Fiker E Iqbal Or Hamara Ehed

فکر اقبال اور ہمارا عہد

سجاول باجوہ پیر نومبر

Fiker E Iqbal Or Hamara Ehed
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقین تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جن کو دنیا شاعر مشرق کے نام سے جانتی ہے ،ہمارے قومی شاعر ہیں۔آپ بہت بڑے عاشق رسولﷺ بھی تھے۔آپ صوفی اور دیندار گھرانے میں ۹ نومبر ۱۸۷۷ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیخ نور محمد اور والدہ امام بی بی دونوں ترنم مزاج شخصیات تھیں، جن کی بدولت آپ کی تربیت بہترین ہوئی۔

آپ نے ابتدا ء میں تو عام بچوں کی طرح ہی عربی کی تعلیم سیالکوٹ میں مدرسہ سے حاصل کی ۔ پانچ سال کی عمر میں آپ نے مشن ہائی سکول سیالکوٹ میں داخلہ لے لیا۔یہاں آپ نے پرائمری اور میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی۔اس کے بعد آپ نے مرے کالج سیالکوٹ میں داخلہ لیا جہاں سے آپ نے ایف ۔

(جاری ہے)

اے کیا۔آپ کو یہاں پر نہایت شفیق،ہر دل عزیزاور لائق استاد مولوی میر حسن ملے ۔

جنہوں نے آپ کی شخصیت کو نکھارا اور استاد محترم کی صحبت میں رہ کر ہی اقبال میں عربی ،فارسی اور اسلامیات کا ذوق پیداہوا۔ایک وقت آیا جب حکومت کی طرف سے مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب ملا۔اس کی بناء پر اقبال سے سوال ہوا کہ کیا میر حسن صاحب نے اب تک کوئی کتاب لکھی ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا: میں خود ان کی ایک زندہ کتاب ہوں۔ اب گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے مولوی میر حسن کے نام پر ایک بڑا حال تعمیر کروایا گیا ہے۔

جو کہ ان کی ایک زندہ مثال ہے۔ایف۔ اے کرنے کے بعد آپ لاہور تشریف لے گئے۔گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے اور ایم۔ اے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی ۔یہاں پر آپ کو پروفیسر آرنلڈ جیسے لائق استا د سے استفادہ کرنے کو ملا۔پروفیسر آرنلڈ کا کہنا تھا کہ: اقبال جیسا شاگرد استا د کو محقق سے محقق تر بنا دیتاہے۔مروجہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کچھ عرصہ اورینٹل کالج لاہوراور گورنمنٹ کالج لاہوررمیں پروفیسر رہے پھر کچھ وقت بعد پرنسپل کے ساتھ نوک جوک کی وجہ سے آپ کو کالج چھوڑنا پڑا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہتری تھی کہ کالج چھوڑا اور آپ کا زیادہ رجحان شاعری کی طرف ہوگیا۔پہلے بھی تھا پر کالج کی ملازمت چھوڑنے کے بعد زیادہ پختہ ہوگیا۔ کثیر مطالعہ کے بعد آپ کے دل میں علمی،ادبی تحقیق کا بہت زیادہ جذبہ پیدا ہو چکا تھا۔ آپ ہمارے قوقی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے نثر نگار بھی تھے ۔ آپ کا نثری سلسہ ۱۹۰۳ء سے شروع ہوتا ہے۔

آپ نے معاشیا ت کے حوالے سے علم الاقتصاد کتا ب لکھی جوکہ بہت مشہور ہوئی۔۱۹۰۵ میں آپیورپ چلے گئے جہاں پر آپ نے ۳ سال قیام کیا اور اسی دوران آپ نے انگلستان سے بیرسٹری اور جرمنی سے پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے بغور مشاہدہ کیا اور یورپ کے ماحول کو قریب سے جانچا جس سے آپ ان کے تمام تر رسم ورواج،ثقافت، سماجی روایہ جات، انفرادیت اور بد خیالی کو اپنے علم کی کسوٹی پہ رکھ کر پرکھا، جس سے کچھ نتائج اخذ کیے۔

