Khoof

خوف

کائنات اقبال پیر اکتوبر

Khoof
وہ بوکھلایا ہوا سڑک پر پیدل چل رہا تھا غالباً موٹر سائیکل کی چابی اس کی جیب میں تھی لیکن نہ جانے کس ہڑبڑی میں وہ ہوٹل سے نکلا اور پیدل ہی چلنے لگا۔ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس کے دل کی دھڑکن اس کے قابو میں نہ تھی۔ ماتھے پے آتے پسینے کو وہ بار بار صاف کر رہا تھا کہ اچانک اس کے پاس ایک گاڑی آکر رکی اور وہ گھبرا گیا۔
"بھائی صاحب یہ درباری روڈ ہی ہے نا" ڈرائیور نے اس سے پوچھا
وقاص نے اپنے آس پاس دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا۔

گاڑی آگے نکل گئی اور وقاص اب جلدی جلدی چلنے لگا تھا، دو چار گلیوں میں سے ہوتا ہوا وہ اپنے گھر پہنچ گیا۔ رات کے بارہ بجے وقاص دبے قدموں سے اپنے کمرے کے اندر داخل ہوا۔

"حرا گھر کیسے گئی ہوگی" وہ سوچنے لگا

حرا وقاص کی ساتویں گرل فرینڈ تھی جسے وہ ہوٹل کے کمرے کے اندر چھوڑ آیا تھا۔

(جاری ہے)


لڑکیوں کے ساتھ پیار کا ناٹک کرنا اور پھر اپنے جھوٹے پیار کی یقین دہانی کروانے کے بعد ان کو ہوٹل لے کر جانا اس کا معمول تھا۔

وہ ہر بار بغیر کسی خوف کے اپنا شکار چُنتا اور اپنی رومانوی باتوں سے اسے اپنا قائل کر لیتا لیکن اس بار شائد اس کا دل کسی ملال میں مبتلا تھا۔

ہوٹل کے کمرے میں بیٹھی حرا اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کی زد میں اپنے حواسوں میں نہ تھی۔بکھرے بال آنسوؤں کے ساتھ بہتا ہوا کاجل اور اپنا بے جان وجود لیے وہ کمرے کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے زمیں پر بیٹھی تھی۔

ادھے گھنٹے پہلے وہ وقاص کے پیروں میں پڑی اسے محبت کا واسطہ دے رہی تھی لیکن اب اس کی آنکھوں میں آنسو بھی سوکھ چلے تھے۔ اپنی بربادی پر آخر وہ کتنا رو لیتی۔ وقاص نے اسے چند ماہ پہلے محلّے کے بس سٹاپ پہ کھڑے دیکھا تھا جہاں پر وہ روز ارادتاً آیا کرتا اور اس کا انتظار کیا کرتا تھا صرف اس خواہش سے کہ ایک دن حرا اس سے بات کرے گی اور وہ اس کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد اس سے اس کا نمبر لے لے گا۔

حرا معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور والہانہ نقوش کی مالک تھی کہ جو کوئی اسے دیکھتا وہ اللّٰہ کی قدرت کا اعتراف بھی کرتا اور رشک بھی کرتا۔
لیکن آج اس خوبصورتی پر ہوٹل کے اس کمرے میں ایسے دھبے لگ گئے تھے اور یہ کبھی مٹنے والے نہ تھے۔ کمرے میں بیٹھی حرا اُس دن کو کوس رہی تھی جس دن اس نے اپنا نمبر وقاص کو دیا کیونکہ وہ وقاص کی چکنی چوپڑی باتوں میں پوری طرح جکڑی جا چکی تھی اور اسکی جھوٹی محبت کا اعتبار کر چکی تھی اور چند دنوں میں ہی وہ اپنا آپ اس کی دل فریب باتوں کے سامنے ہار چکی تھی۔

جیسے ہی اس نے اپنا وجود وقاص کے حوالے کیا، اپنا کام ہو جانے کے بعد وقاص نے اسے سچائی سے آگاہ کردیا۔ رب سے تو شرمندگی الگ حرا دوبارہ کبھی خود سے نظریں بھی نہ ملا پائی تھی۔
وقاص کے لیے اب یہ معمولی بات تھی اور اس نے حرا کو اتنی جلدی سچائی سے اس لیے آگاہ کردیا کیونکہ حرا بہت اموشنل لڑکی تھی اور وقاص سے شادی کا مطالبہ کر رہی تھی لیکن وقاص نے اسے یہ کہہ کر منع کردیا کہ "وہ ابھی شادی نہیں کرسکتا"۔

