈرل کے مظاھرے میں بھی حصہ لیا تھا.سکول کے دوستوں میں کوئی بھی میرے کالج میں داخل نہیں ھوا تھا، ورنہ کسی قسم کا آنے جانے کا مسئلہ یا خوف پیدا نہ ھوتا. عبدالغفور گورنمنٹ کالج لاہور، ریاض بھائی دیال سنگھ کالج لاہور میں داخل ھو گیے تھے، ذوالقرنین اور عمر فاروق فوج میں چلے گئے تھے.

منصور جو سب سے زیادہ لائق تھا، نے غربت کی وجہ سے لال کرتی محلہ میں چھوٹی سی کریانہ کی دوکان کھول لی تھی. بشیر باڈا نے میکلوڈ روڈ میں ایک دفتر میں ملازمت اختیار کرلی تھی. دیگر دوستوں سے بس کبھی راہ چلتے ملاقات ھو جاتی تھی. دس دن کے بعد کالج کھل جانے تھے، اسلئے والد صاحب عزیز و اقارب میں مٹھائی تقسیم کر رھے تھے اور مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے.

سب سے پہلے خالہ کنیز کے ھاں جانا ھوا، جو اب کریم پارک سے رحمان پورہ اچھرہ کوارٹرز میں منتقل ھو چکی تھیں. انکے دو بیٹے صلاح الدین اور ضیاء الدین گوگی تھے اور چار بیٹیاں تھیں. جن میں سب سے بڑی بیٹی کی شادی بھائی مظہر صاحب سے ھو گئی تھی. وہ انتہائی درجہ کے شریف النفس انسان تھے. ان سے بھی پہلی ملاقات ھوئی تھی. وہ ھارٹ کے عارضہ میں مبتلا تھے اور ان کی ٹانگوں میں دردیں رھتی تھیں.

ان سے کافی دوستی اور دل لگی رھی. وہ گوالمنڈی لاھور رھتے تھے. انکا گھر میرے کالج سے ایک کلو میٹر دور تھا. صلاح الدین کٹنگ کا دو سالہ کورس سیکھنے کینیڈئن انسٹیٹیوٹ کراچی گیا ھوا تھا، اسلیے اس سے ملاقات نہ ھوسکی. خالہ کنیز کے گھرانے سے جو محبت اور پیار ملا شاید ھی کسی اور سے ملا ھو. وہ میری تعلیمی قابلیت کے بہت ھی معتقد تھے اور فخر کرتے تھے اور دوسروں کو میری پیروی کرنے کی تلقین کرتے تھے.

خالو قمرالدین کے تین چھوٹے بھائی شہاب الدین، شمس الدین اور ظفر صاحب تھے. وہ بھی میری کافی عزت کرتے تھے. تفصیلاً ملاقات نے ھمیشہ کے لئے انکے دروازے میرے لئے کھول دیئے تھے. جو کسی کی عملی زندگی میں کم ھی ھوتا ھے. ادھر ریا کار ننھیال والے اپنی ھوائیاں چھوڑ رھے تھے، کہ مجھے اعلیٰ تعلیم کے لئے کراچی لے جانا ھے اور پھر افسر بنوانا ھے. یہ بالکل بکواس جھوٹی تسلیاں تھیں.

عمل مائنس زیرو تھا بلکہ حسد کیا گیا. کہ یہ کیسے کالج میں داخل ھو گیا ھے. ایک اور محبت کرنے والی شخصیت پھوپھا عبدالرحیم صاحب کی تھی وہ اپنی اولاد سے زیادہ میری عزت کرتے تھے. انکا سخی پن اور ھمت افزائی نا قابل فراموش تھا. وہ جب بھی لاھور آتے مجھے ھر جگہ لیکر جاتے تھے. اسکے علاوہ ماموں یونس صاحب کراچی والے اور ماموں گلزار صاحب کوئٹہ والے بھی مجھے ھی ساتھ لے جایا کرتے تھے، یہ انکی محبت اور میرا خلوص تھا کہ میں انکی بہت عزت کرتا تھا.