آپ کے بقول ؛ مغربی تہذیب کی بنیاد غلط اصولوں پر رکھی گئی ہے یہ انسانیت کے لئے تباہ کن ہے اور انسانیت کی نجات اسلام ہی میں مضمر ہے۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
اس شعر سے اسلام،مذہب، دین اور پکے سچے مسلمان ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کی شاعری ہی ایک ایسا جذبہ تھا جس سے برصغیر کے مسلمان پورے طریقے سے مطمئن تھے۔

مرزااسد اللہ خاں غالب کے بعد آپ ہی تھے، بہت زیادہ مشہور اور معروف شاعرجو کہ برصغیرکی سر زمین پر پائے گئے۔
۱۹۰۸ میں وطن واپسی ہوئی لاہور میں قیام کیا۔کچھ عرصہ وکالت کی پر مستقل طور پر پیشہ نہ بنایا۔آپ کی شاعری میں بہت زیادہ پختگی آچکی تھی ،انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں آپکی نظمیں بہت شوق سے سنی جاتی تھیں۔رفتہ رفتہ اسلام کی سچی تعلیمات آپ کی شاعری میں ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔

۱۹۳۰ میںآ ل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے ،آپ نے ایک آزاد مملکت کا نظریہ پیش کیا ۔ جس کی وجہ سے آپ کو مفکرِ پاکستان کہاجاتاہے۔آپ کی قائداعظم محمد علی جناح سے بہت گہری دوستی تھی ،آپ نے قیام پاکستان کے حوالے سے قائد کو بہت مفید مشورے بھی دیے۔ جس پرقائد متفق بھی ہوئے ۔ ایک موقعہ پر قائداعظم  نے فرمایا ؛ اگر ہم الگ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اگر مجھے ایک طرف اس ملک کی صدارت دی جائے اورایک طرف علامہ اقبال کی تصانیف دی جائیں تو میں اقبال کی تصانیف کو منتخب کروں گا۔


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بند ے سے خود پو چھے بتا تیر ی رضا کیا ہے
آپ کی شاعری نے مسلمانوں میں ایک نئی روح پیدا کی۔برصغیر کے مسلمانوں میں جذبہ،جوش، ولولہ ،محبت،چاشنی ،حریت اور ہم آہنگی پیداکی۔ خودی کا تصور دیا جو کہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جسے بہت سے لوگ آپنا کر ایک بڑے مقام پر فائزہوئے۔

آپ کے کلام اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں ہیں۔ آپ کے اردو مجموعے بانگ درا، بال جبریل اور ضربِ کلیم ہیں۔ ارمغان حجاز کا کچھ حصہ اردوومیں ہے اور کچھ فارسی میں ہے۔پیام مشرق،زبور عجم،جاوید نامہ ،اسرارخودی اور رموزبیخودی وغیرہ فارسی میں ہے۔پروفیسر نکلسن نے اسرار خودی کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ دوسری کتابوں کے تراجم بھی بیرونی زبانوں میں ہو چکے ہیں ۔


یہ ہند کے فرقہ ساز اقبال آزری کر رہے ہیں گویا
بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبار راہ حجاز ہو جا
اقبال روحانیت والے انسان تھے، صوفیانا کلام کے ماہر تھے۔ عقل کو بہت بڑے علمی درجے پر لے گئے تھے، جہاں پر انہوں نے حالات کے تناظر میں مختلف نظریات کو ذہنی تجزیے کی کسوٹی پہ رکھ اورپرکھ کر علمی تقاضوں کو بیان کیا۔آج کے مسلمان کا نظریہ مختلف ہو چکا ہے لوگ لبرل ازم ، سوشل ازم کی طرف آچکے ہیں ۔

لوگوں کا زیادہ تر رجحان رسم ورواج ، ثقافت، لوگ کیا کہیں گے ، اس طرح کی باتو ں سے ذہن بھر چکے ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے مذہب سے زیادہ معاشرے کو ترجیح دیتے ہیں کہ اگر فلاں رسم چھوڑ دی تو معاشرے میں کیا عزت رہ جائے گی، لوگ کیا کہیں گے۔ اسی تنگ نظری ، تنگ ذہنی کے باعث ہم ترقی کے مراحل سے بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔

کیونکہ اگر ہم علامہ اقبال کے اصولوں کواپنائیں جو کہ خودی کا جذبہ اجاگر کرتے ہیں،تو ہم کسی صیحح سمت پر پہنچ جائیں۔
علامہ محمد اقبالنے قرآن وسنت سے آگہی لی ۔ا نہوں نے قرآن مجید فرقانِ حمید کو سامنے رکھتے ہوئے معلومات کے ذخائر اور اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے پیغامات کا بغور مشاہدہ کیا۔ تاکہ وہ اس سے لوگوں کو اور نوجوان نسل کو اصل حالات سے متعارف کروا سکیں۔

اک نئی روح قائم کر سکیں،انہوں نے کر کے بھی دیکھایا۔امتِ مسلمہ اس حقیت سے آج بھی آشنا ہے جس کی طرف اقبال نے اشارہ کروایا تھا۔ کیونکہ ہمیں یہ چاہیے کہ ہم آج کل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقبال کے کہے ہوئے نتائج پر عمل پیراہوں اور مثبت راہ کی طرف چلیں۔وہ روحانیت جو دنیااور کائنات میں ہر سو محبت پیدا کر سکتی ہے ،اقبال اسے عشق کہتے ہیں۔

وہ عشق جو حقیقی معانوں میں عصرِ حاضر کے حالات کومدنظر رکھ کر اسباب کو زیرِ بحث لاکر ان کو اپنے نظریات کی کسوٹی پر کَس کر مثبت حل نکالنا اور یہ عہد کرنا کے ہم ایک قوم،ایک مذہب ، ایک ملک،فرقہ واریت سے ہٹ کر ، ہندوانہ رسوم سے قطہ تعلقی کرکے، مغربی ثقافت جوکہ ہم آپنا چکے اس سے چھٹکارا حاصل کرکے،جوبدگمامنی ہمارے روایہ جات میں آچکی ہے اس سے منہ پھیر کر،اپنے عزم ،ولولے، جوش ، ہمت ،مصمم ارادے اور صمم قلب سے یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ان تمام تر عناصر کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہتے ہیں۔

کیونکہ اس وقت ہماری قوم جس نہج پر جا رہی ہے اس پر چلتے چلتے ہم مجموعی طور پر با قی اقوام سے بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔جو کہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے !ہمیں سوچنا چاہیے کہ باقی اقوام ہم سے ترقی یافتہ،علوم یافتہ کیوں اور کیسے ہو چکی ہیں؟مسلمان کی تاریخ یہ ہے کہ یہ ایک سپہ سالار پوری جنگ کو شکست دینے کے قابل ہوتا تھا۔پر آج ہم روایات ،رسوم، فرقہ واریت ،حسد، کینہ ،بغض، نقطہ چینی اور ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرنے میں ہی رہ گئے۔

جس کی وجہ سے دوسری اقوام سبقت لے گئیں۔بقول اقبال:
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
حضر ت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی تعلیما ت قرآن و سنت، مذہب ، دین، سماج، سیاست، ثقافت، تمدن، تصوف، ارتقاء، معاشرت،روحانیت ،تخلیقی اور انقلابی قوتوں پر مبنی ہیں۔جن کا ہمیں بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال
وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگا ر سے
اس شعر میں اقبال کیا خوب فرماتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ تعالیٰ سے ہی ہر مراد ، دلی خواہشات اور لو لگانی چاہیے ، کیونکہ وہی کر ساز ہے ،ہر شے کا جس کی خدائی ہے ہر شے میں اور وہی تو ہے جو ہر کام ہر بگڑی بنانے والاہے۔

ہمیں اپنی نیک خواہشات کی تکمیل کے لئے ،اپنی تمام تر حاجات کے لئے،اپنے وسائل کے لئے،اپنے رزق ترقی کے لئے، اپنے والدین دوست احباب رشتہ دار وں سے نیک سلوکی کے لئے، اپنے دین کے لئے،اپنے ملک پاکستان کیلئے اور روشن مستقبل کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے امید اور دعاکرنی چاہیے ،تاکہ ہم کامیاب ہوں۔اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ہمیں فرقہ واریت کو چھوڑکر ایک سچا پکامسلمان بننا چاہیے۔