حرا کے گھر والے بہت سخت نہ تھے اس لیے یونیورسٹی کے ٹرپ کا بہانہ کرکے وہ وقاص کے ساتھ ہوٹل آئی تھی۔
وقاص چوبیس سال کا اوارہ لڑکا تھا جس کو لڑکیوں کے ساتھ کھیلنے کا بہت شوق تھا آئے دن وہ کئی لڑکیوں سے ملتا اور ان میں سے جو اس کو پسند آجاتی اس کو اپنی گرل فرینڈ بنا لیتا۔ پھر اسے استعمال کرنے کے بعد ایسے چھوڑ دیتا جیسے کوئی ٹشو پیپر ہو۔

وقاص کا باپ کسی فیکڑی میں جنرل مینیجر تھا اور ماں نے اس پر کبھی خاصی توجہ نہ دی تھی، اکلوتا ہونے کے باعث اسے بہت لاڈ سے رکھا گیا تھا اور لڑکی کی عزت کیا ہوتی ہے اس سے وہ بالکل بھی واقف نہ تھا۔
رات کے اس پہر ٹیرس پر کھڑے وقاص نے سگریٹ جلائی اور اس کے کش لینے لگا جیسے اس کے سر سے کوئی مصیبت ٹلی ہو ۔ یہ اس کے لئے معمولی بات تھی لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں اس کا دل بے چین ہو رہا تھا۔

اس رات کے بعد اس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ حرا کس حال میں ہو گی۔
وقاص خوب رنگ و صورت، شکل و شباہت اور زبردست قد وقامت رکھتا تھا۔ کسی بھی لڑکی کا اس کے عشق میں گرفتار ہو جانا عام بات تھی اور اس نے اللہ کی ان نعمتوں کا بھرپور ناجائز فائدہ اٹھایا۔
جیسے ہی وہ پچیس سال کا ہوا اور ماسٹرز کے ایگزام ختم ہوئے تو اسکی ایک بینک میں اچھی جاب لگ گئی۔

اس کے باپ نے اس کی شادی اپنی منہ بولی بہن کی بیٹی کے ساتھ کردی۔ وقاص کو اس شادی سے کوئی اعتراض نہ تھا۔ کیونکہ اس کا دل و دماغ ہمیشہ جسموں میں الجھا رہا اور اصل محبت کیا ہوتی ہے وہ جان ہی نہ پایا۔
ایک سال بعد اللّٰہ تعالی نے اسے بیٹی کی رحمت سے نوازا۔ اب ایک لڑکی سے اس کا ایسا رشتہ جڑا تھا جس نے اسے محبت جیسے احساس سے روشناس کروایا جس نے اس کے دل کے اندر پیار کی کونپل کو کھلایا۔

جس کے ہنسنے سے اسے تسکین ملتی اور جس کے رونے سے اس کے دل پر کھینچ پڑتی۔ وہ اپنی بیٹی کو شہزادیوں کی طرح رکھتا تھا اس پر غم کے سائے کو بھٹکنے بھی نہ دیتا تھا اور اس پر کوئی آنچ نہ آنے دیتا تھا۔ مارُخ اس کی خوشی کا واحد ذریعہ بن گئی تھی۔ دیکھتے دیکھتے وہ کافی بڑی ہوگئی اب وہ کالج جانے لگی تھی اور ٹین ایج کی خُماری عروج پر تھی کہ ایک دن وہ کالج سے گھر واپس آئی تو بہت گم صم سی تھی۔

اس کی ماں نے اس سے کئی بار دریافت کرنے کی کوشش کی کہ اسے کیا ہوا ہے جو وہ اس قدر پریشان نظر آرہی ہے۔ شام کو جیسے ہی وقاص گھر آیا تو مارُخ کی ماں نے اسے اسکی بیٹی کی خاموشی سے آگاہ کر دیا۔
مارُخ اپنے باپ سے دل کی ہر بات کہہ دینے کی قائل تھی وہ ماں سے زیادہ باپ کی دوست تھی۔
وقاص نے سوچا ضرور اُسکی نواب زادی اپنی کسی دوست سے لڑ کر آئی ہو گی تو کچھ دیر کے بعد وہ مارُخ کے کمرے میں اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے کیے گیا۔

وہ اپنے بستر پر لیٹی کھڑکی کی جانب بہت غور سے دیکھ رہی تھی کہ کمرے کے دروازے کی آہٹ سے اٹھ کر بیٹھی اور بابا کو سلام کیا۔ وقاص اس کے بیڈ کی ایک طرف اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ چاند سے بیٹی کے چہرے کو دیکھا سر پر ہاتھ رکھ کر اس نے اپنی بیٹی کے ماتھے پہ ہلکے سے بوسہ دیا۔
"تو آج میری میڈم نے کس کا دل تورا ہے" مارُخ کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اس نے مزاحیہ انداز سے پوچھا۔

مارُخ نے کوئی ری ایکشن نہ دیا جس پر وقاص کچھ پریشان ہو گیا ۔

" کیا بات ہے بیٹا کیا مجھے بھی نہیں بتاؤ گی؟"

