Hamara Kiya Bane Ga

ہمارا کیا بنے گا!!

مقدس حبیبہ جمعہ اپریل

Hamara Kiya Bane Ga
ثناء اپنے ابو کی بیٹی ہی نہیں بلکہ باربی ڈول تھی۔آج اس کی پانچویں سالگرہ تھی۔ہر سال اس کی پسندیدہ تحفہ اس کی امی اسے دلاتی تھیں۔لفظ "ابو" اس نے کتابوں اور اپنے دوستوں سے ہی سنا تھا۔اب کی باراس نے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا البتہ ابا کو دیکھنے کی خواہش دل میں جنم لینے لگی۔دن رات وہ اپنے ابو کے گن گاتی۔ایک سوال ہمیشہ وہ اپنی اماں سے کرتی ۔

امی ! میرے ابو دیکھنے میں کیسے ہیں؟ ثناء کے اس معصوم سے سوال پروہ مسکرا دیتیں۔گھرپرسالگرہ کی اور ابا کے آنے کی تیاریاں عروج پرتھیں۔دروازے پردستک ہوئی۔بےقراری بڑھتی جارہی تھی ایک ہی وقت میں وہ دو سے زا‎‎ئد زنیے پھلانگتی ہوئی نچیے دروازہ کھولنے گئ ۔اس نے پہلی بار اپنے ابو کو دیکھا تھا،انہیں دیکھتے ہو‎ۓ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ انہیں صدیوں سے جانتی ہو۔

(جاری ہے)

خوشی سے چھلانگیں مارتے ہوۓ وہ ان کے ساتھ ایسے چپکی جیسے دیوار پرچپکلی۔انہوں نے اس کے ماتھے پربوسہ دیا ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کسی محل کی شہزادی ہو۔تجہد کی نماز کے لیے وہ اسے اکثراٹھاتے ، سنگھار میز کے سامنے کھڑے ہوکر اسے کے بالوں کی پونی بناتے۔ ہوا سے اس کے بالوں کی پونی ٹیل جھول رہی ہوتی ابا کے مشقت بھرے ہاتھ پکڑے وہ سکول کے لیے روانہ ہوتی،وہ اسے زندگی کا فلسفہ سمجھاتے جو اس کے اوپر سے گزرجاتا۔

لیکن وقت دھیرے دھیرے انسان کوسب سمجھا دتیا ہے، زندگی کی تلخ حقیقت سے روشناس کروا دیتا ہے۔بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے حمید صاحب نے اپنی زندگی کا اکثروبیشترحصہ بیرونی ممالک میں گزرا۔تین ،چار سالوں بعد ایک ماہ کی چھٹیاں ملتیں۔ایک ماہ کیسے گزرا پتا بھی نہیں چلا۔اداسی ثناء کے چہرے سے جھلک رہی ہوتی۔چھت پرکھڑے ہوکر وہ آتے جاتے ہرہوائی جہاز کو دیکھتے ہی ہاتھ ہوا میں لہرا کراونچی آواز میں "باۓ باۓ ابو"کہتی جیسے وہ اسے سن رہے ہوں۔

سکول سے کالج اور اب یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کررہی تھی۔کانوں میں ہینڈ فری لگاۓ وہ بڑی بےنیا‌زی سے ریسرچ ورک کرنے میں مصروف تھی۔اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔غیرمتوقع طور پراس نے فون کان سے لگایا۔فون پر موجود دوسری طرف کو‎ئی رو رہا تھا۔ثناء نے فون کان سے ہٹایا،ایک لمحے کےلیے فون کی اسکرین کودیکھا۔بہت پرسکون انداز میں اس نے پوچھا امی سب خیریت ہے؟ثناء تمہارے ابو کی طبعیت خراب ہے ،وہ ہسپتال میں ‌زیرعلاج ہیں۔

یہ سنتے ہی ساتوں آسمان یکا یک اس پرگرۓ۔وہ بھاگتے ہوۓ گرتے پڑتے خود کو سنبھالتے ہوۓ ہسپتال پہنچی۔دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ابا کب واپس آۓ،کب ،کیسے یہ سب پوچھنے کے لیے اس کے پاس نہ ہمت تھی نہ الفاظ ۔کرونا وا‎‎ئرس کے باعث ہسپتال مریضوں سے بڑھا ہوا تھا۔عوام کی بےاحتیاطی کی وجہ سے ہسپتال مچھلی منڈی کی مانند لگ رہا تھا۔۔ثناء نے مغرب کی نماز کے لیے وضو کیا۔

دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔اسے لوگوں کی ظاہری ہمدردی لینا پسند نہیں تھا۔سجدے میں سرجھکاۓ اپنے رب کوحال دل سنتے ہوۓ وہ کسی ننھنے بچے کی طرح رو رہی تھی۔آنسو تھے۔۔۔۔۔بےبسی تھی۔۔۔۔۔۔امید تھی۔کچھ دیر بعد ڈاکڑماسک اتارتے ہوۓ اس کی جانب بڑھے۔آپ ان سے مل سکتی ہیں لیکن ان کی بہت کیرکرنا ہوگئ ۔آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوۓ بوجھل دل کے ساتھ وہ کمرے میں داخل ہو‎ئی۔

وہ آنکھیں جس نے ثناء کے لیے سنہری خواب اور اونچی پرواز کی چاہت کی تھی وہ آنکھیں بند تھیں،وہ ہاتھ جس سے پکڑ کر اس نے پہلی بار چلنا شروع کیا تھا ،وہ مشقت بڑھے ہاتھ عاجز ہوچکے تھے،بالوں میں چاندی آچکی تھی۔تمام عمر حمید صاحب نے اپنی اولاد کی خاطر باہر گزرائی تھی لیکن محرمیوں کا احساس کبھی نہیں ہونے دیا تھا۔ثناء خود کو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔

آنسو کی ایک ننھی بوند اس کے ابا کے ہاتھ پرگری،انہوں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ہرچیز دھند میں لپیٹی ہوئی تھی۔ثناء مت رو میں ٹھیک ہوں۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔جس طرح کبھی انہوں نے بچپن میں اس کا خیال رکھا تھا،اب وہ ان کا ویسے خیال رکھتی تھی۔کمرے میں مکمل خاموشی تھی،ایک صاحب چہرے پر سنجیدگی لیے افسوس بھری نگاہیں اخبارپر ڈالتے ہوۓ گہری باتیں کرنے لگے یہ دور تاریخ کے بدترین دور میں سے ایک ہے ،انسانوں کو انسانوں سے ہی خطرہ لاحق ہوچکا ہے چاہے وہ کسی بیماری کی صورت میں ہو یا راز داری کی صورت میں ہو۔ہم زوال کا شکار ہیں ناجانے ہمارا کیا بنے گا۔
تاریخ اشاعت: 2021-04-02

Your Thoughts and Comments