Loog Tum Ko Bhi Bhool Jayeen Ge

’’لوگ تم کو بھی بھول جائیں گے۔۔۔!!‘‘

ندیم صدیقی ہفتہ جون

Loog Tum Ko Bhi Bhool Jayeen Ge
اپنے دوستوں کی رِحلت کی خبر، اُن کی خبر نہیں بلکہ اپنی ۔۔ خبر۔۔ کی بھی پیش گوئی ہوتی ہے۔ ابنِ آدم کے مزاج میں فراموشی کا جو مادّہ رکھا گیا ہے بسا اوقات لگتا ہے کہ یہ عجب ہے، ہم اپنی اصل ہی کو بھول جاتے ہیں مگر یہ عمل ہماری عجلت مزاجی کاغماز ہے ، سوچیے کہ ہماری تخلیق کرنے والے نے اگر ہماری طبع میں فراموشی نہ رکھی ہوتی تو ہمارا کیا حشر ہوتا۔

!!
اپنے پیاروں اور عزیزوں کا ہمارے بیچ سے اُٹھ جانا، دل و دماغ پر ایک کچوکا ہوتا ہے اور اگر ماں باپ کے سامنے اُن کا لختِ جگر رحلت کر جائے تو اُن پر کیا بیتتی ہے ،یہ ہر صاحبِ دل سمجھ سکتا ہے۔
جس طرح کہیں نہ کہیں ہر پل کوئی پیدا ہورہا ہے تو اسی طرح ہرلمحہ کوئی اِس دُنیا سے رخصت بھی ہو رہا ہے مگر ہم، جو یہ باتیں لکھ رہے ہیں،ہمارے ہاں بھی وہی فراموشی ہے کہ ہم بھی بھولے رہتے ہیں کہ اجل اپنا کام ہر لمحہ کر رہی ہیں بقول اثرؔ فیض آبادی:
دستِ قضا میں آج مِرا ہاتھ ہے مگر
یہ کون جانتا ہے کہ آئندہ کون ہے !
ہمارےیارِ دیرنیہ سید وہاب نے طویل علالت کے بعد گزشتہ جمعرات کو اِس دُنیا سے منہ موڑ لیا۔

(جاری ہے)


سیدوہاب عمر میں ہم سے کوئی دو تین برس بیش رہے ہونگے۔ تھانے کی مشہور بستی ماہی گیری میں پیدا ہوئے اور سچ تو یہ ہے کہ وہ خاندانی’ تھانوی‘ تھے اُن کے قریبی اعزہ نے بتایا کہ سید وہاب کی والدہ کی جائے پیدائش بھی تھانے ہی ہے۔ یہ وہی تھا نے ہےجو کبھی ’تھانہ‘ کہلا تا تھا اور ممبئی سے پہلی ریل گاڑی اسی تھانے کے لیے چلی تھی۔

ماہی گیری کی بستی جو اپنے نام ہی سے اپنا ایک تعارف پیش کر رہی ہے کہ مچھیروں کی رہائش کے سبب اس کو ’ ماہی گیری‘ کا نام دِیا گیا جیسا کہ مہاراشٹر اور بالخصوص ممبئی کے پرانے لوگ جانتے ہیں کہ مراٹھی بھاشا ، عربی اور فارسی لفظوں سے آج بھی سجی ہوئی ایک بھرپور زبان ہے۔
کوئی چالیس برس اُدھر کا قصہ ہے جب ہر طرف ہمارے لیے یہ دُنیا حسین اور بہار ہی بہار دِکھائی دیتی تھیں، سید وہاب اُس دَور کے ہمارے دوست تھےیہی سید تھا جس نے ہم سے سوال کیا تھا کہ
’’ندیم! کیا آپ کو معلوم ہے کہ شیواجی کی سرکاری زبان کیا تھی۔

۔؟‘‘
اور پھر خود ہی جواب دِیا کہ
’’ شیواجی کی سرکاری زبان مراٹھی نہیں بلکہ فارسی تھی ۔ اس راجہ کے تمام سرکاری دستاویز آج تک موجود ہیں جو فارسی زبان ہی میں ہیں اور مہاراشٹر سرکار کی ایما پر فارسی، اُردواور مراٹھی کے مشہور عالِم سیتو مادھوراؤ پاگڑی نے ان دستاویز کو مراٹھی کی جامہ دِیا ہے۔‘‘
وہاب بولتے جارہے تھےکہ دیکھو ندیم! وہ لفظ جو فارسی یا عربی سے اُردو زبان کا حصہ بنے ہیں وہ ہماری مراٹھی میں کس قدر رائج اور عام ہیں۔