کالج کی کتابیں اور کاپیاں والد صاحب کے ساتھ اردو بازار بیرون لاہوری و موری گیٹ جا کر خرید لیں تھیں. اس میں کچھ کتابیں سیکنڈ ھینڈ ھاف ریٹ پر مل گئیں تھیں.قد چھوٹا ھونے کی وجہ سے میں سائیکل چلا کالج نہیں جا سکتا تھا، اسلئے پہلے سات پیسے دے کر سٹیشن جاتا تھا وھاں سے پیدل آسٹریلیا چوک کراس کرکے برانڈرتھ روڈ سے ھوتا ھوا چوک دالگراں پہنچتا اور بائیں ھاتھ گھاٹی اتر کر ریلوے روڈ کالج پہنچتا تھا.

کالج کے عین سامنے قرآن مجید کے مشہور زمانہ پبلشرز تاج کمپنی والوں کا پرنٹنگ پریس تھا. قد چھوٹا ھونے کی وجہ سے اومنی بس میں آدھا ھی ٹکٹ لیتا تھا.اس وقت کالج کے پرنسپل خواجہ اسلم صاحب تھے. علم الدین سالک صاحب فارسی، منظور صاحب انگلش، چٹھہ صاحب اردو، سوکس صوفی تبسم صاحب کے صاحب زادے صوفی نثار صاحب، سٹیسٹکس تحسین صاحب پڑھایا کرتے تھے.

کالج میں پہلے دن انٹر میڈیٹ پارٹ ٹو کے طلبہ نے ھم جیسے نوواردوں کا خوب فول بنایا. میں خود شرارتی تھا اسلئے خوب مزے لیے، البتہ کپڑے سٹمپ پیڈ کی سیاہی سے رنگے گیے تھے.ھفتہ وار بنگالی زبان کا ایک پیریڈ ھوتا تھا. اسی طرح دینیات اور ٹیوٹوریل کے پیریڈز ھفتہ میں ایک دفعہ ھوتے تھے. ٹیوٹوریل کے پیریڈ میں لطیفے، گانے، نعتیں، دوسروں کی نقالی اور تعلیمی مشکلات پر گفتگو ھوتی تھی.

ھوٹنگ بھی خوب ھوتی تھی. انٹر پارٹ ٹو کے طلبہ ھی زیادہ چھایے رھتے تھے. میں پستہ قد ھونے کی وجہ سے ھمت ھی نہ کرتا تھا. لیکن مزہ لیتا تھا اور لطف اندوز خوب ھوتا تھا.
اب لڑکپن سے جوانی کی طرف رخت سفر تھا. لامحالہ رکھ رکھائو میں بھی تبدیلیاں آنا شروع ھو گئیں تھیں. عزت میں اضافہ بھی ھوتا جا رھا تھا. اب زیادہ تر محلے دار اور میل جول والے فخر محسوس کرتے تھے، کہ میں کالجیٹ ھو گیا تھا.

کچھ حاسد بھی تھے جو آٹے میں نمک کے برابر تھے. ھمسایہ نواز کیوں کہ ایک سال سینیئر تھا اور دیال سنگھ کالج میں پڑھتا تھا، اس کے خاندان میں یہ عنصر بہت پایا جاتا تھا. لیکن میں اپنے آپ میں مگن رھتا تھا. وہ اعلیٰ تعلیم کا حصول تھا.گرمیوں کی یونیفارم سفید قمیص اور خاکی پینٹ ھوتی تھی اور سردیوں میں سفید قمیض، بلیو ٹائ، گرے گرم پینٹ اور گرین بلیذر (کوٹ) یا فل جرسی (پل اوور).

ٹیڈی ازم کا فیشن زوروں پر تھا اسلئے میں بھی اسے اپنانے کی کوشش کر رھا تھا لیکن والد صاحب پیش نہ چلنے دیتے تھے.لنڈے سے سارا دن لگا کر بلیذر پانچ روپے میں مل گیا. پینٹ وسٹرڈ کی سلوا لی اور کالج کا بیج دو روپے میں لیکر بلیذر کی پوکٹ پر سلوا لیا تھا.علم الدین سالک صاحب ایڈمنسٹریٹر بھی تھے، پرانی وضع کے طرحدار نمونہ تھے. وہ ٹیڈی ازم کے سخت خلاف تھے اور جس کسی نے ٹیڈی کپڑے پہنے ھوتے تھے، خوب درگت کرتے تھے اور کہتے تھے ایسے لگ رھا ھے جیسے سرکنڈے پر کپڑا لپیٹا ھو.

