Dastak Darre Jawani - Qist 2

دستک درے جوانی ۔ قسط نمبر2

عارف چشتی جمعرات جولائی

Dastak Darre Jawani - Qist 2
کرکٹ سے جنونی طور پر لگائو تھا. ڈرائینگ روم میں حفیظ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، امتیاز احمد، نیل ھاروے، اونیل، رچی بینو، سوبرز، کنہائی، ویلزلے ھال اور بریڈ مین کی ڈیڑھ بائی ایک فٹ کے شیشے کے دس فریم چاروں دیواروں پر لگائے ھوئے تھے. پہلا پانچ روزہ ٹیسٹ میچ میں نے صرف آخری دو دن والد صاحب اور ان کے دوست انعام اللہ کے ھمراہ لارنس گارڈن لاھور کی گراونڈ میں پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز دیکھا تھا.

مشتاق محمد جو کہ حنیف محمد کا چھوٹا بھائی تھا، کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا. اس نے ویلزلے ھال کے صرف چار بال کھیلے تھے اور آٹھ رنز بنا کر گبز کے ھاتھوں کیچ آؤٹ ھوا تھا.

(جاری ہے)

اس وقت باقاعدہ کوئی شائقین کے بیٹھنے کا انتظام نہ تھا، تختے اینٹوں کے اوپر تلے لگا کر بیٹھایا جاتا تھا. میرے جیسے بچے چونے کی باؤنڈری کے قریب جا کر بیٹھ جاتے تھے اور کھلاڑیوں سے ھاتھ بھی ملاتے تھے، اور بک اپ بھی کرتے تھے.

میں نے ویلزلے ھال، گبز، ویلس متھائس، اعجاز بٹ اور محمود حسین صاحبان سے ھاتھ ملایا تھا. سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کا مزہ بھی الگ ھوتا ھے. کئی دنوں تک دوستوں کو مرعوب کرتا رھا اور میچ کا حال بیان کرتا رھا تھا. اس وقت ٹی وی تو ھوتا نہ تھا. ریڈیو پر عمر قریشی صاحب زبردست طریقے سے کمنٹری کیا کرتے تھے، ھوتی تو انگلش میں تھی، لیکن پورے کھیل اور ھر بال پر پورا نقشہ بیان کرتے تھے.

انداز منفرد تھا. دنیائے کرکٹ کے تمام کھلاڑیوں کی ھر سائز کی تصاویر جمع کرنے کا بہت شوق تھا. سپورٹس کا ایک ماھانہ میگزین منیر حسین صاحب جاری کرتے تھے، اس میں کئی کھلاڑیوں کی تصاویر مل جایا کرتی تھیں. اسکے علاوہ اخبارات، پتنگوں اور دوست احباب سے تبادلہ کر لیتے تھے. بعض اوقات گول باغ کی لائبریری میں رکھے اخبارات سے چوری چھپے پھاڑ لیتے تھے، خاص طور پر جن دنوں میچ ھو رھے ھوتے تھے.
ریڈیو پر ھفتہ وار ایک مشہور زمانہ پروگرام "جمہور دی آواز" شام چار پانچ بجے نشر ھوتا تھا، جس میں امام دین کا کردار بہت ھی سپر ھٹ تھا، جو دیہاتی کلچر کی عکاسی کرتا تھا، حالات حاضرہ پر بھی گفتگو ھوتی تھی.

ھلکا پھلکا مزاح بھی ھوتا تھا اور پھر فرمایش پر پنجابی گانے بھی سنائے جاتے تھے. میں عموماً اس پروگرام کو ضرور سنتا تھا.منٹو پارک جسکو اب اقبال پارک کہتے ھیں. میں سالانہ پتنگ بازی کے علاوہ ایک بہت بڑی نمائش لگتی تھی جس میں سرکسوں کے علاوہ جوا کھیلنے اور جدید ایجادات کے سٹالز بھی لگتے تھے. ایک نئی ایجاد جو دیکھنے کو ملی وہ یہ تھی کہ ایک شیشے کا کمرہ بنایا گیا تھا جسکے چاروں طرف ٹی وی نصب تھے.