اقبال ایک شعر میں کہتے ہیں،
یوں تو سید بھی ہو ، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتا ؤ تم مسلمان بھی ہو؟
تمام ادیان عالیہ مشرق میں ہی پروان چڑھے اس لئے اقبال مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اہل مشر ق کو روحانیت کا وارث گردانتے ہیں۔کیونکہ اقبال کہتے ہیں کہ اگر عشق عقل کو اپنے تصور میں لے لے اور عقل عشق کو حقیقی معانوں میں نہ سمجھے اسے اپنے تخیل میں نہ معاون اورمددگار سمجھے تو پھر بھی یہ اصطلاح( عشق) پوری نہیں ہوتی تو اس لئے ان دو نوں اصطلاحات کا بغور منسلک ہونا بھی لازم و ملزوم ہے۔

اس کے علاوہ علامہ مرد اور عورت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: عورت تو صنف نازک ہے اور اس کی عزت آبرو کا خیال تو مرد ہی بہتر طریقے سے رکھ سکتا ہے۔کیونکہ آپ نے مغرب کی ثقافت کو بہت قریب سے دیکھا اورمشاہدہ کیا تھا۔تو اس لیے وہ عورت کی عزت کو پامال کرنے والے عناصر کو باخوبی سمجھتے اور جانتے تھے۔اقبال کہتے ہیں کہ عورت کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو کہ ایک مرد کو ہیں ،لیکن دونوں کا دائرہ کار مختلف ہے وہ اپنی اپنی استعداد کو برؤے کار لا کرایک دوسرے کے تعاون سے تمدن کی خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔

حالانکہ اسلام نے بھی عورت کو بہت اچھے اور واضع حقوق دیے ہیں۔پر آجکل حوا کی بیٹیاں جنہوں نے مغربی ثقا فت اپنا لی اور ہندوانہ رسوم پر عمل پیرا ہوئیں،وہ معاشرے میں اپنا اچھا کرداد ادانہ کر سکیں۔یہ سب لڑکیوں کے لئے نہیں لیکن چند جنہوں نے ان افعال کو اپنا معمول بنا لیایہ وہ خواتین ہیں۔با قی ابھی تک ہمارے معاشرے میں باپردہ،باعزت،با ادب اور با احترام خواتیں بھی موجود ہیں جو کہ باہر کے ممالک کے لیے ملک پاکستان کی ایک اچھی تصویر ثابت کرتی ہیں۔

ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ کبھی کوئی ملک تب تک ترقی کے مراحل طے نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی زبان،اپنے رسم ورواج ،اپنے اخلاق کو پوری طرح سے خود پر غالب نہ کرلے۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے
آپ نے حضرت محمد مصطفیﷺ کی تعلیمات کوسمجھا،عمل کیا اپنایا بھی اور آپﷺ سے بہت زیادہ انس تھا۔

آپ بہترین عاشقِ رسولﷺ تھے۔آپاسرار و رموز میں اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی عقیدت میں میرے دل میں بہت سی نظمیں موجود ہیں ،عشق رسولﷺ اس حد تک ہے کہ اگر وہ بیان کیا جائے تو اس سے خشک اور بے جان لکڑی کو بھی احساس ہونا شروع ہوجائے جس حد تک میرے دل میں تلاطم خیز موجوں والا محبت کاٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود ہے۔علامہ صاحب مزیدفرماتے ہیں ، کہ میری کشتی،میرا دریا اور میرا طوفان سب کچھ آپﷺ کی ذات ہے ۔

آپنے اپنے دور کے دوران غازی علم دین جیسے عاشق رسولﷺ کا جنازہ بھی پڑھا اور فرمایا: کہ ہم بھی عاشق رسولﷺ ہیں لیکن سبقت کسی کسی کو حاصل ہوتی ہے اور یہ سبقت غازی علم دین شہید کوملی ہے۔کیونکہ اس پوری دنیا کے اندر کبھی اگر کوئی انسان کامیاب ہواہے یا اسے صحیح معنوں میں کامیابی ملی ہے، تو اس نے رونقِ کائنات حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کی پیروی کی ہے، تو وہ اس مقام پر پہنچا ہے۔