۔۔!!
ہم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ’ کچھ نمونے؟‘۔۔
وہاب بتا رہے تھے :’’شیو سینا کے چیف کو تو آپ جانتے ہیں ، ذرا اُن کا پورا نام لیجیے۔۔؟ ‘‘
ہم نے جواباً کہا کہ بالا صاحب(ٹھاکرے)
انہوں نے تیکھے تبسم کے ساتھ کہا کہ’’ ذرا دو لفظی اِس نام کا آخری حصہ دیکھیے اور بتائیے کہ یہ ۔۔ صاحب ۔۔ کہاں سے آیا۔

۔؟‘‘۔۔۔
ہم مسکرا کر رہ گئے ،پھر وہ کہنے لگے کہ
’’ آپ نے مراٹھوں سے ایک لفظ اورسنا ہوگا ۔۔ پھکت۔۔، (Phkat) یہ آپ کی ہماری زبان کا۔۔ فقط۔۔ ہےجو مراٹھوں کے ہاں بگڑ کر۔۔ پھکت۔۔ ہوگیا ہے ۔ مہاراشٹر میں سرکاری اور بالخصوص عدالتی اصطلاحوں میں تو ایک دو نہیں درجنوں لفظ فارسی اور عربی زبان کے آج بھی رائج ہیں اور مراٹھیوں کو اس پر کوئی تاسف بھی نہیں بلکہ اسے وہ اپنی زبان کا حسن سمجھتے ہیں۔

‘‘۔۔۔
اپنے اس کوکنی دوست سے جس کی مادری زبان مراٹھی نما کوکنی ہی رہی ہوگی وہ اُردو کے لفظوں کی کرامت بڑے فخر سے بیان کر رہا تھا۔ ہم نے جب اُس کے اس بیان پر غور کیا تو یاد آئے مشہور ایڈوکیٹ سید شمیم احسن ، ہمارے خیا ل سے یہ مہاراشٹر کے واحد فیض آبادی ہیں جو مراٹھی زبان اس روانی سے بولتے ہیں کہ مراٹھوں کا پڑھا لکھا طبقہ ان کو اسم بامسمیٰ یعنی ’’احسن‘‘ سمجھتا ہی نہیں بلکہ احسن نگاہوں سے دیکھتا بھی ہے، تو یہ سید شمیم احسن وہ مراٹھی جو مراٹھے
اہلِ زبان بولتے ہیں اس پر تو قادر ہیں ہی مگر اس سے زیادہ حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مراٹھیوں کا وہ طبقہ جسے۔

۔ اگری۔۔ کہا جاتا ہے اُن کی بولی جو سننے میں نہایت جارحانہ لگتی ہے ،وہ بھی یہ سید زادے یوں بولتے ہیں کہ جیسے ان کی گھریلو زبان ہو۔ ہم نے ان سید صاحب سے پوچھا کہ فارسی اور عربی کے وہ لفظ بتائیے جو یہاں کی عدالت اور سرکاری دفاتر میں بولے جاتے ہوں تو اُنہوں نے ایک سانس میں جن لفظوں کوگِنایا وہ یہ تھے:
دعویٰ، مقدمہ، پرسش، کیفیت،ہم دست، داخل،خارج،برخواست، آزار، قصور، گناہ، تبدیل، معرفت، درستی، غنیم، حیات اور کرسی وغیرہ
بات توسید وہاب کی ہو رہی تھی، عربی فارسی کا یہ سرمایہ مراٹھی زبان میں کیسے سما گیا، یہ راز شاید ہم نہ جانتے چالیس برس قبل اگر سید وہاب نے ہمیں اس طرف متوجہ نہ کیا ہوتا۔

مراٹھی زبان کا عربی ، فارسی جیسی زبان سے جو تعلق ہے ، اسکی وجہ سے ہوا یہ کہ مہاراشٹر میں اُردو کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، ورنہ یوپی اور ایم پی یا وہ مقامات جہاں اُردو پھلی پھولی آج فراموش کر دِی گئی ہے،اس کے پیچھے ایک راز یہ بھی ہے کہ مراٹھی اپنے وجود میں کسی طور کمزور نہیں اس کے بولنے والے اپنی زبان کا احترام اور اکرام کرنا جانتے ہیں مراٹھیوں نےاس دور میں بھی، جبکہ چھوٹی زبانیں دُنیا بھر میں زوال کا شکار ہیں ، اُردو والوں کے مقابلے میں اپنی زبان کو بڑی حد تک اپنا رکھا ہے۔