کمرے کے اندر ایک ڈائریکٹر، دو کیمرا مین اور دو لائٹس مین الرٹ تھے. ایک جم غفیر لگا ھوا تھا. وقت مقررہ پر یک دم ایک مشہور اداکارہ پچھلے کمرے سے نمو دار ھوتی ھے اور ڈائریکٹر کے اشاروں سے ڈانس شروع کر دیتی ھے. اسکا ڈانس چاروں طرف لگے ھوئے ٹی ویز میں آنا شروع جاتا تھا. ھم سب دوست اور پبلک ورطہ حیرت میں کبھی شیشے کے کمرے کو کبھی ٹی ویز کو دیکھتے رھتے تھے.

یہ منظر بہت ھی قلیل ھوتا تھا، لیکن ٹی وی سے تعارف ھو چکا تھا. جس سے بھی اس حیرت انگیز ایجاد کی بات کرتے وہ مانتا ھی نہ تھا.
کالج سے دو ماہ چھٹیاں گزارنے کا پروگرام میرے اور مجاھد مرزا کے درمیان طے ھو چکا تھا. میرے چھوٹے ماموں جو کہ وزارت تعلیم میں سیکشن آفیسر تھے، انکی فیملی کراچی سے اسلام آباد منتقل ھو چکی تھی اور مجاھد مرزا کا بڑا بھائی مقصود نیشنل بنک اسلام آباد میں مینجر اکاونٹس تھا.

دونوں فیمیلز کی رھائش ایک ھی سیکٹر میں تھی. ھم دونوں ٹرین پر راولپنڈی پہنچے اسلم اور جاوید ھمیں لینے آئے ھوئے تھے. اسلام آباد اس وقت ایک ویرانی کا منظر پیش کر رھا تھا، ھر طرف قطار اندر قطار مکانات نظر آرھے تھے. تعمیراتی کام جاری و ساری تھا. خیر آب پارہ سے رھائش تک جھاڑیوں اور پتھریلے ندی نالے سے گزر کر گھر پہنچے، لیکن دل کچھ اداس تھا کہ چھٹیاں کیسے گزریں گیں.

شام ھوتے ھی سناٹا چھا جاتا تھا، اسلئے سب کام دن کی روشنی میں ھوتے تھے. دن کو خوب سیر و تفریح ھوتی تھی، پیدل ھی زیرو پوائنٹ تک چلے جاتے تھے، جو کئی کلو میٹر دور تھا لیکن تفریح تو تفریح ھوتی ھے. شام کو مجاھد مرزا کے بھائی کے گھر کے باہر نیٹ لگا کر بیڈمنٹن خوب کھیلتے تھے. کبھی کبھی کرکٹ بھی کھیل لیتے تھے، کیونکہ جگہ کھلی ھوتی تھی اور کئی گھر اب بھی خالی تھے، اور آھستہ آھستہ دیگر سرکاری ملازمین اسلام آباد منتقل ھو رھے تھے.دوسرے پانچ سالہ منصوبہ کے تحت راول ڈیم اور حب ڈیم کی تعمیر بھی شروع ھو چکی تھی، دیگر تین بڑے ڈیمز پر کام بہت زور شور سے جاری تھا.ایک دن مجاھد مرزا اور کزنز کے ساتھ سائیکلوں پر راول ڈیم کی سائٹ دیکھنے چلے گئے اور مناسب جگہ کا انتخاب کر کے خوب نہائے اور شام سے پہلے واپسی ھوئی.

مجاھد مرزا تو دس دن کے بعد واپس لاھور چلا گیا تھا، اسلئے میری سرگرمیوں میں کچھ تبدیلی آگئی تھی.
میں نے پنسل ورک سے مختلف تصاویر بنانا شروع کر دیں تھیں، کچھ وقت کالج کا ھوم ورک کرتا تھا، پھر گھر کے پچھلے حصے میں کرکٹ کھیلتے تھے. روزانہ کا سودا سلف آب پارہ مارکیٹ سے لاتے تھے. ماھانہ کا سودا سلف راجہ بازار راولپنڈی سے لاتے تھے.آب پارہ کی ندی میں ایک چشمہ تھا، اسکا پانی ایک پتھریلے پیالہ نما گھاٹی میں ذخیرہ ھوتا تھا، جس میں چھوٹی مچھلیاں کافی ھوتی تھیں.