حالانکہ اس دنیا میں بہت سے مفکر،مجدد،مصنف آئے لیکن ایک عارضی کامیابی توکسی کو بھی مل سکتی ہے ، لیکن جس نے حضورپاک ﷺکی تعلیمات کو اپنا لیا ، حقیقی اورسچے معانوں میں دل سے تسلیم کیا، پھر اس کی پو ری زندگی پیروی کی تو وہ زندگی میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوا اوررہتی دنیا تک بھی کامیاب رہے گا۔
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیر ے ہیں
اسی طرح ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام اور برگزیدہ بندے بن کر حضوراکرمﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چا ہیے۔

کیونکہ حضوراکرمﷺکل کائنات کے لئے رحمت لاالعلمین بنا کر بھیجے گئے۔آپﷺ پوری دنیا کے لئے معلم بنا کر بھیجے گئے۔ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ قرآن و سنت کی پیروی کریں تا کہ ہم بھی معاشرے میں ایک مسلمان ہونے کا ثبوت دیں سکیں۔ویسے بھی آج کے دور میں مسلمان قرآن سے بہت دور ہو چکے ہیں،کیونکہ قرآن مجید فرقان حمید گھر میں رکھا ہوا ہے اس پر گر د جمی ہوتی ہے ، کیاہم نے صرف قرآن مجید انگٹھی میں سجانے کے لیا خریدا تھا۔

با قی جو مسلمان تلاوت کرتے ہیں ،وہ صرف ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں ۔حالانکہ ہمیں تلاوت بھی روزانہ کر نی چاہیے اور قرآن مجید کا ترجمہ بھی پڑھنا چاہیے،اور صحیح معانوں میں اسے سمجھنا چاہیے۔چونکہ بہت سی اقوام جس نے قرآن مجید کی ایک ایک آیت کے ترجمے سے بہت مفہوم واضع کیے اور اپنے ملک میں ترقی علمی اور عملی حوالے سے ترقی بھی کی۔یہ ایسی واحد الہامی کتاب ہے جس کے ترجمے میں یا کسی ایک لفظ میں بھی ردوبدل ممکن نہیں،کیونکہ اس کا ذمہ خودذاتِ واحد تمام جہانوں کو پالنے والاہر لحاظ سے اعلیٰ، عرفہ، بہترین، متکبراور بے نیاز اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔

اسی لئے دوستو ! ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کہ رسولﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلیں تا کہ زندگی میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
علامہ اقبال نے تعلیم کے حوالے سے فرمایاکہ؛ مسلمانوں کو چاہیے کہ مشرقی تعلیم پر زیادہ زور دیں اس کو سیکھیں کیونکہ جب ایک نوجوان حصولِ تعلیم کے لئے مغرب کا رخ کرتا ہے، تو وہ وہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے نکل جاتا ہے ۔

جہا ں سے وہ مغرب کے مثبت عادات اور ثقافت کی بجائے منفی عادات سیکھ لیتاہے ، ان کو اپنا لیتا ہے۔جس سے جب وہ کچھ سالوں میں اپنے وطن واپس پہنچتا ہے، تو اس کے دل سے اپنے وطن کا جذبہ حریت ،خود اعتمادی ،ولو لہ انگیزی ختم ہو چکی ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے، صحیح طریقے سے معاشرے میں آگے نہیں بڑھ پاتا،یہ مغربی تعلیم کا بہت بڑا نقصان ہے۔

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چار سو سالوں کے دوران یورپ میں وقوع پذیر ہوئی جب سولہویں صدی عیسوی میں ، جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا۔یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے ،یورپ جو اس سے قبل جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا وہ ان علماء کے جانے سے ان کے اثر سے مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت کو لے کر جاگ اٹھا ۔

