Hum Or Hamara Adab

ہم اور ہمارا ادب

کاشف شہزاد جمعرات نومبر

Hum Or Hamara Adab
حامدالمجید
ادب کی فصاحت و بلاغت یا اس کی وسعت کی بات کی جائے تو ادب اس وسیع و عریض سرسبز و شاداب گلستان کی طرح ہے جس میں قسم و قسم کے گل کھلے ہوئے ہیں۔۔
ادب کی گہرائی کی بات کی جائے تو یہ اس سمندر کی طرح ہے جس کی کوکھ میں کئی بیش بہا قیمتی ہیرے اور جواہرات ہیں۔۔
ادب کی بلندی کی بات کی جائے تو یہ ذروں سے اٹھا کہ ثریا کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔

۔
ادب کا لفظ سنتے ہی زہن میں کئی خیالات پیدا ہوتے ہیں۔۔
ایک بات جو ذہن کے پردے پہ نقش نگاری کرنے لگتی ہے وہ یہ کہ ہماری تہذیب و شائستگی، ہمارا اخلاق، ہماری تربیت، ہمارا رویہ، یہ ادب ہے۔۔
جس کے بعد دل یہ سوچنے پہ مجبور ہوتا ہے کہ آیا ہم با ادب ہیں یا بے ادب؟۔۔۔
مشہور قول ہے! "باادب با نصیب بے ادب بے نصیب"۔

(جاری ہے)

۔
یعنی منزل تک وہی پہنچتا ہے جو ادب کے دائرے میں رہ کہ منزل کی جانب بڑھتا ہے۔

۔
وہ نا کسی کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے نہ ہی لوگوں کے جذبات واحساسات کو روندتے ہوئے منزل کی جانب گامزن ہوتا ہے بلکہ ادب اس کی رگوں میں خون کے ہم نوا دوڑتا ہے جس سے وہ کامیابی کی سیڑھی چڑھتا ہے۔۔
اور جس کا قلب ادب کے جذبے سے خالی ہو وہ منزل پہ نہیں پہنچ پاتا یہ ایک حقیقی اور سچی بات ہے جس سے ہر چشم آشنا ہے۔۔۔
دوسری بات جو ادب کے متعلق ٹمٹماتے جگنوؤں کے مانند ہمارے دل کے گوشوں میں روشن ہوتی ہے وہ یہ کہ ادب وہ ہے جسے ایک جسد خاکی غور و فکر کے سمندر میں غوطہ زن ہو کے معاشرے کی اصلاح و ترقی کے لیے چمکتے دمکتے لفظوں سے قرطاس پہ اتارتا ہے۔

جس میں سچائی اور رہنمائی ہوتی ہے، مقصد ہوتا ہے، محبت کی حلاوت ہوتی ہے اور برائی کے نقصانات کی آمیزش ہوتی ہے۔۔ جو پڑھنے والے کی سوچ کے بند قفل کھولتے ہیں اور اس کی اصلاح میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔
ایک اچھا ادیب ہی بامقصد ادب قلمبند کرتا ہے جو معاشرے کی اصلاح کا سبب بنتا ہے۔۔۔
افسانہ،شاعری،مضمون ، ناول، کہانی، نظمیں اور قصہ گوئی وغیرہ یہ ادب کی اصناف ہیں جن کے ذریعے ذہن کے بند دریچوں کو کھولا جاتا ہے۔

۔۔
پرانے وقتوں میں مائیں سردی کی یخ بستہ راتوں میں رضائی اوڑھے اور گرمیوں کی گرم راتوں میں آنگن کہ بیچ چارپائیوں پہ بیٹھے اپنے بچوں کو قصے اور کہانیاں سناتی تھیں۔۔
جن میں مقصد ہوتا اور ہمیشہ سچائی کی جیت ہوتی جس سے ننھے منے ذہنوں میں اس چیز کو بٹھایا جاتا کہ برائی جتنی بھی طاقت ور ہو جیت ہمیشہ اچھائی کی ہوتی ہے اس سے بچوں کی باطنی تربیت ہوتی جو کہ ادب کے ہی مرہون منت تھی اور ظاہری تربیت بھی ادب سے ہی ہوتی انہیں جینے کا طور طریقہ سکھایا جاتا اور ہمیشہ ان کے سامنے اچھا کام کیا جاتا شائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا تاکہ وہ جیسا دیکھیں کل کو ویسا کریں۔