قمیض کے دونوں پلو پکڑ کر جھولی بنا کر اس میں ڈبکتی لگاتے تھے، پھر اوپر آتے تو پانی رس جاتا تھا اور مچھلیاں جھولی میں رہ جاتی تھیں. گھر آکر پہلے مچھلیوں کی چھلائی کرتے تھے پھر مرچ مصالحہ لگا کر کھاتے تھے خوب مزہ آتا تھا.فضل الرحمن جو کہ میرا لنگوٹیا تھا، کو لاھور خط لکھ کر اپنی اسلام آباد میں گزرنے والی سرگرمیوں سے مطلع کرتا رھتا تھا.ایک دن کزنز اسلم اور جاوید سے مل کر اسلام آباد کی سامنے والی پہاڑی پر چڑھنے کا پروگرام بنا.

گھر سے کھانے پینے کی اشیاء لیں اور رخت سفر ھوئے. یہ پہلا تجربہ تھا، اتنی احتیاطی تدابیر تو آتی نہ تھیں پھر بھی ایک دوسرے کا ھاتھ پکڑ کر اوپر چڑھتے رھے. جوش جوانی میں ایسا ھی ھوتا تھا. اللہ اللہ کرکے اوپر پہنچے تو پتا چلا کہ جو پہاڑی دور سے نظر آتی ھے، وہ تو اسکے آگے کی ھے، اسلئے پہلے اس پار اتر کر دوسری پہاڑی پر دوبارہ چڑھنا ھوگا. تھوڑی دیر تک اوپر بیٹھ کر سوچتے رھے کہ اب کیا، کیا جائے.

فیصلہ ھوا کہ شام سے پہلے ھم گھر پہنچ سکتے ھیں، اسلئے دوسری پہاڑی پر چڑھنے کے لئے اترنا شروع کر دیا. ڈھلوان بہت تھی اور گرنے کے چانسز زیادہ تھے، اسلئے انتہائی احتیاط سے ھاتھ پکڑ پکڑ کر گرتے پڑتے تہہ تک پہنچ گئے تھے. اتر کر پتا چلا کہ یہ پہاڑی تو پہلی سے بھی زیادہ اونچی ھے. بس ارادہ تھا کہ اس پر بھی چڑھنا ھے. شاید زندگی میں دوبارہ ایسا موقع ملے یا نہ ملے.

اسلم جسمانی طور پر مضبوط تھا وہ آگے ھوتا تھا. اب ھم نے رسی ایک دوسرے کی کمروں میں باندھ لی تھی، تاکہ کسی سانحہ سے بچا جا سکے. دراصل خوف کا عنصر طاری نہ تھا اور ایک لگن کے تحت اوپر چڑھ رھے تھے. اب کچھ تھکن محسوس ھونا شروع ھو گئی تھی. اوپر پہنچے تو ایک اور پہاڑی سامنے نظر آئی. سمجھ نہیں آرھا تھا کہ کیا چکر ھے. ایک گھنٹہ اوپر بیٹھ کر تھکاوٹ دور کی.

دوپہر کا کھانا کھایا اور واپسی ھوئی. کئی دفعہ گرتے گرتے بچے. ایک ڈھلان سے میں سلپ بھی ھوگیا اور دائیں بازو پر دباؤ آگیا.
نیچے باغ جسکی رکھوالی کچھ دیہاتی کر رھے تھے، سے کچے آم خریدے اور تھک ھار کر گھر پہنچے. دو تین دن تک بازو پر زیتون کے تیل کی مالش کی تو افاقہ ھوا.کچھ دنوں کے بعد وھاں سے مراعات کے تحت کشادہ گھر میں منتقل ھو گئے.

دو دن تو سامان شفٹ کرنے میں لگ گئے. ماموں صاحب اور ممانی صاحبہ کی گفتگو صرف دکھاوے کی گفتگو ھوتی تھی اور کچھ متکبرانہ بھی. جسکی وجہ سے ذھن میں ایک عجیب موڑ آیا اور میں نرم طبیعت کا مالک، اب سختگیری کی طرف مائل ھوتا چلا گیا. انکے بچوں میں یہ عنصر ابھی نہیں آیا تھا.ایک دن ھم راجہ بازار راولپنڈی گئے اور فلم "یہ جہان والے" دیکھی.

