Kitab Sirf Pharne K Liye Nahi Hoti

کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتی!

لقمان ہزاروی پیر اپریل

Kitab Sirf Pharne K Liye Nahi Hoti
کتاب ایک بہترین دوست ہے۔اگر آپ کتاب پڑھنے کے شوقین ہیں تو یہ کتاب آپ سے وفا کرتی رہے گی۔ پہلے تو کتاب آپ کو آپ کی خامیوں سے آگاہ کرے گی۔پہر کتاب یہ بھی بتائے گی کہ اب ان خامیوں سے کیسے نکلنا ہے اور ہاں یہ کتاب خامیوں سے نکال کر خوبیوں والی راہ بھی دکھائے گی۔اس لیے جس کا لگاؤ کتاب سے سب سے زیادہ ہوگا وہ اتنا ہی کامیاب اور خوبیوں سے سرشار ہوگا۔

آپ کے کچھ دوست آپ کو برے کاموں کے لیے استعمال کریں گے جبکہ کچھ اچھے کاموں کے لیے استعمال کریں گے۔لیکن ایک اچھی کتاب آپ کو کبھی غلط سمت میں نہیں دھکیلے گی۔

ہم کروڈوں آبادی والے ملک میں بستے ہیں۔یہاں کے باسی کتابوں سے کتنا تعلق رکھتے ہیں یہ جاننے کے لیے صرف ایک کتاب خانہ کا ایک دورہ کریں۔ معلوم ہوجائے گا کہ ہم کتنے شوقین ہیں کتابوں کے اوراق پلٹنے کے۔

(جاری ہے)

کتب خانوں میں اب فرنٹ پر کتابوں کے بجائے کھلونوں رکھے جاتے ہیں اس لیے کہ کتابیں خریدنے والے کم ہوتے ہیں جبکہ ان کھلونوں کے خریدار زیادہ ہوتے ہیں۔دنیا کے حقیقی کامیاب لوگ کتابیں ضرور پڑھتے ہیں۔ ان کے پاس وقت نہ بھی ہو پہر بھی وہ کتاب پڑھنے کے لیے وقت ضرور مقرر کرتے ہیں۔ اس مقرر کردہ وقت میں کوئی دوسرا کام نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کتاب ایک حقیقی دوست ہے جو کبھی دھوکہ نہیں دے گی۔

ایک مصنف جو کتاب لکھتا ہے اس میں اپنا سارا تجربہ و علم کا نچوڑ پیش کرتا ہے جو اس نے ساری زندگی کیا اور سیکھا۔ ہم اس کتاب کو چند ساعتوں میں پڑھ کر اس سے محظوظ ہوسکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم اس کے لیے بھی ہمہ وقت تیار نہیں ہوتے۔

پہلے زمانےمیں لوگ کتابیں پڑھنے کے لیے کئی کئی میلوں کا سفر پیدل طے کرتے تھے۔لیکن آج کل زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ کتابیں پڑھنے کو وقت میسر نہیں۔

کتابیں نہیں بلکہ ایک کتاب بھی آج کے زمانے میں پڑھ لینا کوہ ہمالیہ عبور کرنے کے برابر ہے۔ آج کے دور میں اگر کسی سے کہا جائے کہ آپ کو دو آپشن دیتے ہیں:آپ ایک کتاب کا مطالعہ کرلیں یا پہر کوہ ہمالیہ کی چوٹی تک پیدل سفر کرلیں۔ تو وہ یقینا دوسرے آپشن کو لے گا۔اور اس مشکل کو طے کرے گا۔یہ اگرچہ ہوگا مشکل لیکن اسے سہل معلوم ہوگا کیونکہ آج کے زمانے میں کتاب پڑھنا بہت مشکل کام بن گیا ہے۔

کتابیں پڑھنے کا شوق کیسے پیدا ہوگا۔ اس کے لیے آپ کو کچھ کام کرنے پڑیں گے۔

پہلا کام:کتابیں پڑھنے کے لیے ایک وقت مقرر کرلیں چاہے روزانہ آدھا گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جب وقت آئے گا تو کتابیں پڑھ لیں گے تو آپ یقینا نہیں پڑھ پائیں گے۔ صرف خیالاتی پلاو کھاتے کھاتے وقت گزار دیں گے۔اس وقت میں باقی تمام کاموں سے بیزار ہوکر صرف کتابیں پڑھیں۔

دوسرا کام: جو موضوعات آپ کو اچھے لگتے ہوں ان سے متعلقہ کتابیں پڑھیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ کتابیں پڑھنے کو شوق آپ کو ہوچلے گا اور یہ شوق آپ کو دوسرے موضوعات کی طرف بھی لے جانے میں معاون ہوگا۔کتابیں پڑھنے سے آپ کو مطالعہ کا ذوق ملے گا اور یہ ذوق آپ کو اچھی کتابوں کی پہچان بھی کراتا رہے گا۔ تیسرا کام: مطالعہ کی ایک فہرست بنا لیں کہ آپ نے اس مہینے کونسی کتاب پڑھنی ہے یا اس سال میں کتنی کتابیں پڑھنی ہیں۔

پہر اپنے مطالعے کے ہدف کو پانے کی ہر ممکن جدو جہد کریں۔چوتھا کام: جہاں بھی جانا ہو ساتھ کتاب ضرور لیکر جائیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ جب بھی تنہا ہوں گے تو آپ کو ساتھی مل جائے گا اور آپ تنہائی کا احساس کھو دیں گے۔ کہیں آپ کو وقت ضائع کرنے کا خدشہ ہو تو وہاں کتاب پڑھنا شروع کردیں تو یہ آپ کو وقت کے ضیاع سے روکے گا۔

آپ نے جو پڑھا یا سمجھا اسے اپنی زندگی کا معمول بنا کر زندگی سے لطف اٹھائیں اور آئے روز زندگی کا نیا مزہ چکھتے رہیں۔

اگر آپ اپنے علم کو اپنے عمل کا حصہ نہیں بناتے تو صرف کتابیں چاٹنے سے آپ کو لطف نہیں ملے گا۔کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ جو پڑھ لیا ہے اس پر عمل کا نام کتاب ہے۔کتاب کے الفاظ آپکے پیچھے خود بخود دوڑتے ہیں آپ کے علم میں اضافہ کرکے آپ کے عمل میں درستگی پیدا کرتے ہیں۔کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ کتاب آپ کو شعور فراہم کرتی ہے۔ آپ کو ایک معتدل مزاج انسان بناتی ہے۔آپ کی ذہنی یکسوئی میں اضافہ کرتی ہے۔آپ کی سوچ کے زاویے بدلتی ہے۔ آپ کو زوال سے عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-04-22

Your Thoughts and Comments