پھر ترقیوں کی راہ پر گامزن ہو گیاجس سے اس نے نت نئی ایجادات کیں۔اس طرح مسلمانوں کا بہت سا علمی خزانہ لوٹا گیا۔مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا گیا۔علامہ اقبال کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ جو ان کی وفات کے بعد سامنے آیا، کیونکہ کہا جاتا ہے اقبال نے اس بارے میں کہا تھا کہ میری وفات کے بعد بتایا جائے جس کی وجہ سے ان کے خادم نے بعد میں بہت اسرار کرنے پر بتایا:
علامہ نے ایک خادم رکھا ہوا تھا جس کا نام میاں علی بخش تھا،وہ کہتے ہیں کہ اقبال کی زندگی میں ایک ناقابلِ فراموش ایسا واقعہ پیش آیا جسے میں کبھی نہیں بھول سکا۔

مجاہد ملت حضرت علامہ مولانا محمد عبدالستار نیازی اس واقعہ کے اصل راوی ہیں۔کہ یہ مجاہد اسلام ایک دفعہ گوجرانوالہ علی بخش کے پاس آئے ، علی بخش کوکچھ اقبال کے واقعات سنا ئے اور اسرار کیا ،کہ اب آپ بھی کچھ اقبال کا واقعہ سنائیں ۔ تو بہت اسرار کرنے کے بعد اقبالکے خادم علی بخش نے واقعہ سنایاک: ایک رات ایسی آئی جب اقبال اپنے بستر پر آرام فرما رہے تھے، کبھی دائیں کروٹ بدلتے تو کبھی بائیں تو جب رات کا نصف حصہ گزر گیا ۔

تو اچانک سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک بزرگ گھر میں داخل ہوئے جو کہ سفید پوش ،نورانی چہرے والے تھے۔تو اقبال نے ان کو اپنے بستر پر بٹھا لیا اور خود نیچے بیٹھ گئے ،پاؤں دبانے لگے۔مجھے حکم دیاعلی بخش باہرجاؤاورلسی لے کر آؤ میں سوچنے لگا کے حضور اس وقت لسی کا کہہ رہے ہیں۔اس وقت تو تما م بازار اور دوکانیں بند ہونگی،لیکن میں پھر بھی باہر نکل گیا، جب گھر سے باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کے سامنے ایک دوکان ہے اور وہاں پر سفید پوش نورانی حسن والا بزرگ موجود ہے ۔

جو کہ لسی بنا رہا ہے، میں بے اضطراب آگے ہوا اور جا کہ لسی کا کہہ انہوں نے مجھے ساتھ ہی لسی دے دی ۔جب میں نے پیسے کا پوچھا تو جواب ملا کہ لے جاؤ ہمارا اقبال سے حساب چلتا رہتا ہے، تب مجھے تعجب ہوا کے آج سے پہلے میں نے یہا ں کوئی دوکان نہیں دیکھی اور نا کبھی یہاں پر دوکان تھی۔پھر میں واپس گھر پہنچا ،لسی پیش کی آپ نے بزرگ کو ایک گلاس لسی کا دیا وہ پی گئے پھر دوسرا دیا وہ بھی پی جب تیسرا دینے لگے تو بزرگ نے کہا یہ تم خود پی۔

تو علامہ خود پی گئے۔جب اقبال ان سفید ریش روحانی بزرگ کو دروازے تک چھوڑنے گئے تو میں بھی ان کے پیچھے بے اضطراب بھاگا۔جب وہ بزرگ باہر نکلے تو تھوڑا آگے چلے اور غائب ہو گئے،تب میں نے دیکھا نہ ہی گلی کے کونے پر وہ لسی والے بزرگ موجود تھے ۔ وہ بھی غائب ہو چکے تھے۔میرے ذہن میں تب مختلف سوالات پیدا ہو رہے تھے کہ یہ بزرگ کون تھے؟ وہ لسی دینے والے سفید پوش کون تھے؟ ان کے جانے کے بعد میں نے علامہ سے عرض کی یہ کون لوگ تھے،تو علامہ نے مجھے بتایا کہ جو میرے گھر آئے تھے وہ خواجہ معین الدین چشتی تھے،جس بزرگ سے تم لسی لے کر آئے وہ داتا گنج بخش علی ہجویری تھے۔