۔۔
ادب تو آج بھی ہے کہانیاں قصے سب موجود ہیں پر کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں جرم کی داستانیں بڑھتی جارہی ہیں۔۔۔ استاد کی عزت و احترام کو پامال کیا جارہا ہے۔۔ ہوس پرستی کا دور دورا ہے حالانکہ اب تو ادب عام ہوچکا ہے؟
کیا وجہ ہے کہ ادب کی راہیں کشادہ ہونے کے باوجود ہماری سوچ زنگ آلودہ ہوچکی ہے۔۔
دن بدن ہم پستی کی جانب بڑھتے چلے جارہے ہیں؟
گفتگو میں ہونے والی تھوڑی سی تکرار میں ہی ہمارا تحمل ٹوٹ کہ بکھر جاتا ہے اور ادب کے پہلے سبق عزت و احترام کو روندتے ہوئے ہم دست وگریباں ہوجاتے ہیں؟
جیسے ادب عام ہوا ہے ویسے ہی برائی بھی بڑھی ہے جسے پھیلانے میں کچھ لوگوں نے ادب کا ہی سہارا لیا ہے اپنے قلم کو بیچ کہ اس سے نفرت کو پھیلایا ہے۔

۔۔
سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں جیسے محبت نفرت، اندھیرا روشنی، اچھائی اور برائی ہم کس چیز کو چنتے یہ ہم پہ ہے اور چند بے ادبوں کی وجہ سے ہم ساری قوم کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ جہاں برائی ہو وہاں اچھائی بھی ہوتی ہے۔۔
پھول ہمیشہ کانٹوں کی سیج پہ ہی کِھلتا ہے۔۔۔
اب سوچنا یہ ہے کہ ادب نے ہمیں بگاڑا یا ہم نے ادب کو۔۔
جہاں ادب لکھنے والے بہترین ادیبوں کا اضافہ ہورہا ہے وہیں معاشرے میں بے ادبی بڑھتی جارہی ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی ادیب تو بننا چاہتا ہے پر ادب کرنا اچھا ادب پڑھنا نہیں چاہتا جبکہ اچھا ادب ہی ہمیں بانصیب بناتا ہے۔

۔
اگر کوئی ادب کو پڑھتا بھی ہے تو اسے سمجھتا نہیں حالانکہ ادب پڑھنے سے زیادہ سمجھنا ضروری ہے۔۔۔

ادب ہی زندگی میں جب نہ آیا
ادب میں اتنی محنت کس لئے ہے
(عطا عابدی)

یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ
اچھا ادب پڑھنے سے فہم وفراست کو تقویت ملتی ہے اور ادب سے پیش آنے پر معاشرے میں عزت ملتی ہے۔۔۔
یہاں میں محترم آسی صاحب کی بات کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے بہت خوبصورتی سے ادب کے متعلق لفظوں کے موتی پروئے ہیں۔

۔۔
_______

کسی بھی تہذیبی معاشرے کے وہ فرد جو کہ معاشرے کی اصلاح کے طلبگار ہوتے اس اصلاح کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے " علم ذہانت توانائی " کو یا تو مذہب پر صرف کرتے ہیں یا کہ ان سے ادب کے چراغ روشن کرتے ہیں ۔
کسی بھی " تہذیب " میں ادب کی حیثیت یا تو " مذہب " کے ایسے توسیعی دائرے کی ہوگی جس میں تمام انسان سما جائیں ۔

۔۔۔
یا پھر انسانیت کے ایسے توسیعی دائرے کی ہوگی جس میں تمام مذہب سما جائیں ۔۔

____________

ادب اس بارش کی طرح ہے جو فصلوں کو حیات بخشتی ہے، پودوں اور گلوں کو تازگی دیتی ہے۔
ادب چاہے پڑھنے والا ہو یا ادب کرنے والا یہ ہماری زندگی کے لیے ایسے ہی ضروری ہے جیسے پھول کے لیے خوشبو ، چاند کے لیے چاندنی اور قلم کے لیے پاکیزہ جذبات واحساسات۔۔۔
ضروری نہیں کہ اچھا پڑھ کے آپ ایک اچھے ادیب بن جائیں پر با ادب رہ کے آپ معاشرے کی اصلاح کا سبب بن سکتے ہیں اور عزت و احترام کے منصب پہ فائز ہوسکتے ہیں۔۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-07

Your Thoughts and Comments