Kitabain Batain Karti Hain

کتابیں باتیں کرتی ہیں!

احمد خان لنڈ منگل ستمبر

Kitabain Batain Karti Hain
رقبے کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹے سی گودام نما دُکان تھی۔دُکان میں ہر طرف دیوراوں پر جالے لگے ہوئے تھے۔دُکان کی چھت کے بوسیدہ ہونے کے سبب وقفے وقفے سے چھت کی سفیدی کے ذرات چاندنی کی مانند مسلسل نیچے گر رہے تھے ،دُکان میں ایک طرف کو چند بکریا ں اور ایک کتا رسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔دُکان کے جگہ جگہ سے ٹوٹے ہوئے فرش پر ایک طرف پرانے اخبارات اور کاغذوں کا ایک بے ترتیب انبار لگا ہوا تھااور دوسری طرف کتابوں کی ایک وسیع تعداد ٹوٹے ہوئے فرش پر بکھری ہوئی تھی۔

یہ دُکان شہر کے پوش علاقے سے دُور ٹرکوں کی ایک آٹو مارکیٹ میں واقع تھی۔دُکان کے باہر چند ریڑھی بان پرانے اخبارات اور صفحات کو خریدنے کے لیے دُکان دار سے بحث و مباحثہ میں مشغو ل تھے اور دُکان کے اندر غلیظ قسم کی بنیان اور پاجامے میں ملبوس دو افراد کتابوں کے ڈھیر کے اوپر چڑھ کر کتابوں کا ورک ورک الگ کرکے اُسے کاغذوں کے ڈھیر میں ملا رہے تھے۔

(جاری ہے)

دُکان کے باہر موجود پسینے سے شرابور افراد کے گھورنے کو نظر انداز کرتے ہوئے میں جونہی دُکان میں داخل ہوا اچانک قہقوں کی آوازیں بلند ہوئی،یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے بہت سے لوگ مل کر قہقہے لگا رہے ہوں۔ چند لمحات کے بعد قہقوں کی آواز اچانک مدہم ہوگئی اور ایک نحیف سی آواز قوت سماعت سے ٹکرائی ’ادھر دیکھوں یہ میں ہوں‘میں فوراَ پیچھے کی جانب مڑا ،لیکن میرے پیچھے تو کوئی بھی شخص موجود نہ تھا ۔

میرے پیچھے کتابوں کا ایک ڈھیر زمین پر بکھرا ہوا تھا اور دکاندار اور ریڑھی بان ابھی تک دکان سے باہر بھاؤ تاؤ کرنے میں مشغول تھے۔اچانک ایک مرتبہ پھر سے ایک نحیف سی آوازسماعت سے ٹکرائی ’ادھر مجھے دیکھو،ادھر دیکھوں،ادھر نیچے دیکھو‘۔جونہی میری نگاہ زمین پر کتابوں کے ڈھیر پر پڑی تو میرے پاؤ سرد پڑنے لگے، مجھے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکتی ہوئی معلوم ہوئی،کتابوں کے ڈھیر میں ایک بوسیدہ سی کتاب مجھ سے مخاطب تھی۔


کتاب:کیا تم مجھے جانتے ہوں میں کون ہوں؟
میں:نہیں
کتاب :میں اردو زبان مین شاعری کا پہلا دیوان ہوں۔میں محمد قلی قطب شاہ کی تخلیقات کا مجموعہ ہوں۔میں اس دھرتی پر اردو شاعری کی بنیاد بننے والی بارش کا پہلا قطرہ ہوں۔تم لوگ مجھے یہ کہا ں چھوڑ گئے ہو ۔
ایک اور کتاب جس کے ماتھے پر جلی حروف میں درج تھا ’گلستان‘وہ چلاتے ہوئے بولی :تم لوگوں نے میرے ساتھ یہ اچھا نہیں کیا۔

میں نے تو تمھیں تہذیب و تمدن سکھایا۔یہ تم نے میرا کیا حال کیا ؟
اس سے پہلے کہ میں کسی کتاب کے سوال کا جواب دیتا ایک اور کتاب چلا اٹھی : میں شورش کاشمیری کی کتاب ’پس دیوار زنداں‘ہوں۔میں نے تم لوگوں کو جدوجہد کا راستہ بتایا ،تکالیف اور مصیبتوں کو تحمل سے برداشت کرنا سکھایا ۔لیکن افسوس تم سب مجھے بھی بھول گئے۔
کتاب ’پس دیوارِ زنداں‘کے چپ ہوتے ہی ایک اور کتاب کی بولنے کی آواز آئی:’مجھے پہچانتے ہو آپ ؟ ۔

میں اقبال کی کتاب’جاوید نامہ‘ہوں ۔میں اقبال کے فکر اور تخیلات کا نچوڑ تھی ۔لیکن تم لوگوں نے مجھ پر بھی رحم نہ کیا اور مجھے اس کباڑ میں چھوڑ گئے۔
اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا ،کتابوں کے ڈھیر نے زور زور سے چلانا اور مجھ پر قہقہے لگانا شروع کردیے۔قلمی دشمنی، آبلے ،طلوع غروب
کپاس کا پھول، سکندر اعظم، شہاب نامہ، حرف دعا یاد نہیں،تختہ دار کے سایہ، امراؤ جان ادا، دوام، جب تک میں زندہ ہوں، جب تک میں زندہ ہوں،گئے دنوں کے سورج،زیرو پوائنٹ، 39بڑے آدمی، خزاں کے گیت،گلی کوچے،آخری آدمی، یاخدا،اگر مجھے قتل کیا گیا،عروض آصفیہ،یادوں کی برآت، روزنِ دیوار سے،آپ سے کیا پردہ،آپ بھی شرمسار ہو،دلی دور است،کوہِ پیما، نیلا پتھر،بغیر اجازت،انار کلی نے تو مجھ پر باقاعدہ لعن تعن شروع کردی۔

وہ سب یکجا ہو کر بولی کہ ہم نے تو تمھیں معاشرے میں رہنے کے قوائد سکھائے ۔تمھیں اور شعور سے بہرہ مند کیا ،لیکن افسوس کہ تم نے ہماری کوئی عزت نہ کی اور ہمیں اس درجہ پر پہنچا دیا۔
ڈھیر کے ایک دوسرے حصے سے بھی کتابوں مجمع الاسرار،ہم محبتوں کے سنگ،عمر بن عبدالعزیز، داستان گو،اقوال یوسفی،سرگزشت، کلیاتِ منیر نیازی، صدائے برگ،عکس خوشبو ،محیط،دشتِ وفا،چوپال،برگِ حنا،گھر سے گھر تک ،دو ہاتھ،بدن کی خوشبو،کلیات ساحر ،می رقصم،میری کہانی (نہرو)،مانیں یا مانیں،بالِ جبرائیل،دیوانِ غالب ،ضرب ِ کلیم نے بھی دہائی دی اور کہا کہ وہ خود کو اس حال میں پہنچانے کے ذمہ داروں سے انتقام ضرور لیں گیں۔

مندرجہ بالا صورتحال ک دیکھ کر میں فورا باہر نکل آیا اور بے ساختہ مجھے بچپن کی ایک نظم یاد آنے لگی:
کتابیں باتیں کرتی ہیں
کتابیں باتیں کرتی ہیں
تاریخ اشاعت: 2019-09-17

Your Thoughts and Comments