وہ فارسی تو کم پڑھاتے تھے، ادھر ادھر کی باتیں زیادہ کرتے تھے. دوران تعلیم معلوم ھوا کہ فارسی کا کوئی مستقبل نہیں اسلئے چند ماہ بعد فارسی کو خیر باد کہہ کر اکنامکس بطور آپشنل مضمون اپنا لیا. جو کہ اردو ھی میں پڑھایا جاتا تھا. اس کے لیکچرار ابراہیم صاحب تھے انکا لہجہ دیہاتی تھا اسلیے انکے پیرئیڈ میں شور اور طرےبازی بہت ھوتی تھی. ابھی تک کسی سے دوستی نہیں ھوئی تھی.

کیونکہ ھر طالبعلم اپنے آپ میں مست دوسروں کا جائزہ لے رھا تھا.
ایک دن سوکس کے پیرئیڈ میں ایک پستہ قد خوبصورت کلاس فیلو سے جو میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتا تھا، ذاتی نوعیت کا تعارف ھوا. اسکا نام مجاھد مرزا تھا. اسکی رھائش میکلوڈ روڈ پر وکٹری سکول کے قریب تھی. وہ کم گو اور ذھین بہت تھا. وقت کے ساتھ دوستی بڑھتی چلی گئی اور ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا شروع ھوگیا.

وہ انگلش اور سوکس پر عبور رکھتا تھا. میں سٹیسٹکس اور اکنامکس میں رھنمائی کرتا تھا اسلیے دوستی گہری ھوتی گئی. محلے میں فضل اور انور، کالج میں مجاھد مرزا گہرے دوست بن گئے تھے بس لنگوٹیے. ایک دوسرے کے راز و نیاز سے با خبر.کالج کے دیگر دوستوں میں رشید جسکو ھم نے بٹر لقب دیا تھا، الیاس دوائی خانہ والا، خورشید وسن پوریا اور شوکت قابل ذکر ھیں.میرے دیگر مشاغل میں پنسل سے تصاویر بنانا تو میٹرک میں ھی شامل تھا، اب کچھ زیادہ ھی ھاتھ صاف ھوگیا گیا تھا.

جب بھی وقت ملتا یہ شوق اپنے ڈرائنگ روم میں بڑے ڈرائینگ بورڈ پر جاری رکھتا تھا. اب ایک اور ھنر فضل الرحمن نے سکھا دیا تھا. سرکنڈوں کے تنکوں سے اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی اور آیات کے فریم بنانا. صادقین صاحب کے فن پاروں کو ٹریس کرکے تنکوں سے گوند یا سریش سے پیسٹ کرکے مخصوص بلیڈز اور چھوٹی باریک قینچیوں سے کٹائی کرکے شنیل کپڑے کے فریم بنا کر چپکانا پڑتے تھے.

پہلے بڑی محنت سے بے داغ سرکنڈے لاتا تھا، پھر محنت سے اسکی چھلائی کرتا تھا. بعد میں آرٹ ورک شروع ھوتا تھا. اکثر عزیز و اقارب کے ھاں کئی دھائیوں تک میرے فن پارے انکے ڈرائینگ رومز کی زینت بنے رھے اور میری یاد دھانی کراتے رھے. اسکے علاوہ مختلف ممالک کی ڈاک ٹکٹیں جمع کرنے کا بہت شوق تھا. ایک بڑی فائل میں مختلف ممالک کے جھنڈے، اسکی پہچان اور ڈاک ٹکٹیں لگا کر رکھتا تھا. لیکن چچا منیر تاندلیاں والا کو اتنا شوق تھا کہ وہ انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لیکر اپنے آپ کو منوا چکا تھا. وہ اپنی کلیکشن کو جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا اور اس وقت ھزاروں روپے صرف کرکے ڈاک ٹکٹیں خریدنے میں خرچ کر دیتا تھا

(جاری ہے)

تاریخ اشاعت: 2020-07-26

Your Thoughts and Comments