Maan

ماں

سعدیہ رحمان منگل مئی

Maan
يہ تين لفظوں پر مشتمل لفظ ماں دكهنے اور لكهنے ميں تو بہت چهوٹا ہے مگر اپنے اندر اتنى وسعت ليے ہوۓ ہے كہ اس لفظ كى مداح سرائى كرتے ميرے قلم كى سياہى ماند پڑ جاۓ گى،ميرے الفاظ ختم ہوجائيں گے، ميرى سوچيں اس كى محبتوں كا تصور كرتے تهک جائيں گى ، ميرى آنكهيں اس كے پيار كا عكس بناتے دهندلا جائيں گى - مگر پهر بهى اس لفظ كو حقيقى معنوں ميں بياں نہيں كر پاؤں گى يہ لفظ تو دنيا بهر كى محبت ، شفقت ،خلوص ، چاہت ، اور نجانے كيا كچھ اپنے اندر سموۓ ہوۓ ہے -
ميرے رب نے بهى ماں كا درجہ اس قدر بلند كيا كہ جنت كو اس كے قدموں تلے ركھ ديا........

(جاری ہے)

اللہ !
اور جب بندوں سے اپنى محبت كا اظہار كيا تو لفظ ماں كو بطور تشبيہ استمعال كيا ، سوچتى ہوں نجانے قدرت نے ہمارى ماؤں كو بهى كس كيمسٹرى سے بنايا ہے زندگى تو گزار رہى ہوتى ہيں مگر سانسيں اولاد كے اندر سے ليتى ہيں تمام عمر اپنى محبت اور پيار بچوں ميں منتقل كرتى رہتى ہيں ، ايک معصوم اور ننهے سے پودے كو اپنے پيار سے سينچتى ہيں اور ہر لمحہ اپنى نگہداشت ميں ركهتے ہوۓ پروان چڑهاتى ہيں يہاں تک كے ايک دن وه پودا درخت كى صورت اختيار كر ليتا ہے- اور تب وه كچھ سكون كا سانس اپنے اندر ليتى ہيں - ميں آج ماں كے ليے لكھ رہى ہوں تو بس يہى سوچ كر ره گئى كہ ماں كے حوالے سے لكهنے كو بہت كچھ ہے، مگر ان كى محبتوں پر لكهنے كے الفاظ كہاں سے لاؤں يا شايد، نہيں بلكہ يقيناً ان كى محبتيں اور قربانياں ميرے لفظوں كے حصار سے كہيں بہت آگے ہيں - جبهى تو لفظوں كے حصار ميں قيد كرنا ميرے ليے مشكل ہورہا ہے -
ماں چاہے دنيا كے كسى بهى خطے، قبيلے ،علاقے غرض جس كونے سے بهى تعلق ركهتى ہو اپنى اولاد كى تربيت اپنے انداز سے كرتى ہے، كبهى غلطيوں پر جهڑک ديتى ہے تو كبهى بچوں كى نادانيوں پر ناصح بن كر تصحيح بهى كر ديتى ہے اور اگر اس دوران اس كى اولاد روٹھ جاۓ تو پيار سے اپنے اندر سميٹ ليتى ہے اور اس كا يہ پيار بهرا لمس انہيں سب كچھ بهلا ديتا ہے -
ماں تو سراپا محبت ہے ، ہر سمے اپنى اولاد كى بهلائى كا ہى سوچتى رہتى ہے اور صرف اپنى اولاد كى خوشيوں اور كاميابيوں كے ليے دعا گو رہتى ہے-
مگر سوچنے بات يہ ہے كہ ہم بدلے ميں ماں كو اس كى نچهاور كرده محبتوں كا كتنا حصہ لوٹاتے ہيں،
اگرچہ اس كى محبت بے غرض ہوتى ہے مگر كيا ہم پر لازم نہيں كہ جب كبهى ماں كو ہمارى ضرورت پڑے تو بلاعذر اس كى پكار پر لبيک كہيں ، ماں بڑهاپے ميں توجہ اور پيار كى طالب ہوتى ہے ، تو دن بهر كا كچھ حصہ صرف ماں كے ليے وقف كرديں ، اس كے پاس بيٹھ كر تهوڑى پرانى باتيں ياد كرليں كيونكہ بزرگوں كو پرانى ياديں نہايت لطف ديتيں ہيں- صبح سويرے ايک خوبصورت مسكراہٹ كے ساتھ ماں كا ديدار كريں - گاہےبگاہے كچھ ايسا كريں جو ماں كے چہرے پر مسكراہٹيں اور خوشياں لے آۓ - كبهى كبهار بچپن كى ہلكى پهلكى سى شرارتوں كو بهى دہرا لينے ميں حرج نہيں -بحيثيت مسلمان ہمارا دين بهى ہم سے يہى ڈيمانڈ كرتا ہے- اللہ پاک قرآن ميں فرماتے ہيں :
"وبالوالدين احسانا
اور اپنے والدين كے ساتھ احسان كرو"
يعنى يہاں اللہ رب العزت نے ہميں پابند كرديا ہے كہ اپنے والدين كے ساتھ ہرحال ميں حسن سلوک كرنا ہے-لہذا ميں يہ بات دہرانا چاہوں گى كہ ماں كى ممتا اور قربانيوں كو ياد كرنے ليے صرف ايک مخصوص دن كى ضرورت نہيں بلكہ ہمارا ہر دن ماں كى اطاعت اور خدمت گزارى پر منحصر ہونا چاہيے - اور عين ممكن ہے يہى خدمتيں ہمارے ليے آخرت كا ذخيره بن جائيں-
ميرى زندگى ميرى خوشى ميرى چاہت، ہے ميرى ماں
ميرى محبت ميراعشق ميرى ديوانگى، ہے ميرى ماں
ميرے دكهوں ميں ہوتى ہيں جس كى آنكهيں آشكبار
ميرى زندگى كا حاصل، ہے ميرى ماں
ميرى خوشيوں كى ،ميرے دكھ سكھ كى ساتهى
وه پيارى سى ہستى، ہے ميرى ماں
ميرى كاميابيوں ميرى منزلوں كى طالب
ہرپل دعائيں مانگتى جو ميرے واسطے، ہے ميرى ماں
تاریخ اشاعت: 2020-05-12

Your Thoughts and Comments