جس ماہی گیری کا ہم نے تذکرہ کیا ، سید وہاب اُسی ماہی گیری میں نہ صرف پیدا ہوئے بلکہ اسی دھرتی کے وہ پروردہ بھی تھے اور اسی علاقے کی خاک کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ ہمیش کےلیے آنکھیں موند لیں۔
اس علاقے (ماہی گیری)میں( ایک روایت کے مطابق) کوئی چار سَو سالہ قدیم مسجد بھی ہے جسے جامع ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، سید وہاب کا کہنا تھا کہ
’’ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ انگریزوں کی ہندوستانی فوج کے ایک مشہورجنرل جو بعد میں پاکستان کے صدر( جنرل ایوب خاں) ہوئے، وہ انگریزوں کی ملازمت کے دَور میں’ تھانہ‘ کے فوجی مرکز میں تعینات تھے تو اسی جامع مسجد میں خاں صاحب جمعے کی نماز پڑھنے آتے تھے ،لوگوں کو جنرل ایوب خاں اپنے قد و قامت کے سبب یاد رہ گئے۔

‘‘
ماہی گیری ہی میں انجمن خیر الاسلام کا ایک اُردو ہائی اسکول بھی واقع ہے، سید وہاب اسی اسکول کے ابتدائی طلبہ میں سے تھے۔ اس اسکول کے کئی طلبہ سے ہمارا تعلق ہے اور اس تعلق میں بھی سید وہاب کارفرما رہے ہیں۔
قاسم شیخ،ایڈوکیٹ عبد الستارخاں، نعمان ترکی، بابر مجاہد،محفوظ اشرفی،فوٹو گرافر عباس صباحت اور ہماری بہن زہرہ صباحت جیسےاور بھی نام ہیں، یہ لوگ اسی اُردو اسکول سے نکلے اور معاشرے میں نمایاں ہوئے، غالباً محترم نظام علی زیدی اس اسکول کےاوّلین پرنسپل بنے تھے، بحمد للہ وہ حیات ہیں۔

قاسم شیخ بھی اپنے کردار اور مثالی علمی وفنی ذوق و شوق کے سبب یاد آتے ہیں، افسوس کہ وہ امریکہ میں ایک سڑک حادثے میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔
سید وہاب شاعر او ادیب تو نہیں تھے مگر اُردو کی محبت نے انھیں زبان ہی نہیں شعر و ادب سے بھی قریب کررکھا تھا ۔ وہاب کی اُردو اور ادب دوستی کی ایک مثال دیکھیں، جب شمس کنول کے مثالی اُردو جریدے’’ گگن‘‘ اور ’’ اُفُق تا افُق ‘‘ کے مشمولات کا ایک انتخاب اسیم کاویانی نے دو جِلدوں میں شائع کیا، تو سید وہاب جنکی آمدنی کے ذرائع مسدود ہو چکے تھے، ہزار روپے سے زائد کی رقم کسی طور انہوں نے جُٹائی اور اسیم کاویانی کے گھر(مجگاؤں) پہنچ کر دونوں جِلدیں صرف خریدی ہی نہیں بلکہ اسے کس طرح پڑھا ۔

۔!! سنیے، ایک دن انہوں نے فون کرکے پوچھا: ’’ندیم! کچھ فرصت ہو تو ایک انکشاف سنو۔‘‘
ہم نے کہا: فرصت ہی فرصت ہے ضرور سنائیے۔
کہنے لگے: ’’ لفظ۔۔ علامہ۔۔ کے معنی جانتے ہو؟‘‘
ہم نے قصداً لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ وہاب نے ترنت کہا: ’’ندیم ، اس لفظ کے معنیٰ ہیں۔۔۔ حرافہ۔۔۔!!‘‘
ہم نے کہا: کہاں پڑھا؟
وہاب سے جواب ملا:’’ شمس کنول کے’ انتخابِ گگن‘ میں۔

۔۔ داغ دہلوی کے ایک شاگرد رشید ناطق گلاؤٹھوی کا مضمون پڑھ رہا ہوں جس میں اِس لفظ(علامہ) پر گفتگو کی گئی۔‘‘
سید وہاب ہمارے شباب کے زمانے کا دوست تھا،آج نہیں رہا۔ اس کے جانے سے دل میں عجب غم کی فضا ہے اب تو ہمیں بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ۔۔کوئی۔۔ تعاقب کر رہا ہے۔ کسی شاعر کے اس شعر پر یہ کالم تمام ہو رہا ہے:
کل دھڑکتا تھا تو رونق سی لگی رہتی تھی
اب دھڑکتا ہے تو دھڑکا سا لگا رہتا ہے
مگر تف ہے ہم فراموش طبع پر۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا سب کچھ بھول جائیں گے ، جی ،سید وہاب کو بھی بھول جائیں گے ۔
یہ بات ذہن میں آئی ہی تھی کہ ایک آوازہ سنا:
’’ لوگ تم کو بھی بھول جائیں گے کس گمان میں ہو۔۔۔!!‘‘
تاریخ اشاعت: 2019-06-29

Your Thoughts and Comments