پھر ایک چکر راول ڈیم کا دوبارہ لگایا اور خوب نہائے. ایک روز پھر پروگرام بنا اور راجہ بازار جا کر فرینک سناٹرا کی انگلش فلم"وان ریان ایکسپریس" دیکھی. خیر اسلام آباد کا ٹور ٹھیک ٹھاک ھی گزرا، لیکن اپنے پرائے کی پہچان بخوبی ھو گئی.کالجیٹ ھونے کے ناطے رکھ رکھائو اور سوچ میں بھی تبدیلی آ رھی تھی. اب تو آواز بھی تبدیل ھوگئی تھی اور پھر قد بھی بڑھنا شروع ھو گیا تھا.

چہرے کے اور مونچھوں کے بال بھی نمایاں ھو رھے تھے. میں قینچی سے کاٹتا تو ھر کوئی ٹوکتا تھا، کہ یہ جلدی بڑھ جائیں گے. اب تو کپڑوں پر سلوٹ بھی اچھی نہ لگتی تھی. خوب استری دبا کر سلوٹیں دور کرتا تھا.
فضل الرحمن سے ملاقات کے بعد اسلام آباد ٹور کی داستان سنائی. اسکو میری غیر موجودگی میں گھر سے باہر چوری فلمیں دیکھنے کا چسکا پڑ گیا تھا.

اکلوتا ھونے کی وجہ سے اسکے گھر والے اس کی سرگرمیوں پر توجہ نہ دیتے تھے. لیکن میرے تو اردگرد دیکھ بھال کرنے والے لگے رھتے تھے. سب سے زیادہ دادی اماں اور پھر والد صاحب. ابھی کالج کھلنے میں چند دن باقی تھے سوچا چھوٹی پھوپھی کے ھاں ایک دو گزار آئوں اور اسی بہانے چوری فلم بھی دیکھ لوں گا. ریوالی سینما میں انڈین فلم "جوانی کی ھوا" لگی ھوئی تھی.

کافی کوشش کی کہ ٹکٹ مل جائے لیکن ناکامی ھوئی اور حسرت لئے پھوپھی کے ھاں دو دن گزار کر آگیا.کالج کھلنے سے پہلے والد صاحب نے اومنی بس کا ماھانہ سٹودنٹ کارڈ ڈھائی روپے میں بنوا دیا اور میں ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل پر خوش تھا، لیکن کوشش یہی تھی کہ سائیکل پر کالج جایا کروں. بس میں تو بندش تھی، کہ ناک کی سیدھ میں جائو اور ایسے ھی واپسی ھو.

سائیکل پر آدمی کسی بھی روٹ سے جاسکتا تھا اور کہیں بھی رک سکتا تھا. سب سے بڑھ کر مسافروں کی دھکم پیل اور کپڑوں پر پڑی سلوٹوں سے نجات اور پھر عمر میں بڑے مسافر سیٹ سے اٹھا کر خود بیٹھ جاتے تھے.
کالج کھل گئے اور پڑھائی شروع ھو گئی. پڑھانے میں سب سے اچھا انداز صوفی نثار صاحب کا ھوتا تھا اور طلبہ شور بھی نہیں کرتے تھے. تحسین صاحب سٹیٹسٹکس پڑھاتے تھے وہ کم عمر تھے طوطے کی طرح رٹہ لگا کر آتے تھے.

مین، میڈیم، موڈ، سٹینڈرد ڈیویایشن اور لوگریتھم کے سوالات سمجھاتے تھے. سب سے زیادہ شرارتیں انکے پیریڈ میں ھمارا گروپ کرتا تھا، جو سب سے پچھلی سیٹوں پر بیٹھتا تھا. لیکن سب لائق تھے اسلئے وہ زیادہ سختی نہ کرتے تھے. اردو چٹھہ صاحب پڑھاتے تھے. وہ باڈی بلڈر تھے کسی کی کیا مجال انکے پیرئڈ میں کوئی آواز بھی نکال سکتا ھو. وہ چھڑی ھاتھ میں رکھتے تھے اور مارتے بھی تھے. ھم مزے لیتے تھے. منظور صاحب انگلش پڑھاتے تھے وہ ترقی پسند ذھن کے مالک تھے، انگلش کم پڑھاتے تھے انکا لیکچر ھمیشہ مولویوں کی برائی پر ختم ھوتا تھا.
تاریخ اشاعت: 2020-07-30

Your Thoughts and Comments