اس سے یہ با ت ظاہر ہوتی ہے کہ اقبالکس قدر روحانیت والے انسان تھے۔
ہمارا یہ عہد ہونا چاہیے کہ ہم بھی اچھے طریقے سے، خشوع وخضوع سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں،اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل پیرا ہوں،تا کہ ہماری ابدی اور ازلی زندگی دونوں ہی بہترین ہوسکیں۔ اس کے علاوہ نوجوان کے لیے اقبا ل نے اپنی شاعری میں بہت جذبہ اجاگر کرنے والی باتیں کیں ہیں۔

اگر ان کی شاعری کو اس طریقے سے گہرائی میں جا کر سمجھا جائے ۔بقول اقبال:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
بخاری شریف کی پہلی حدیث ہے ،کی اعمال کا درومدار نیتوں پر ہے ۔اک عمل ہی ہے جسے ہم آپنا کر اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں، جس سے ہمارا حال بھی بہتر ہوجائے گا۔

آپ تفکر میں بھی نظر آتے ہیں۔ اقبال نے جو وقت یورپ میں گزارا تھا تب تک وہاں سوشلسٹ اور کیمونسٹ کے گروہ جابجا مصروف کار رہے لیکن ا ن کو کہیں اقتدار حاصل نہ تھا۔اشتراکیوں کو پہلی زبردست کامیابی روس میں ہوئی۔پہلی جنگِ عظیم میں روس کا اندرونی معاشی اور سیاسی شیرازہ بکھر گیا تو کیمونسٹوں کے ایک گروہ نے لینن کی قیادت میں حکومت پر قبضہ کرکے اپنے پروگرام پر عمل درآمد شروع کیا۔

اقبال نے تمام مسائل کواپنا موضوع سخن بنایا تھا۔اقبال اکثر مسلہ زمان کو اپنی شاعری میں اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ ان کہ ہاں عبد اور حرکی تمیز کا معیار رہی یہی ہیں،کہ کوئی روح ایام کی زنجیر سے پابجولاں ہے یا مکانی وقت سے آزاد ہو کر اور حقیقی زمان میں غوطہ لگا کر، تسخیر مسلسل اور خلاقی کا شغل رکھتی ہے۔اس کے علاوہ علامہ محمد اقبال جب سیاست میں آتے ہیں تو وہاں بھی خود کو ہر طریقے سے پیش کرتے ہیں،یعنی کے اپنے نظریا ت اور فکریہ انداز کے جوہر دیکھاتے ہیں۔

ہمیں بحثتِ قوم مجموعی طور پر اقبال کے تمام تر کام افعال کو آگے لے کر چلنا چاہیے،ان کی تعلیمات کو قوم تک پہنچانا چاہیے اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ کسی بھی حوالے سے کوئی ایسی بات جو جھوٹ پر مبنی ہو یا جو تحقیق کے بغیر ہو وہ نہیں پھیلانی چاہیے۔آج سے ہم عہد کریں کہ تمام تر باتوں کو ،اغراض ومقاصد کو اپنے ذہن میں رکھیں اور آگے بھی لوگوں تک آگاہی دیں۔

نوجوانوں کے نام اقبالکے عمیق اشعار۔
ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالین ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں
ان اشعار میں اقبال نے بہت ہی زبردست پیغام دیا ہے ،جو کہ سب کے لئے بہترین ہے،ان اشعار میں بہت گہرائی موجود ہے۔

پھر مزید اس کہ بعد علامہ اقبال لکھتے ہیں۔
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے، بسیرا کر چٹانوں میں
ہمیں انسانیت کی خاطر اس معاشرے میں رہنے والے ہر فر د کی ہر حد تک مدد کرنی چاہیے۔ یہ ہمارا اولین مقصد بھی ہونا چاہیے۔کیونکہ اگر ہم معاشرے میں رہنے والے بوڑھے افراد کی مدد کریں گے ، اس کے علاوہ بھی جو مدد کے طلبگار ہیں ان کی بھی مدد کریں گے۔تو کامیاب بھی ہوں گے۔ اسی حوالے سے اقبال اپنے ایک شعر میں اس طرف متوجہ کرواتے ہیں:
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کا م دوسروں کے
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام تر باتوں اور تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-04

Your Thoughts and Comments