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مارُخ اپنے باپ کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔اس نے دھیمی آواز میں اپنے باپ سے دل کا حال بیان کرنا شروع کیا۔

" پاپا میں آپ کا دل کبھی نہیں دُکھانا چاہتی" یہ کہہ کر وہ اور رونے لگی
"لیکن اس وقت تو مجھے پریشان کر رہی ہو نا؟ آخر بات کیا ہے اپنے پاپا سے تو کہو"

"وہ میری کلاس میں پڑھتا ہے پاپا۔

میں نہیں جانتی کہ مجھے اس سے کب محبت ہوگئی اور وہ بھی مجھ سے پیار کرتا تھا لیکن" اتنا کہنے کے بعد وہ چپ ہو گئی
"لیکن کیا؟" وقاص کے سر پر جیسے ہتھوڑا آ گرا تھا
وہ واپس ہوٹل کے اُس کمرے میں پہنچ گیا تھا جہاں حرا اس کے قدموں سے لپٹی گڑگڑا رہی تھی۔ اسے حرا کا کہا ہر لفظ یاد آنے لگا۔ "وقاص تمہیں تمہاری عزت کا واسطہ"
حرا نے سب سے آخر میں اسے عزت کا واسطہ دیا تھا اور اس وقت اس کی عزت اسکا سب کچھ اسکے سینے سے لپٹی اسکی بیٹی تھی۔



"لیکن پاپا اس نے مجھ سے ملنے کا مطالبہ کیا اور جب میں نے اس سے کہا کہ میں ایک ہی صورت اس سے مل سکتی ہوں کہ اگر وہ مجھ سے شادی کر لے تو اس نے کہا کہ "وہ ابھی شادی نہیں کر سکتا "
مارُخ نے سر اٹھایا اور اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگی:
" میں آپ کا بھروسہ توڑ کر اس سے ملنے نہیں جا سکتی پاپا ! اس کی محبت مجھے آپکی عزت سے زیادہ عزیز نہیں ہے لیکن پاپا اب وہ کبھی مجھے نہیں ملے گا میں اس کے بغیر جینا نہیں چاہ۔

۔۔۔۔تی"

یہ کہتے ہوئے مارُخ کا ہلق سوکھ رہا تھا اسکی آواز کہیں اس کے آنسوؤں کے نیچے دبے چلی جا رہی تھی
مارُخ کی بات میں شائد اتنا وزن تھا کہ وقاص کے کندھے ان لفظوں کے بوجھ تلے شل پڑ گئے۔ اُسے ایسا لگا کہ جیسے اس کی گردن پر کسی نے زور دار وار سے سریا مارا ہو۔ وقاص کا رنگ اس خوف سے ہی پیلا پڑ گیا کہ اُسکی بیٹی کسی کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے اور اس کے آگے کیا ہو گا وہ انجام سے بخوبی واقف تھا۔

وہ مارُخ کو کسی قسم کی کوئی تسلّی دینے کے قابل نہ رہا اور اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ بہت دیر تک وہ سکتے کی حالت میں اپنے بیڈ پر لیٹا رہا۔
نہ جانے کس بات کے خوف نے اسے سونے نہ دیا اور اب دوبارہ شاید اسے کبھی نیند آئے گی بھی نہیں۔
وقاص نے کئی زندگیوں کے ساتھ کھیلا تھا لیکن اس کی زندگی اب اسکی اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اپنی خوف کو کس تسلّی کا لباس پہنائے۔

کیا اس کی بیٹی کے ساتھ بھی وہ سب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس خیال کے خوف سے ہی اس کا جسم کانپ جاتا۔ وہ ہزار نظریں جو اس نے ہزار لڑکیوں پر ڈالی ہوں گی وہ ہزار نظریں لوٹ کر اس کی بیٹی پہ ہی رُکی ہوں گی۔
وہ تو اسی سوچ میں گم تھا کہ کیسے بچائے گا اپنی ننھی سی بیٹی کو اس بے رحم دنیا کے درندوں سے؟ وہ جانتا تھا کہ وہ خود بھی ایک بے رحم بلکہ ظالم درندہ رہ چکا ہے۔ کیا وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے معاملات کا گنہگار نہ تھا۔ کیا وہ اپنی بیٹی کو ہوس کی دنیا سے بچا سکتا تھا؟ کیا وہ خود مکافات عمل سے بچ سکتا تھا؟
اب وقاص کے پاس سوائے اپنی بیٹی کی بربادی کے خوف میں جینے کے اور کوئی راستہ نہ رہ گیا تھا۔
اب اس ہر ظلم کا حساب ہونا تھا جو وہ بغیر کسی خوف کے کرتا آیا تھا۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-28

Your Thoughts and Comments